امین حفیظ کو صحافت میں چوالیس برس ہو گئے اور یہ مدت کم نہیں ہوتی اورسچ یہ ہے کہ امین حفیظ نے ان چوالیس برسوں کو ضائع نہیں کیا، عوامی، بے ساختہ اور منفرد، وہ اپنی طرز کی مثبت صحافت کا ایک برینڈ بن چکا ہے۔ جب ہر طرف غصے، نفرت، جھوٹ اور تعصب کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں ایسے میں وہ ہنسی مسکراتی صحافت کررہا ہے۔ میں اس کی کتاب امین حفیظ کی صحافتی شوخیاں، کی تقریب رونمائی میں موجودتھا جہاں بہت ہی محترم مجیب الرحمان شامی کہہ رہے تھے کہ کم از کم جنوبی ایشیاءکی صحافت میں تو امین حفیظ کی رپورٹنگ جیسی مثال نہیں ملتی۔
واقعی اس نے بہت مختلف انداز میں رپورٹنگ کی ہے اور ابھی تک پاکستان کا سب سے بڑا چینل ہونے کے دعوے دار کو بھی اس کا متبادل نہیں مل سکا۔ میں نے اسے لاہور میں میٹرو بس کے افتتاح کے موقع پر ہاتھ میں چینل کامائیک لئے بس کے سامنے بھنگڑے ڈالتے ہوئے دیکھا تو مجھے اس پر بہت پیار آیا، وہ صرف خبر پڑھنے، سنانے یا بتانے والا نہیں ہے بلکہ وہ خبر کے اندر موجود خود ایک کردار بن جاتا ہے۔ میرے اس دوست کا سب سے بڑا کمال ہی یہ ہے وہ ہارڈ نیوز اور انٹرٹینمنٹ کے درمیان ایک منفرد راستہ نکالتا ہے اور جب وہ ہائے ہائے ہائے، کی ایک لمبی گردان لگاتا ہے تو خبر کی خود بخود مارکیٹنگ ہوجاتی ہے۔
یہ امین حفیظ ہی ہوسکتا تھا جو بھینسوں کا بھی انٹرویو کرے جو فلائی اوور سے اتر رہی ہوں اور گدھا مارکیٹ میں گدھوں کا بھی، پی ایس ایل کی ٹکٹوں کی فروخت کی رپورٹنگ ہو یا کوئی سخت سے سخت واقعہ ہو، امین حفیظ مجھے خبر کے باہر نہیں، خبر کے اندر نظر آتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ایک اصطلاح صادق اور امین بہت مشہور رہی ہے اور ایک سیاستدان نے تواس پر اپنی مارکیٹنگ بھی کی اور یہاں دلچسپ یہ رہا کہ خبر کی پی ٹی سی (پیِس ٹو کیمرا یعنی اختتامی کلمات) میں یہ خود امین ہوا کرتا تھا اور اس کے ساتھ کیمرا مین صادق۔ خبر کو ایک منظر، کردار اور کہانی میں تبدیل کرنے کا یہ منفرد انداز ہی ہے کہ اس کی تعریفیں وائس آف امریکہ بھی کرتا ہے اور اسے بھارتی چینلوں پر بھی طنز و مزاح کے تڑکے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ اس ذات میں ایک خاص لاہوریا پن ہے، وہ لاہوریا جو معصوم، بے ساختہ، سچا، کھرا اور مخلص ہوتا ہے۔ ایسے لاہوریے اردو کا حرف ڑ، نہیں بول پاتے اور یہاں امین حفیظ کی ایک اور خوبی سامنے آتی ہے کہ وہ اسے اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنا لیتا ہے۔ اس کی وہ بہت ساری رپورٹس وائرل ہوجاتی ہیں جہاں گھوڑے کی بجائے ہمیں لگ رہا ہوتا ہے کہ گورے، کہہ رہا ہے اور کڑیوں کو کریاں۔ اس سے پہلے پروگرامنگ میں ضرور انفارمیشن اور انٹرٹینمنٹ کو جمع کرکے انفوٹینمنٹ کا نام دیا گیا اور رات گیارہ بجے والے پروگرام ایجاد کئے گئے مگر خبر میں انٹرٹینمنٹ کا موجد امین حفیظ ہی ہے۔
امین حفیظ کی اسی انفرادیت کو قومی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا اور اسے 2018 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔ میرے سامنے تقریب میں امین حفیظ ایک رپورٹر ہی نہیں بلکہ ایک شاندار باپ کی صورت میں بھی موجود تھا اور ایک بہت ہی فرمانبردار بیٹے کی صورت میں بھی۔ وہ اپنے ماں باپ کو یاد کر رہا تھا کہ اس تقریب میں موجود ہوتے تو کتنا خوش ہوتے۔ وہاں اس کی ساس موجود تھیں جو اس کے لئے ماں سے کم نہیں، اس کے لئے بہہت ساری دعائیں کرتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ایک اچھا شوہر اور ایک اچھا داماد بھی ہے بلکہ داماد کیا، وہ بیٹا ہی ہے۔
اس تقریب میں بہت سارے اچھے لوگ موجود تھے، اچھے لوگوں کی محفل میں اچھے لوگ ہی ہوتے ہیں جیسے جناب مجیب الرحمان شامی کا نام تو میں نے لے لیا، جیسے ڈاکٹر امجد ثاقب، جناب اویس رؤف، جناب قیصررفیق، مولانا طاہر اشرفی، رئیس انصاری، منیر احمد خان اور بہت سارے دوسرے۔ ابھی چند روز پہلے علامہ طاہر اشرفی کے لئے قومی اعزاز کا ااعلان ہوا تو اس پر ایک طبقے نے تنقید کی۔ میں نے کس کی طرف سے اس کا جواب پڑھا اور قائل ہوا۔ کیا خوب لکھا تھا کہ علامہ طاہر اشرفی ہر کسی کی مدد کے لئے ہر وقت موجود ہوتے ہیں اور ہر وقت پاکستان کا مقدمہ مثبت طریقے سے لڑنے کے لئے تیار اور یہ بات درست بھی ہے۔
مجھے یہاں قیصر رفیق صاحب کا بھی خاص طورپر ذکر کرنا ہے جنہوں نے لاہور میں ریسٹورنٹس کو بھی ہی ایک نیا کلچر نہیں دیا بلکہ انہوں نے پاکستان کا مثبت چہرہ دکھانے کے لئے ڈسکور پاکستان، نامی چینل بنا رکھا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستان سے محبت کا دعویٰ بہت سے لوگ کرتے ہیں مگر اپنے محبوب کو خوبصورت بنانا اور دکھانا دعووں سے بہت آگے کا کام ہے۔ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں مثبت صحافت کرتے ہیں مگر جب میں ان کے چینل دیکھتا ہوں تو وہاں مائیک پکڑے بدمعاش، غلاظت اور گندگی دکھا رہے ہوتے، تھانے دار اور جج بنے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر قیصر رفیق واقعی پاکستان سے محبت کا حق ادا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر رفیق اور امین حفیظ کی جوڑی بہت خوب رہی، سنا ہے اگلی کتاب دیکھو پاکستان امین حفیظ کے ساتھ، آ رہی ہے۔
اس تقریب میں کہا گیا کہ امین حفیظ کی کتاب کو یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ ہونا چاہئے اور میں کتاب سے زیادہ صاحب کتاب کے حوالے سے کہوں گا کہ اس کی صحافت کو ضرور صحافت کے طالب علموں کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ صرف نفرت، تعصب، جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہی صحافت نہیں ہیں۔ میں نے کچھ صحافیوں کو صرف اور صرف آڈٹ رپورٹوں کے پیراگرافوں کے اعتراضات سے مشہور و معروف صحافتی بنتے ہوئے دیکھا ہے مگر امین حفیظ اعتراضات پر نہیں جاتا، الزامات پر نہیں جاتا۔ اس کی صحافت مکھی کی اڑان نہیں ہے جو صرف گندگی پر جا کر بیٹھتی ہے بلکہ یہ چڑیوں، تتلیوں اور بلبلوں جیسا احساس دیتی ہے۔ وہ چوالیس برس کے صحافتی تجربے کے باوجود آج بھی نوجوان صحافیوں سے بڑھ کے چست و ہوشیار نظر آتا ہے اور اس کے پیچھے راز صرف اس کی مثبت خیالی اور محنت ہے۔
ہمیں امین حفیظ کے چوالیس برس کے تجربے اور محنت کو بھی ان نوجوانوں کے سامنے رکھنا چاہئے جو راتوں رات مقبولیت اور کامیابی کے خواب دیکھتے ہیں۔ انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ کامیابی صرف اور صرف محنت اور دیانت میں چھپی ہوئی ہے۔ آج امین حفیظ جس بھی یونیورسٹی اور کالج میں جاتا ہے وہاں اس کے ساتھ سیلفیاں لینے والوں کا ہجوم ہو جاتا ہے جو اس کی ہر دلعزیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور میرے آج کے کالم کا مقصد یہ بتانے کے سوا کچھ بھی نہیں کہ مجھے فخر ہے کہ میں امین حفیظ کے دوستوں میں شامل ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ وہ ہمارے بھتیجے حسیب امین کی صورت ایک اور امین حفیظ تیار کر رہا ہے، اللہ اسے نسل در نسل خوشیاں او ر کامیابیاں عطا کرے۔