موجودہ زمانہ جس تیزی سے بدل رہا ہے اس نے انسان کی سوچ اور کمائی کے تمام پرانے پیمانے بدل کر رکھ دیے ہیں۔ رواں ہفتے عالمی اور قومی سطح پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی اور ڈیجیٹل میڈیا کے میدان میں چونکا دینے والی سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایک طرف جہاں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں وہیں دوسری طرف پاکستانی نوجوان اپنی باصلاحیت سوچ اور محنت کے بل بوتے پر عالمی افق پر نئے نشان ثبت کر رہے ہیں۔
منظر نامہ تیزی سے بدل دیا ہے۔ یاد رکھیں جو قومیں وقت کی چال کو سمجھ کر خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیتی ہیں فتح ان ہی کے قدم چومتی ہے۔ ڈیجیٹل دور کی اس تیز ترین دوڑ میں شامل ہونا اب محض ایک انتخاب نہیں رہا بلکہ ہماری بقا اور شاندار مستقبل کی سب سے بڑی ضامن بن چکا ہے۔ اس ہفتے کی سب سے بڑی بین الاقوامی خبر پر نظر ڈالیں تو دنیا کے معروف ترین سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے بننے والی جعلی خبروں اور جھوٹے پراپیگنڈے کو روکنے کے لیے شدید عالمی دبا کا سامنا ہے۔ دنیا کے بڑے سربراہی اجلاسوں اور ٹیکنالوجی کی کانفرنسوں میں اس بات پر سنجیدہ بحث جاری ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل میڈیا کو زیادہ محفوظ اور بااعتماد بنایا جائے۔
مختلف سمارٹ الگورتھم کی بدولت منٹوں میں حیران کن مضامین اور بالکل اصلی دکھائی دینے والی تصاویر تیار ہو رہی ہیں جن سے ایک طرف تو کام کاج کا طریقہ انتہائی آسان ہوگیا ہے اور دوسری طرف عام لوگوں کے لیے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی اداروں نے اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے نئے قوانین بنائے ہیں کہ انسان ہی ہر حتمی فیصلے کا ذمہ دار رہے گا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو جائے مگر انسانی عقل اور اخلاقیات کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی۔ دوسری جانب اگر ہم پاکستان پر نگاہ دوڑائیں تو یہاں سے آنے والی خبریں امید اور حوصلے کا ایک نیا روشن باب رقم کر رہی ہیں۔
رواں ہفتے پاکستان کے مختلف شہروں بالخصوص لاہور اور کراچی میں اے آئی اور ڈیجیٹل میڈیا کے بانیوں کے لیے خصوصی نمائشیں اور آگاہی سیمینار منعقد کیے گئے۔ ان تقاریب میں ہمارے ملک کے نوجوانوں نے مصنوعی ذہانت کے ایسے شاندار ماڈلز اور سافٹ ویئر پیش کیے جنہیں دیکھ کر دنیا بھر کے صنعتکار دنگ رہ گئے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل فری لانسنگ کے میدان میں جس تیز رفتاری سے ترقی ہو رہی ہے اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے ہنر مند نوجوان کسی بھی ترق یافتہ ملک سے کم نہیں ہیں۔ معاشی مشکلات اور ذرائع کی کمی کے باوجود ان نوجوانوں کا عالمی منڈی میں اپنی ڈیجیٹل سروسز کامیابی سے فروخت کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سچی لگن اور مستقل مزاجی کے آگے ہر رکاوٹ ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کا موجودہ دور صرف معلومات کے تبادلے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ انسانی صلاحیتوں کو نکھارنے کا وسیع میدان بن چکا ہے۔ ماضی میں کسی نئے ہنر کو سیکھنے کے لیے سالہا سال کی سخت محنت اور بھاری رقم درکار ہوتی تھی مگر آج ایک عام کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کنیکشن کی مدد سے ہر کوئی اپنے گھر بیٹھے دنیا کا بہترین علم حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان کے وہ دور دراز علاقے جہاں کبھی جدید تعلیم کا تصور بھی محال تھا آج وہاں کے محنتی لڑکے اور لڑکیاں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ اس انقلاب نے ثابت کر دیا ہے کہ سرحدیں اب کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں اور نہ ہی امیر یا غریب ہونے کا فرق اب کسی کے خوابوں کی تعبیر میں حائل ہو سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دنیا میں کوئی نئی ایجاد آئی ہے اس نے پرانے طریقوں کو ختم کرکے نئے اور زیادہ شاندار مواقع پیدا کیے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کبھی انسان کو بے روزگار نہیں کرے گی بلکہ اے آئی استعمال کرنے والا انسان اس شخص کی جگہ ضرور لے لے گا جو ٹیکنالوجی سے دور بھاگتا ہے۔ اس لیے خوف کی چادر اتار پھینکنا ہوگی اور جدید علوم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہوگا تاکہ ہم آنے والے کل کے چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔ ہمارے ملک کے میڈیا انڈسٹری کو بھی اس ہفتے ایک بہت بڑے تبدیلی کے عمل سے گزرتے دیکھا گیا ہے۔ روایتی ٹی وی اور اخبارات اب تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہے ہیں تاکہ وہ اپنے قارئین اور ناظرین کو فوری اور موثر معلومات فراہم کر سکیں۔
پاکستان کے تمام بڑے صحافتی ادارے اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیٹا کا تجزیہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے صحافت کا معیار پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور اثر انگیز ہوگیا ہے۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال نے نئے مواد تخلیق کرنے والے نوجوانوں کے لیے بے شمار دروازے کھول دئیے ہیں۔ اگر آپ کے پاس ایک اچھا اور مثبت سوچنے والا ذہن ہے تو آپ اپنے سمارٹ فون کا درست استعمال کرکے کروڑوں لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں اور اپنا ایک منفرد مقام بنا سکتے ہیں۔
اس تمام صورتحال کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں ہر شخص کو اپنی قسمت خود لکھنے کا برابر موقع ملتا ہے۔ چاہے آپ کا تعلق کسی بڑے شہر سے ہو یا کسی چھوٹے سے گاؤں سے آپ کی صلاحیتوں کی قدر اس ڈیجیٹل گلوبل ویلج میں یکساں ہوگی۔ اس ہفتے کی بین الاقوامی رپورٹس واضح بتاتی ہیں کہ آئندہ چند سال میں وہی ممالک دنیا پر معاشی اور سیاسی لحاظ سے حکمرانی کریں گے جن کی نوجوان نسل ڈیجیٹل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سب سے آگے ہوگی۔ پاکستان کے پاس اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اور باصلاحیت نوجوان آبادی موجود ہے جو ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر یہ نوجوان اپنی توانائیاں فالتو چیزوں پر ضائع کرنے کے بجائے اے آئی اور ڈیجیٹل فنون کو سیکھنے پر لگا دیں تو پاکستان کو دنیا کا سب سے امیر اور طاقتور ملک بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
کامیابی کے اس سفر میں سب سے اہم چیز خود پر اعتماد اور مسلسل جدوجہد ہے۔ آغاز میں ہر نیا راستا مشکل اور دشوار گزار محسوس ہوتا ہے اور انسان کو بار بار ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں بھی وہی لوگ آگے بڑھتے ہیں جو روزانہ کچھ نیا سیکھنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا دور ہمارے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک نایاب تحفہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی کمزوریوں کو اپنی سب سے بڑی طاقت میں بدل سکتے ہیں۔