Friday, 09 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Bain Ul Aqwami Committee Convention Main Naye Suba Ka Matalba

Bain Ul Aqwami Committee Convention Main Naye Suba Ka Matalba

جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا مطالبہ بین المسالک کمیٹی گڑھاموڑ کے زیر اہتمام کنونشن میں سامنے آیا، نہیں معلوم نئے صوبہ کے مطالبہ میں مسالک کا مذہبی "ٹچ" دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی، مذہبی مسالک کے منبر و محراب سے ظلم، جبر، سماجی اور معاشی، قانونی نا انصافی کے خلاف صدائیں اگر بلند ہوتیں رہی ہیں تو اس کا جواز بھی تھا، مگر انکی صورتحال یہ تھی جب پنجاب سرکار نے ناجائز تجاوازت کے خلاف آپریشن کیا، تو بعض مساجد کے کچھ حصوں کو اس لئے شہید کرنا پڑا کہ وہ سرکار کی زمین پر قائم تھیں، یونین کونسل کی سطح پر اس نوع کے کنونشن کے مقاصد کیا تھے، کس کی آشیر باد اسے حاصل تھی، راوی اس بابت خاموش ہے۔

علم نہیں کہ کنونشن کے شرکاء کی نظر سے یکم اکتوبر 2020 کا حکومت پاکستان نوٹیفکیشن نمبر M. 302/L. 7646 گزرا ہے یا نہیں جس کے مطابق حلقہ گڑھاموڑ کو ٹاون کمیٹی کا درجہ دیا گیا بعد ازاں گورنمنٹ آف پنجاب گزٹ نوٹیفیکشن نمبری۔ L 7532مورخہ 4مارچ 2026 کو جاری ہوا، جس میں ٹاون کی بجائے" مونسپل کمیٹی "کی اصطلاح مستعمل ہے، جس میں علاقہ گڑھا موڑ ضلع وہاڑی کا نام شامل نہیں، انتظامی طور پر"مونسپل کمیٹی "کا درجہ اگر اسے مل جاتا، تو بہت سی سہولیات سے عوام مستفید ہو تے، ٹائٹل کے چھن جانے پر تو اس طرز کا کنونشن منعقد نہیں کروایا گیا، عوامی نمائندگان نے بھی اس ناانصافی پرصدائے احتجاج بلند نہ کی، سیاسی زعماء، تاجر برادری، سول سوسا ئٹی نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کی، ٹاون کمیٹی کے درجہ سے تنزلی کی وجوہات کیا ہیں، صحافی برادری بھی اس سے لاعلم رہی۔

منتظمین بخوبی جانتے ہیں یونین کونسل گڑھا موڑاور گردو نواح کے چکوک پر مشتمل آبادی ہزاروں میں ہے، واپڈ سب ڈویژن، نادرا دفتر، ویٹرنری ہسپتال، جنازہ اور عید گاہ، مردوخواتین کے ووکیشنل انسٹی ٹیوشن، بوائز، گرلز کالجز پارک، کھیل کے میدان، غلہ منڈی، ٹاون ہسپتال کی سہولیات عوام کو میسر نہیں، کنونشن کا فوکس مگر نیا صوبہ تھا، یوں چراغ تلے اندھیرا رہا۔ نواحی چک نمبر190 ڈبلیو بی میں راقم کا پرائمری مدرسہ نصف صدی گزرنے کے باوجود تاحال آپ گریڈ نہیں ہوسکا، یہی معاملہ دیگر تعلیمی اداروں کا ہے۔ گمان تھا کہ گڑھاموڑ میں سرکاری اراضی نہیں مگر محکمہ مال کے اہلکار نے بتایا کہ چک نمبر100/W. B میں قریباً12ایکڑ رقبہ چراگاہ کے طور پر موجود ہے مذکورہ مقاصد کے لئے کافی ہے، حلقہ گڑھاموڑمونسپل کمیٹی بننے کے معیار پر پورا اترتا ہے۔

جس ضلع کی حدود میں کنونشن ہوا، اسکی تین تحصیلوں کا تقابلی جائزہ لیں، تو وہاڑی، بورے والہ کی نسبت سب سے پسماندہ تحصیل میلسی ہے، قریباً ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کے شہر میں گورنمنٹ گرلز، بوائز ہائی سکولز میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق 3700 ہے تحصیل میں گرلز اور بوائز کالج کی تعداد چار ہے، جبکہ صرف ایک کامرس کالج، ووکیشل انسٹی ہے، اس کے مقابلہ میں وہاڑی شہر میں کامسٹ یونیورسٹی، بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کا سب کیمپس، ایجوکیشن یونیورسٹی کا سب کیمپس بوائز گرلز کالجز، ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس ہیں، مستقبل میں میڈیکل کالج کے قیام کی نویدہے، یہی معاملہ تحصیل بورے والا کا ہے، جہاں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا سب کیمپس، ورچوئل یوینورسٹی کا سب کیمپس، گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کے علاوہ بوائز اور گرلز کالجز، ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس قائم ہیں، سب سے زیادہ شرح خواندگی بورے والہ میں ہے، ماضی کی کالونی ٹیکسٹائل ملز کی وجہ سے یہاں سیاسی شعور بھی زیادہ ہے تحصیل میلسی کی پسماندگی کا سبب اس خطہ میں کھگہ، کھچی، ترین، بھابھہ، خاکوانی جاگیر دار خاندانوں کا طرز اقتدار رہا، جبکہ منیس خاندان نے موروثی سیاست کو فروغ دیا ہے۔

جہاں تک پنجاب میں شرح خواندگی کا تعلق ہے ہے، تو جنوبی پنجاب میں شرح خواندگی سنٹرل، نارتھ سے کافی کم ہے، سب سے زیادہ مری میں 85، راولپنڈی، 84، جہلم82، گجرات82گوجرانوالہ81، لاہور80 وہاڑی59.1 فیصد ہے، ادارہ شماریات 2025 کے اعدادوشمار ہیں۔ جنوبی پنجاب میں اوسطاً تمام اضلاع کی شرح خواندگی 60 فیصد ہے، یہی معاملہ روزگار کا بھی ہے، پنجاب میں سب سے کم بے روزگاری گجرات میں 7 جبکہ ضلع مظفرگرھ میں 17فیصد ہے۔

تقابلی جائزہ سے اخذ کیا جا سکتا ہے ہے جنوبی پنجاب کے ان اضلاع میں جہاں جاگیر داروں، وڈیروں، گدی نشینوں، مخدوموں کا سیاسی غلبہ رہا اس کے اثرات تعلیم، صحت، روزگارپر منفی مرتب ہوئے ہیں۔

غالب آبادی دیہاتوں میں مقیم اور زراعت سے وابستہ ہے، مگر رات کی تاریکی میں علاج معالجہ حتی ٰکہ ایمبولینس کی کوئی سہولت اسے حاصل نہیں ہے، جونیجو عہد میں پانچ نکاتی پروگرام کے تحت بنیادی مراکز صحت دیہی علاقہ جات میں قائم ہوئے، مگر اس پالیسی کو ناکام کرنے میں محکمہ صحت کے ذمہ داران اور ڈاکٹرز کا کردار اہم ہے، قوم کا ارب ہا روپیہ ضائع ہوا، قومی سطح پر کسی نے ذمہ داری مگر قبول نہ کی، اب جبکہ تعلیم اور صحت کے ادارے آوٹ سورس ہورہے ہیں، چند ایک کے علاوہ تمام عوامی نمائندگان نے چپ سادھ لی۔

گوجرہ تحصیل بننے کے چند سال بعدعالمی معیار کی آسٹوٹرف بچھائی گئی، یہ شہر ہاکی کی نرسری کہلاتاہے۔ جنوبی پنجاب میں چند شہروں کے علاوہ اضلاع، تحصیلوں، مونسپل کمیٹیوں میں کوئی اسٹیڈئم نہیں، جہاں نسل نو کو ہر کھیل کی سہولت مل سکے، خواتین کے لئے ان ڈور گیم کا تو کوئی وجود نہیں، حالانکہ ہر عہد میں جنوبی پنجاب کی سیاسی قیادت کے پاس، صدر، وزیر اعظم، اسپیکر، چیرمین سینٹ، وزیر اعلی، وزراء کرام، اپوزیشن لیڈر کے مناصب رہے ہیں۔ دیہاتوں میں کھیل کے میدان اس لئے نہیں ہیں، انگریز کے عہد میں جو سرکاری چراگاہ تھی، محکمہ مال کے بدعنوان عملہ، روایتی سیاست دانوں کے گھٹ جوڑ سے بااثر افراد کے قبضہ میں چلی گئی اس لئے نسل نو کے پاس مثبت تفریحی کے مواقع محدود ہیں۔

قومی سطح پر مقامی حکومتوں کو با اختیار بنانے، مکمل مالی و انتظامی وسائل فراہم کرنے پر اہل دانش، سیاسی قیادت کا کلی اتفاق ہے، موثربلدیاتی نظام کے وجود سے گراس روٹ لیول تک اختیار کی منتقلی اور ترقی کے امکانات روشن ہیں۔

کنونشن کے روح رواں اگر یہ سمجھتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کے صوبہ بننے سے اس خطہ کے مسائل چار نسلوں سے بر سراقتدار وڈیروں، جاگیرداروں، گدی نشینوں، مخدوموں کی موجودگی میں حل ہوجائیں گے اور صوبہ کی وزارت اعلی کا منصب متوسط طبقہ کے عام فرد کو سونپا جائے گا، تو یہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، متعلقہ صوبائی اسمبلی کی آئینی ترمیم اور عوامی رائے عامہ کے بغیر نئے صوبہ جات کاقیام اتنا سادہ نہیں، جتنا انہوں نے سمجھ رکھا ہے، یونین کونسل کی سطح پر کنونشن کے ذریعہ نئے صوبہ کامطالبہ کرنے پر یہی مصرعہ صادق آتا ہے کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔