ایوانِ فکر و دانش کے دالان میں جب پہلے سائل نے حیرت و حسرت سے یہ استفسار کیا کہ آخر کیا سبب ہے کہ جب بھی ہماری ریاست کا دامن بدنظمی، معاشی کساد اور عوامی بے حسی کے داغوں سے آلودہ ہوتا ہے، تو تمام تر تازیانے صرف جمہوری مسند پر بیٹھے سیاسی رہنماؤں کی پیٹھ پر ہی کیوں برستے ہیں، تو دانائے راز نے ایک عمیق سانس بھرتے ہوئے جواب دیا کہ اے دوست! یہ دراصل ظاہری اشکال کو حقیقتِ مطلق سمجھ لینے کی وہ افلاطونی شباہت ہے جہاں غار کی دیوار پر پڑنے والے سایوں ہی کو اصل وجود مان لیا جاتا ہے۔ سیاسی قیادت اگرچہ پالیسی کے ہیولیٰ کو تراشنے اور جمہوریت کے حضور جواب دہی کا حتمی مکلف ہے، مگر اس سطحی نقد و نظر نے اس باطنی اور معروضی حقیقت کو پردہٴ خفا میں دھکیل دیا ہے کہ عوامی سہولیات کی فراہمی میں اصل سدِّ راہ ہمارا فرسودہ، جامد اور استعماری بیوروکریٹک سانچہ ہے۔ پالیسی جتنی بھی جلیل القدر کیوں نہ ہو، جب تک اسے تجسیم کرنے والا انتظامی وجود خود مفلوج ہو، جمہوری ثمرات کا عوام تک پہنچنا ناممکنات میں سے ہے۔
اس پر دوسرے متفکر ہم نشین نے سوال اٹھایا کہ پھر اس انتظامی وجود کے مفلوج الزمان ہونے کا باطنی سبب کیا ہے اور یہ کیونکر عوامی فلاح کے راستے میں حائل ہوتا ہے؟ دانائے راز نے مسکراتے ہوئے گرہ کشائی کی کہ اس المئے کی فکری جڑیں اس "استعماری بقایا جات" میں پیوست ہیں جو غاصب نوآبادیاتی تسلط نے اس سرزمین پر مسلط کیے تھے۔ انگریز بہادر کا تیار کردہ یہ دفتری سانچہ عوام کو ریلیف پہنچانے یا حقِ شہروندی ادا کرنے کے لیے وضع ہی نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کا بنیادی مقصد "رعایا" کو خوف میں مبتلا رکھنا، مالگزاری اکٹھا کرنا اور تسلط کو دوام دینا تھا۔ آزادی کی دہائیاں بیت جانے کے بعد بھی اس سول سروس کا جینیاتی ڈی این اے اس زنگ آلود ساخت سے آزاد نہ ہو سکا، جہاں حقیقی نتائج اور عوامی بہبود کے بجائے محض کاغذی ضوابط کی اطاعت (Procedural Compliance) کو حتمی سچائی گردانا جاتا ہے۔ اس نظام میں ایک شاہی بابو کسی بھی اہم قومی منصوبے کی سالہا سال تاخیر اور اربوں کے ضیاع پر کبھی جواب دہ نہیں ٹھہرایا جاتا، بشرطیکہ اس کے پاس دفتری فائل پر تمام بے روح مہریں اور سرخ فیتے کے دستخط موجود ہوں، جبکہ خطرہ مول لے کر جراتِ رندانہ سے مسئلہ حل کرنے والا افسر تادیبی کارروائی کے خوف سے مفلوج کر دیا جاتا ہے۔
سائل نے ازراہِ تعجب پوچھا کہ کیا اس قواعد کی سخت گیری کا اثر نچلی سطح پر بھی اصلاح کا سبب بنتا ہے؟ دانا نے جواب دیا کہ یہی تو سب سے بڑا اور ہولناک تضاد ہے، نظام کے اعلیٰ ترین طبقے میں تو جمود اور خطرات سے فرار کا راج ہے، مگر نچلے دھارے پر استحصال اور بدعنوانی کا بازار گرم ہے۔ ایک عام شہری کا سابقہ کبھی صوبائی وزراء یا اعلیٰ سیاسی قیادت سے نہیں پڑتا، بلکہ وہ روزمرہ زندگی میں مقامی پٹواری، تھانے کے محرر اور بلدیاتی عمال کی بے حسی اور ننگے استحصال کا شکار ہوتا ہے۔ مگر جب شہر زیرِ آب آتے ہیں یا دیہات میں پانی اور صحت کا بحران جنم لیتا ہے، تو عوامی غیظ و غضب کا رخ صرف منتخب نمائندوں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ عوام کے پاس ہر پانچ سال بعد اپنے ووٹ سے سیاست دان کو بدلنے کا آئینی حق تو میسر ہے، مگر اس "مستقل ریاست" یعنی بیوروکریسی کے لیے کون سا کسوٹی اور احتساب میسر ہے جو دائمی ملازمت کا تحفظ اور حاکمانہ مراعات تو سمیٹتی ہے، مگر خدمت کو قومی فریضے کے بجائے شاہانہ استحقاق گردانتی ہے؟
تب ہم نشین نے حتمی نتیجے کی جانب گامزن ہوتے ہوئے دریافت کیا کہ پھر اس ازکارِ رفتہ غار سے روشنی کی طرف نکلنے کی کیا تدبیر ہے؟ دانائے راز نے جلال اور حتمی ایقان کے ساتھ نتیجہ اخذ کیا کہ ہم اکیسویں صدی کے تکنیکی، آبادیاتی اور سائنسی عصر کو انیسویں صدی کے ایک ہمہ دان (Generalist) حاکم کے ذریعے نہیں چلا سکتے، جدید حکمرانی اب علمِ محض اور تخصیص (Specialization) کا تقاضا کرتی ہے۔ حکومتِ سندھ کے ای گورننس، پیپر لیس دفتری نظام، ڈیجیٹل پروکیورمنٹ اور آن لائن شکایات کے ازالے کے اقدامات اسی بیوروکریٹک بت کو پاش پاش کرنے کی ایک ابتدائی سعی ہیں تاکہ نچلی سطح کے اہلکاروں کے اختیاراتِ تمیزی کو ختم کیا جا سکے۔ مگر اس کی مکمل کامیابی کے لیے بیوروکریسی کو شفاف KPIs کے ترازو میں تولنا ہوگا، ملازمت کے ابدی تحفظ کے زعم کو ختم کرکے تخصیصی شعبوں میں نجی و علمی دنیا کے ماہرین کے لیے Lateral Entry کے راستے وا کرنے ہوں گے۔ جب تک بیوروکریٹک فکر میں "حکمرانی" کا فرعونی تکبر ختم ہو کر "خدمت" کا حقیقی جمہوری و اخلاقی جذبہ بیدار نہیں ہوتا، تب تک سچائی کی روشنی اور جمہوریت کا حتمی جمال عام انسان کی رسائی سے دور ہی رہے گا۔