Thursday, 06 August 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Naye Soobay Aur Nawaz League

Naye Soobay Aur Nawaz League

سچی بات یہ ہے کہ نئے صوبوں (یا ایڈمنسٹریٹیو یونٹس) کے معاملے پر مسلم لیگ نون اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی بنتی ہی نہیں۔ میاں نواز شریف کی صاحبزادی اسما نواز، خواجہ آ صف اور رانا ثناءاللہ کے بیانات پرسینئر صحافیوں نے ایسی خبریں یا تجزیے بھی دئیے کہ میاں نواز شریف نے ہیڈز آن، کا فیصلہ کر لیا ہے مگر بعدازاں واضح ہوا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ساتھ مشاورت میں اداروں کے ساتھ باہمی اعتماد کو برقرار رکھنے اور تصادم میں نہ جانے کی ہدایات دی ہیں۔

یہ ایک واقعی بڑی خبر تھی کیونکہ سوشل میڈیا پر یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ مسلم لیگ نون کے سربراہ موجودہ سیٹ آپ سے خوش نہیں ہیں اور میں اس پر اکثر سوال کرتا ہوں کہ اگر وہ خوش نہیں ہیں تو یہ سیٹ آپ قائم ہی کیوں ہے۔ اس پر دوسری رائے دی جاتی ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز ان کو اس سیٹ آپ پر لائے ہیں تو میرا دوسرا سوال ہوتا ہے کہ کیا آپ نواز شریف کے اس کے سگے بھائی اور سگی بیٹی سے زیادہ ہمدرد اور خیر خواہ ہیں۔ جب ہم مستقبل کی بات کرتے ہیں تو سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز بھی یہی دونوں ہیں۔ بہرحال میرا آج کا موضوع میاں نواز شریف کے میاں شہباز شریف اور مریم نواز شریف سے تعلقات نہیں ہیں، جن کا ہیں وہ جانیں۔

جب ہم وزیر داخلہ محسن نقوی یا پاک افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے موقف کو زیر بحث لاتے ہیں توا ن میں دوباتیں واضح ہیں، پہلی بیڈ گورننس کی ہے اور اسی کی بنیاد پر سسٹم کی اصلاح کا مطالبہ ہے اور یہاں سے ہی نئے صوبوں کی دوسری بات سامنے آتی ہے۔ پہلی بات کا پہلا جواب یہ ہے کہ کیا بیڈ گورننس، مسلم لیگ نون کا ایشو ہے کہ وہ اس کے اوپر لڑتی جھگڑتی پھرے۔

مسلم لیگ نون، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے مقابلے گڈ گورننس، کی سب سے بڑی دعوے دار بن کے سامنے آتی ہے اور جب ہم پنجاب کی گورننس کو دوسرے صوبوں کے مقابلے میں دیکھتے ہیں تو اس سے انکار بھی نہیں کرسکتے۔۔ اب یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ فوج کوبیڈ گورننس سے کیا مسئلہ ہے کیونکہ اس پر مقابلہ تو سیاسی جماعتوں کا ا ٓپسی اور باہمی ہے یا دوسرے نمبر پر عوام کا ہے کہ وہ جس کی گورننس کو بہتر نہیں سمجھتے وہ اسے مسترد کردیں، اچھی گورننس والی پارٹی لے آئیں مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے اوراس میں ایک تیسرا فریق بھی آتا ہے جو پاکستان کی مسلح افواج ہیں۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ جس بھی جگہ بیڈ گورننس ہوتی ہے، عوام کو اپنے حقوق نہ ملنے کا شکوہ ہوتا ہے اور کوئی تحریک شروع ہوتی ہے وہاں ایک بحران پیدا ہوجاتا ہے اور یہ بحران اس وقت شدید ہوجاتا ہے جب اس تحریک کے ذمہ داران کو پاکستان کے دشمن گود میں لے لیتے ہیں یا وہ پرامن سیاسی جدوجہد کی بجائے پرتشدد سرگرمیوں، دہشت گردی اور بغاوت تک پہنچ جاتے ہیں۔ کیا ہمارے سامنے بلوچستان کی بی ایل اے، خیبرپختونخوا کی ٹی ٹی پی یا پی ٹی ایم اور آزاد کشمیر کی ایکشن کمیٹی کی مثالیں موجود نہیں ہیں۔

ہوتا یوں ہے کہ سیاسی حکومتوں اور افسر شاہی کی ناکامی اور نااہلی سے پیدا ہونے والی تحریکوں کا جب سیاسی حل نہیں نکالا جاتا تو وہاں فوج کو آگے کر دیا جاتا ہے۔ یہاں سے ایک اور مسئلہ پیدا ہوجاتاہے اور وہ یہ کہ ایک طرف فوج شہادتیں پیش کر رہی ہوتی ہے اور دوسری طرف بے شرموں، بے حیاوں اور غداروں کے پروپیگنڈے کا سامنا کر رہی ہوتی ہے لہذا آپ یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ بیڈ گورننس فوج کامسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہر بیڈ گورننس اور سیاسی ناکامی والی جگہ پر آپ فوج کو آگے کر دیتے ہیں کہ جاؤ لڑو۔

میں ذاتی طور پرسمجھتا ہوں کہ جس طرح بیڈ گورننس مسلم لیگ نون کا مسئلہ نہیں ہے اسی طرح نئے صوبوں کا قیام بھی اس کا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ مسلم لیگ نون پنجاب اسمبلی میں دوبار یہ قراردادیں پیش کر چکی جن میں جنو بی پنجاب کو ایک صوبہ بنانے کا ہی نہیں کہ ریاست بہاولپور کی بطور صوبہ بحالی بھی شامل ہے۔ پنجاب میں 9مارچ 2012کو اس وقت کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے یہ قراردادیں پیش کیں اور دوسری طرف یہ مسئلہ پاکستان تحریک انصاف کا بھی نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کی ایسی شخصیات میں شامل جنہیں میں ذاتی طور پر پسند کرتا ہوں ان میں وزیر آبپاشی محسن لغاری 15اگست 2018کو اس پر قرار داد پیش کر چکے ہیں۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا اسمبلی میں 21مارچ 2014کی اکثریتی قراردادہی نہیں بلکہ گذشتہ برس دسمبر کی متفقہ قرارداد بھی موجود ہے جو ہزارہ صوبے کا مطالبہ کرتی ہے۔ میری نظر میں یہ مسئلہ مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی سے کہیں زیادہ پیپلزپارٹی کا ہے بلکہ بیڈ گورننس کے مسئلے کا جواب بھی وہی دے سکتی ہے کہ وہ جس جگہ حکمران ہوتی ہے وہاں سے تحریکیں کیوں جنم لیتی ہیں جیسے بلوچستان، جیسے گلگت بلتستان یا اب آزاد کشمیر۔ اگر ہم غیر جانبداری سے دیکھیں تو صرف پیپلزپارٹی ہی نئے صوبوں کی واضح اور دوٹوک مخالفت کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس کی وجوہات بھی سمجھ آتی ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر سندھ میں نئے صوبے بنتے ہیں، کراچی اور حیدرا ٓباد پر پیپلزپارٹی کی حکمرانی ختم ہوتی ہے تو گویا اس کی اہمیت ہی ختم ہوگئی، اس کے ہاتھ سے سونے کی چڑیا ہی نکل گئی۔ وہ پیپلزپارٹی کتنی اہم ہوگی جو تھرپارکر یا نواب شاہ جیسے کسی صوبے کی حکمران ہوگی۔ دوسرے معاملہ یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی کچھ عرصہ پہلے وفاق (یا اسٹیبشلمنٹ) کو نہروں کے ایشو (بالخصوص محفوظ شہید کینال) کے ایشو پر شکست دے چکی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا اور یہاں آئین کا آرٹیکل 239 بھی اس کی مدد کو آتا ہے جس کی شق 4کے مطابق کسی بھی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لئے سینیٹ اور قومی اسمبلی ہی نہیں اس صوبے کی اسمبلی کی دوتہائی اکثریت بھی درکار ہے سو میں یہاں اگر سیاسی تجزیہ کار کے طور پر سوچوں تو مسلم لیگ نون نے اس معاملے پر اوور ری ایکٹ کیا۔ یہ اس کا معاملہ ہی نہیں تھا بلکہ دونوں بنیادی سوالات پر پیپلزپارٹی کو پاس دے دینا چاہئے تھا کہ تم ہی کھیلواور تم ہی جانو اور یہ تجویز دینے والے جانیں۔ میرا خیال ہے کہ اس پر اصل میچ پیپلزپارٹی ہی کھیلے گی کیونکہ یہ اس کی بقا کا مسئلہ ہے۔

بہرحال، میاں نواز شریف کا فیصلہ ایک بڑی تبدیلی کی خبر ہے۔ مسلم لیگ جس بارود ی سرنگ سے بچ بچا کے گزرسکتی ہے وہاں سے ضرور بچ بچا کے ہی گزرنا چاہئے۔ آپ میرے اس کالم کو انہی کالموں کاتسلسل سمجھ سکتے ہیں جو آج سے آٹھ دس برس قبل لکھے گئے اور انہیں بہت سارے سوشل میڈیا ئی دانشور مسلم لیگ نون پر تنقیدی کالموں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔