Thursday, 10 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Asr e Hazir Aur Iqtidar Ke Badalte Pemane

Asr e Hazir Aur Iqtidar Ke Badalte Pemane

انسانی تاریخ اصلاً حوادث، معرکوں اور شاہی سلسلہ ہائے نسب کی محض ایک دفتری گرد نہیں، بلکہ اپنے وجود کی حفاظت، تسخیرِ کائنات اور تفوق کی پرکار خواہش کا مسلسل ارتقائی سفر ہے۔ اگر حیاتِ انسانی کی بساط کو گہرے فلسفیانہ زاویے سے ماپا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ قبیلگی سے عصرِ حاضر تک اقتدار کی جستجو ہی تمام تمدنی، سائنسی اور سیاسی تشکیلات کی بنیاد رہی ہے۔ ابتدائی دور میں قوت کا مفہوم نرا عضلاتی طاقت اور طبیعی ماحول کی سختیوں کا مقابلہ کرنے تک محدود تھا۔ تاہم، زراعت کے ظہور اور مستقل سکونت نے اس ساخت کو بالکلیہ بدل دیا۔

زمین، آبپاشی اور غلے کے ذخائر پر قبضے نے طاقت کو "وسائل کی کنٹرولنگ" کا نیا پیرا ہن عطا کیا۔ بین النہرین، وادیٔ سندھ اور مصر کے قدیم مراکز میں مندر، محل اور بیوروکریسی کا وجود اس بات کا بین ثبوت تھا کہ اقتدار اب جسمانی ساخت سے نکل کر اداروں، قوانین اور سب سے بڑھ کر انتظامی ریکارڈ (تحریر) کا پابند ہو چکا ہے۔ قدیم روم و فارس کی عالی شان سلطنتوں نے فتح کے حربوں کو مستقل ضوابط اور انفراسٹرکچر میں ڈھال کر یہ ثابت کیا کہ اقتدار صرف جغرافیہ تسخیر کرنے کا نام نہیں، بلکہ انتظامی نظم کو برقرار رکھنے کا فن ہے۔

صنعتی انقلاب کے بپا ہوتے ہی طاقت کا یہ کلاسیکی توازن لمحوں میں تلپٹ ہوگیا۔ بھاپ، کیمیا اور پٹرولیم کی دریافت نے انسانی پیداواری صلاحیت کو وہ جلا بخشی جس نے سیاسی ہژمونی کے پیمانے یکسر بدل ڈالے۔ اب طاقت کا سرچشمہ وسیع رقبا یا کثیر پیادہ فوج نہیں، بلکہ صنعتی پیداوار، تکنیکی پیش رفت، سرمائے کی فراوانی اور بحری و تجارتی راستوں کی سیادت بن گئی۔ اسی صنعتی تسلط نے انیسویں صدی میں نوآبادیاتی استعمار کو جنم دیا، جس نے پس ماندہ خطوں کی معیشتوں کو عالمی سرمایہ داری کی عدم مساوات سے وابستہ کر دیا۔ تاہم، بیسویں صدی کی دو عظیم عالمی جنگوں اور بالآخر 1945 کے ایٹمی دھماکوں نے انسان کو اقتدار کے اس نقطۂ عروج پر لا کھڑا کیا جہاں محض غلبہ حاصل کرنا بے معنی ہوگیا۔ ایٹمی ٹیکنالوجی نے قوت کو "بازداریت" (Deterrence) میں تبدیل کر دیا، جس نے انسانی تہذیب کو یہ باور کرایا کہ طاقت کا ناپختہ استعمال مطلق خودکشی کے مترادف ہے۔

اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی طاقت نے مادی صورت ترک کرکے سیبرنیٹک اور معنوی شکل اختیار کر لی ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے دماغی توانائیاں دوچند کیں، مگر مصنوعی ذہانت کے استقرار نے اقتدار کے ارتقاء کو ایک ایسے باریک بین اور نازک موڑ پر پہنچا دیا ہے جہاں مشین صرف حساب نہیں لگاتی بلکہ استدلال اور فیصلے کی صلاحیت سے بھی آراستہ ہو رہی ہے۔ یہ تکنیکی تبدیلی جہاں طبی علوم، ماحولیاتی تحقیق اور تعلیم میں گہرے آفاق کشادہ کر رہی ہے، وہیں یہ وجودی اور اخلاقی سطح پر شدید تر ابہام پیدا کر رہی ہے۔ تزویراتی زوایا سے دیکھا جائے تو جنریٹو الگورتھمز کی بدولت ڈیپ فیک اور اطلاعاتی تحریف کا طوفان عوامی اعتماد اور سیاسی ثبات کو متزلزل کر رہا ہے، جبکہ ڈیٹا کے ارتکاز اور الگورتھمی تعصبات نے ناانصافی اور الگورتھمک آمریت کے خطرات کو دوچند کر دیا ہے۔ فوجی میدان میں خودکار ہتھیاروں کی تعیناتی اور فیصلے کا اختیار انسانی ذمہ داری سے الگ ہونا انسانیت کے لیے سنگین ترین تزویراتی چیلنج ہے۔

تاریخ کا ازلی و ابدی سبق یہی ہے کہ ٹیکنالوجی خواہ پتھر کی کلہاڑی ہو، صنعتی مشین ہو، ایٹمی صلاحیت ہو یا الگورتھمک ڈیٹا، وہ بذاتِ خود خیر یا شر نہیں ہوتی، اصل اہمیت اس کے پسِ پردہ اخلاقی و معنوی تصور کی ہوتی ہے۔ طاقت جب تک اخلاقی انضباط، عدل اور انسانی جواب دہی کے دائرے سے باہر رہے گی، وہ استبداد اور تباہی کو جنم دیتی رہے گی۔ غار کے عہد سے لے کر مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور تک انسان کی ٹیکنیکی پیش رفت تو خیر العقول ہے، مگر اس کا اخلاقی ارتقاء اب بھی تشنہ ہے۔ آنے والی صدیوں میں انسانی تہذیب کی بقا کا انحصار اس بات پر نہیں ہوگا کہ وہ کتنی فوق البشر مشینیں وضع کرتی ہے، بلکہ اس امر پر ہوگا کہ وہ اپنے ہاتھ میں موجود اس نامحدود طاقت کو کس حد تک عقل، عدل اور اخلاقی پاسداری کے ساتھ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔