تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں دراصل ان کے فیصلوں اور ترجیحات کی عکاس ہیں۔ جب دنیا پہلے صنعتی انقلاب کی دہلیز پر قدم رکھ رہی تھی تو جن خطوں نے لوہے کی مضبوطی، کوئلے کی تپش اور بھاپ کے انجن کی بے پناہ طاقت کو بروقت بھانپ لیا انہیں ہی قدرت نے آنے والی صدیوں کی عالمی معیشت اور سیاست کی باگ ڈور تھمائی اور باقی ماندہ دنیا محض تماشائی یا خام مال فراہم کرنے والی منڈی بن کر رہ گئی۔
آج اکیسویں صدی کے وسط میں دنیا ایک بار پھر اسی نوعیت کے ایک عظیم اور فیصلہ کن تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار کا انقلاب فیکٹریوں کی اونچی چمنیوں سے دھواں اگلنے کا نہیں بلکہ سلیکان چپس، جدید الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے پردے پر طلوع ہو رہا ہے۔ یہ وقت کا وہ موڑ ہے جہاں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یا تو تاریخ کے دھارے کے ساتھ بہہ جانے کا خطرہ ہے یا پھر جدید ترین ٹیکنالوجی کی لہر پر سوار ہو کر ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہونے کا شاندار موقع ہے ان لمحات میں ایک خبر تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند سامنے آئی ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے دنیا کی ٹاپ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے باضابطہ پاکستانی دفتر کا افتتاح اور گوگل کے نائب صدر برائے پبلک پالیسی و حکومتی امور ولسن ایل وائٹ کی جانب سے کیے گئے دور رس اعلانات نے مایوسی کے گہرے بادلوں میں امید کی ایک روشن کرن بھر دی ہے۔ سب سے بڑی اور انقلابی خوشخبری یہ سامنے آئی کہ پاکستان بھر کے تمام کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے گوگل کے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم جیمنائی ایڈوانسڈ کی ایک سالہ سبسکرپشن بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
بظاہر یہ ایک سادہ ڈیجیٹل تحفہ معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ہمارے پسے ہوئے طبقات، پسماندہ گلی محلوں اور دور دراز دیہات کے باصلاحیت مگر وسائل سے محروم نوجوانوں کے ہاتھ میں وہ جادوئی کنجی تھمانے کے مترادف ہے جس سے علم، تحقیق اور عالمی منڈی کے بند تالے پلک جھپکتے کھل جاتے ہیں۔ اگر ہم جذباتی نعروں سے ہٹ کر ٹھوس معاشی اعداد و شمار کی روشنی میں اس پیش رفت کا جائزہ لیں تو منظر نامہ مزید حوصلہ افزا اور حقیقت پسندانہ نظر آتا ہے۔
گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ نے واضح کیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران گوگل کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم نے پاکستان میں 3.9 ٹریلین روپے سے زائد کی معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے میں عملی اور بنیادی کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں قریبا نو لاکھ ساٹھ ہزار روزگار کے باوقار مواقع پیدا ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب تک دس لاکھ سے زائد پاکستانی نوجوانوں کو گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ پروگرامز کے ذریعے جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے عملی طور پر آراستہ کیا جا چکا ہے۔ جب عالمی ٹیکنالوجی جائنٹس نہ صرف یہ کہ کسی ملک میں اپنے دفاتر قائم کرتے ہیں بلکہ مقامی پارٹنرز کے ساتھ مل کر کروم بکس جیسی جدید کمپیوٹنگ ڈیوائسز کی
مقامی مینوفیکچرنگ اور خطے کے دیگر ممالک میں ان کی باقاعدہ برآمد کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ دنیا اب ہمارے نوجوانوں کے ٹیلنٹ، ہماری صلاحیت اور ہماری ابھرتی ہوئی معاشی مارکیٹ پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا، دیرپا اور قیمتی اثاثہ نہ تو تیل اور گیس کے کنوئیں ہیں اور نہ ہی سونے، تانبے یا کوئلے کے قدرتی ذخائر ہیں بلکہ یہ قیمتی اثاثہ ہماری مجموعی آبادی کا ساٹھ فیصد سے زائد وہ نوجوان طبقہ ہے جس کی رگوں میں کچھ نیا کر گزرنے اور اپنی تقدیر بدلنے کا جذبہ خون کے ساتھ دوڑ رہا ہے۔
حکومتِ وقت کی جانب سے ملک کو سالانہ تیس ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا مرکز بنانے کا عظیم الشان ہدف اس وقت تک محض کاغذی دعووں اور خوابوں کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا تھا جب تک ہمارے ان کروڑوں باصلاحیت نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کے جدید ترین وسائل اور ٹولز بلا تفریق میسر نہ آتے۔ گوگل کا پاکستانی طلبہ کے لیے جیمنائی کے پریمیم ماڈلز کو بلا معاوضہ کھول دینا دراصل ہمارے عام نوجوانوں کو وہی مساوی اور برابری کا میدان فراہم کرنا ہے جو کیلیفورنیا، لندن، ٹوکیو یا سنگاپور کی مہنگی ترین یونیورسٹیوں کے اشرافیہ طلبہ کو حاصل ہے۔
اس ایک تاریخی فیصلے نے جغرافیائی اور مالیاتی فاصلوں کو مکمل طور پر مٹا کر رکھ دیا ہے۔ ایک لمحہ کے لیے آنکھیں بند کرکے تصور کیجیے کہ اس فیصلے کے زمینی اثرات کتنے گہرے اور انقلابی ہوں گے۔ اب گلگت بلتستان کی فلک بوس وادیوں کا ایک غریب طالب علم، تھرپارکر کی ریتلے ٹیلوں پر بیٹھی ایک باہمت بیٹی یا خیبر، بلوچستان اور پنجاب کے کسی پسماندہ دیہات کا ایک باصلاحیت نوجوان اپنے پاس موجود ایک انٹرنیٹ کنکشن اور عام سے لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فون کے ذریعے دنیا کے بہترین اے آئی ماڈل کو اپنا پرسنل ٹیوٹر، ریسرچ اسسٹنٹ، کوڈنگ مینٹور اور بزنس کنسلٹنٹ بنا سکتا ہے۔
ہمارے نوجوان گھنٹوں کا کام سیکنڈوں میں کر سکتے ہیں، اپنے اسٹارٹ آپ کے خیالات کو فوری طور پر جانچ سکتے ہیں، عالمی معیار کے مقالے اور تحقیقی مواد تیار کر سکتے ہیں اور فری لانسنگ کی بین الاقوامی مارکیٹ میں صفِ اول کے ماہرین کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر غیر ملکی زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ وہ تمام تر علمی اور مالیاتی دروازے جو ماضی میں بھاری فیسوں اور مہنگی ڈالر سبسکرپشنز کے خوف سے غریب طبقے پر بند تھے اب صرف ایک انٹرنیٹ برازر اور ایک کلک کی دوری پر پوری وسعت کے ساتھ کھلے کھڑے ہیں۔ تاہم اس چمکتی ہوئی امید کی فضا میں ہمیں ایک تلخ اور بنیادی سچائی کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
تاریخ گواہ ہے کہ مواقع چاہے کتنے ہی سنہرے اور شاندار کیوں نہ ہوں وہ بذاتِ خود کبھی نتائج یا خوشحالی پیدا نہیں کرتے۔ جدید ترین وسائل کا میسر آ جانا دراصل منزل پر پہنچنا نہیں بلکہ ایک طویل اور کٹھن سفر کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ اگر ہماری نئی نسل نے اس جدید اور مفت سہولت کو محض سطحی تفریح، سوشل میڈیا پر وقت گزاری، جعلی ویڈیوز بنانے یا چند سستے وائرل ٹرینڈز چلانے کے لیے ضائع کر دیا تو وقت کا یہ بے رحم کارواں ہمیں تاریخ کے کسی گمنام کونے میں پھینک کر آگے نکل جائے گا۔
ایک عالمگیر حقیقت یاد رکھیے کہ مصنوعی ذہانت کبھی انسان کی جگہ نہیں لے گی لیکن جو انسان مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے کا ہنر جانتا ہوگا وہ روایتی اور فرسودہ طریقوں پر اٹکے رہنے والے ہر انسان کو صفحہ ہستی سے مٹا کر بہت آگے نکل جائے گا۔ اس انقلابی تبدیلی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کےلئے ہمارے تعلیمی نظام اور اساتذہ پر سب سے بھاری اور مقدس ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمارے کالجز، جامعات اور پولی ٹیکنک اداروں کو اب برسوں پرانے فرسودہ نصاب اور روایتی رٹہ سسٹم کی زنجیروں کو توڑنا ہوگا۔
کلاس رومز کو رسمی تدریس گاہوں کے بجائے جدید ڈیجیٹل ریسرچ لیبز میں تبدیل کرنا ہوگا جہاں طلبہ کو بتایا جائے کہ پرامپٹ انجینئرنگ کے باریک اصول کیا ہیں، اے آئی ماڈلز سے گہرے اور بامقصد سوالات کیسے پوچھے جاتے ہیں اور بگ ڈیٹا کے انبار سے ملکی مسائل کے عملی حل کیسے برآمد کیے جاتے ہیں۔ زراعت میں پیداوار بڑھانے سے لے کر ہسپتالوں کے بوجھ کو کم کرنے، پانی کے بحران کے سدباب، موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات اور لوکل انڈسٹری کی کارکردگی بہتر بنانے تک ہمارے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاکستان کے حقیقی مسائل کے مقامی حل تراشنے کی تربیت دینا ہوگی۔
تیس ارب ڈالر کی آئی ٹی ایکسپورٹس کا خواب نہ تو دیوانے کی بڑ ہے اور نہ ہی کوئی ناممکن ہدف۔ پاکستان پہلے ہی دنیا بھر میں فری لانسنگ کے میدان میں چوتھے بڑے ملک کی حیثیت سے اپنی دھاک بٹھا چکا ہے۔ جب ہمارے نوجوانوں کے پاس محض پرانے کمپیوٹرز اور محدود ذاتی وسائل تھے تب بھی انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر دکھایا۔ اب جبکہ ان کے ہاتھوں میں گوگل جیسی دیو ہیکل کمپنی کے طاقتور ترین اے آئی ٹولز کی تلوار آ چکی ہے تو میدان ان کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے۔
گوگل کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور اس کا یہ تاریخی اقدام محض ایک کمپنی کا روایتی بزنس ماڈل نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اس بات کا کھلا اعلان ہے کہ پاکستان کا مستقبل ڈیجیٹل دنیا کے روشن ترین صفحات پر رقم ہونے جا رہا ہے۔ اب گیند مکمل طور پر ہمارے نوجوانوں کے کورٹ میں ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کا ہر طالب علم، ہر فری لانسر اور ہر ڈیجیٹل تخلیق کار اپنے اندر چھپے احساسِ کمتری، شکوہ سنجی اور وسائل کی کمی کے روایتی بہانوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے۔
ترقی کی تمام تر شاہراہیں اب کھل چکی ہیں، رکاوٹیں دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہیں اور جدید ترین علوم کی باگ ڈور انگلیوں کی پوروں پر تھما دی گئی ہے۔ اب فیصلہ نوجوانوں نے خود کرنا ہے کہ آیا انہیں اگلی دہائیوں تک محض غیر ملکی ترقی دیکھ کر تالیاں بجانے والا تماشائی بننا ہے یا خود اس جدید ٹیکنالوجیکل انقلاب کے ہراول دستے کا جرنیل بن کر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو ڈیجیٹل دنیا کے افق پر لہرانا ہے۔ یاد رہے کہ تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے مستقبل کی تعمیر اپنے آج سے شروع کرتی ہیں۔