میں نے بطور صحافی حماد اظہر کے والد میاں محمد اظہر کادور دیکھا ہے۔ وہ لاہور کے کھلے ڈلے دل والے ارائیں تھے۔ سنت نگر میں ان کا ڈیرہ چلتا تھا مگر مجھے وہاں زیادہ جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ وہ لاہور کے مئیر تھے تو میری ایم اے او کالج میں پراکٹوریل بورڈ کے رکن کے طور پر ان کے ساتھ ایک فوٹو موجود ہے۔ وہ جب لاہور کے مئیر تھے تو انہوں نے لاہور کوتجاوزات سے ایسا پاک کر دیا تھا کہ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ لاہور کی سڑکیں اتنی کھلی بھی ہیں، یادداشت ساتھ دے تو مجھے یہ بھی یاد ہے کہ انہوں نے تجاوزات کے خلاف آپریشن میں میاں نواز شریف کے ایک ماموں کی آئسکریم کی بہت بڑی دکان بھی گرا دی تھی یعنی نو سفارش۔
مجھے ان کی گورنری کا زمانہ بھی یاد ہے جب انہوں نے اپنے زرعی فارم والے علاقے میں لوگوں کی شکایات پر پیشہ ور مجرموں کے خلاف ایک آپریشن کروایا تھا اور اس پر پنجاب میں باقاعدہ طور پر ایک آئینی بحران پیدا ہوگیا تھا جب ایک ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر اور وزیراعلیٰ ایک دوسرے کے سامنے آ گئے تھے۔ وزیراعلیٰ بھی ایک درویش غلام حیدر وائیں ہوا کرتے تھے جن پر ان کی پارٹی کے کامونکی سے رانا برادران کا بڑا دباؤ آ گیا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم کے سامنے یہ نکتہ رکھا تھا کہ ایڈمنسٹریشن گورنر ہاوس سے چلے گی یا ایوان وزیراعلی سے۔ جب میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ ختم کی گئی تو میاں اظہرگورنر ہاوس سے اپنا بوریا بستر اٹھا کے نکل آئے تھے اور کہا جاتا ہے کہ مزاحمت کو پسند کرنے والے میاں نواز شریف نے ان کی اس حرکت کو ہرگز پسندنہیں کیا تھا اور ان کا خیال تھا کہ انہیں گورنر ہاوس میں رہ کر مزاحمت کرنی چاہئے تھی۔ یہاں نواز شریف بھی درست تھے اور میاں اظہر بھی، میاں اظہر کا موقف تھا کہ جس وزیراعظم نے مجھے گورنر بنایا اس کی حکومت ختم ہونے پر میرا گورنر ہاوس میں رہنے کا جواز؟
میں نہیں جانتا بلکہ کچھ کچھ جانتا بھی ہوں مگر نام نہیں لینا چاہتا کہ میاں اظہر کو میاں نواز شریف کے خلاف بہکانے وا لے کون تھے مگر میں بہرحال اس کا الزام اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ پر ہی رکھوں گا جنہوں نے خاندانی تعلق بھی ختم کروایا اور سیاسی تعلق بھی۔ میں بطور صحافی(ان دنوں میں روزنامہ دن کا چیف رپورٹر ہوا کرتا تھا) گارڈن ٹاون میں ا ن کی کوٹھی میں لگنے والی کارکنوں کی محفلوں میں ان کی تقریروں کو رپورٹ کیا کرتا تھا جس میں وہ کارکنوں سے زیادتیوں اور ملک کی بری حالت کا خاص طور پر ذکر کیا کرتے تھے۔
مجھے بہت سارے یاد تو نہیں آتے مگر ساندے میں میاں ندیم (جو کہ بعد میں پی ٹی آئی کو پیارے ہوگئے) اور شاہدرہ سے شیر شاہدرہ چوہدری واحد سمیت کچھ ضرور یاد آتے ہیں۔ میاں اظہر نے میاں نواز شریف کے اقتدار میں ہی ان کی پارٹی کو توڑنا شروع کر دیا۔ خورشید قصوری صاحب کی رہائش گاہ پر اس پارٹی کا نام مسلم لیگ قائداعظم رکھا گیا اورمجھے آج تک سمجھ نہیں آسکی کہ اس مسلم لیگ کا قائداعظم کے ساتھ کیا تعلق تھا۔ جب پرویز مشرف کا مارشل لا لگا تو چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی بھی ان کے ساتھ آ گئے مگر اس وقت کی مقتدرہ کو یہ لگا کہ اب میاں اظہر جیسا بندہ ان کے لئے کام کا نہیں، ان کا کام چوہدری برادران (یا چوہدری پرویز الٰہی خاص طور پر) زیادہ اچھا کرسکتے ہیں۔
مجھے آواری ہوٹل کا وہ لنچ یاد ہے جس میں میاں اظہر نے مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے میرے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم پرویز مشرف کو بہت کچھ دے سکتے ہیں جس میں آئینی جائزیت بھی شامل ہے مگر مقتدرہ نے ان کی تمام ترخدمات کو اسی طرح نظرانداز کر دیا جس طرح ہر دور کی اسٹیبلشمنٹ جماعت اسلامی کی خدمات کو کچرے کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے۔ میاں اظہر پہلے شاہدرہ سے اپنی سیٹ سے ہرائے گئے اور اس کے بعد انہیں مسلم لیگ کی صدارت سے بھی الگ کر دیا گیا یعنی جس نے کھیر پکائی تھی اس سے ہانڈی ہی چھین لی گئی۔
میں حماد اظہر کو تب سے جانتا ہوں اورمجھے یہ ایچی سن اور لندن سے پڑھا ہوا نوجوان بہت اچھا لگتا تھا۔ میرا یقین ہے کہ ایسے نوجوان اپنے ملک کے لئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ جب پنجاب کے وزیراعلیٰ کا چناو ہونا تھا اورتومیری خواہش تھی کہ عمران خان لاہور سے حماد اظہر یا فیصل آباد سے فرخ حبیب یا چکوال سے راجا یاسر سرفراز جیسے کسی نوجوان کو وزارت اعلیٰ دیں۔ میرا خیال تھا کہ عمران خان جس قسم کی باتیں کرتے ہیں ان کی تکمیل ایسا ہی کوئی چہرہ کر سکتا ہے مگر انہوں نے بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح گوگی کی بات مانی اور پنجاب عثمان بزدار کے حوالے کر دیا۔
حماد اظہر گلشن راوی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور وفاق کی طاقتور ترین وزارتوں تک پہنچے مگر اس کے بعدنومئی کر دیا گیا۔ مجھے کہنے میں کوئی عارنہیں کہ عمران خان نے ایسے ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرکے رکھ دیا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ حماد اظہر پر چار درجن سے زائد مقدمات درج ہیں، انہیں اسی برس مارچ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے دس سال قیدکی سزا ہوچکی ہے۔ اب خیال کیا جا رہا ہے کہ حماد اظہر کو مزید سزائیں ہوں گی جو اگر ایک ساتھ بھی شروع ہوں تو دس، بارہ برس تو ضرور لے جائیں گی اور جب وہ باہر آئیں گے تو پچپن پلس کے ہوں گے اور وہ اس سے پہلے بھی نومئی کے بعد سے اب تک اپنی زندگی کے تین برس ضائع کر چکے ہیں۔
حماداظہر ایک ارب پتی باپ کے بیٹے ہیں، بہت ہی مہذب اور بہت ہی شاندار شخصیت کے حامل، پہلے بھی بتایا کہ ایچی سونین ہیں اور لندن سے پڑھے ہوئے مگر اب ان کے نام اور سرکاری ریکارڈ کے ساتھ لفظ دہشت گرد لگتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ایک پلے بوائے نے ہوس اقتدار میں کیسے کیسے ہیرے نوجوانوں کو ٹھوکروں کا پتھر بنا دیا ہے۔ انقلاب اورنئے پاکستان کی لفاظی کے ساتھ ان کے دماغ خراب کئے گئے اور اقتدار بزداروں اور فرح گوگیوں کے حوالے ہی نہیں کیا بلکہ نو مئی بھی برپا کر دیا۔ آج بہت سارے زمینداروں اور کارخانہ داروں کے بیٹے جیلوں میں ہیں یا مفرور۔
میں نے حمادا ظہر کی ہتھکڑی لگی تصویر دیکھی تو دل دکھ اور غم سے بھر گیا، سوچ رہا ہوں کہ کب تک اس کی فیملی جیل میں کھانا پہنچاتی رہے گی، کیا یہ مکمل سفید بالوں کے ساتھ جیل سے باہر آئے گا؟ مجھے اس سے بھی زیادہ افسوس اس گروہ پر ہے جس کے لئے یہ نوجوان مفرور اور دہشت گرد بن گیا آج وہی سوشل میڈیا پر اسے اسٹیبلشمنٹ کا ٹاو ٹ اور غدار کہہ رہا ہے۔ دلیل دے رہا ہے کہ اسے باپ کا جنازہ پڑھنے کی اجازت دی گئی اور یہ اپنی فیکٹری میں آتا جاتا تھا۔ آہ، سانحہ سا سانحہ ہے کہ ایک سازش نے ہزاروں حماد اظہر ضائع کر دئیے، تباہ کر دئیے۔