Thursday, 10 September 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Gum Hota Adab Aur Madoom Hote Khel

Gum Hota Adab Aur Madoom Hote Khel

سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فائدے ہوئے وہیں یہ نقصان بھی ہوا کہ اس نے ہمارے بچوں سے روایتی کھیل چھین لیے ہیں۔ موبائل فونز کے دور میں جنم لینے والے بچے کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، چھپن چھپائی، باندر کلا جیسے درجنوں کھیلوں سے واقف ہی نہیں ہیں۔ کچھ ہمارے یہاں گراونڈیں بھی ختم ہوتی گئیں۔ کبھی لاہور چوبرجی کوارٹرز کے ساتھ مشہور گراونڈ تھی جہاں میلے، موت کا کنواں، رمضان بازار لگا کرتے اور عید سمیت دیگر مذہبی اجتماعات ہوا کرتے تھے۔ ہر شام بیک وقت کئی کئی ٹیمیں وہاں کھیلا کرتی تھیں۔

میٹرو ٹرین کی تعمیر کے دوران وہاں کنسٹرکشن کی ہیوی مشینری رکھی گئی اور پھر آہستہ آہستہ گراونڈ ہی ختم ہوگئی۔ اب وہاں سرکاری فلیٹ بن چکے ہیں۔ ایسی ہی کہانیاں کھیلوں کے دیگر میدان سناتے ہیں۔ اگلے روز لاہور پریس کلب میں حلقہ ارباب ذوق کے روح رواں شہزاد فراموش سے شکوہ کیا کہ ہمارے یہاں گزشتہ دس برس سے ایک جیسا ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ شاعری کے موضوعات ہوں یا نثر ہو۔ ایسے لگتا ہے جیسے کسی مشین کا سانچہ لگا ہوا ہے جس میں شاعری اور افسانے ڈال کر تیار کیے جا رہے ہیں۔ شہزاد فراموش یہ بات ماننے کو تیار نہ تھے۔

مکالمہ طویل ہوا تو وہ غصے میں آ گئے اور کہنے لگے آپ نے مطالعہ کیا ہو تو علم ہو۔ مجھے ہنسی آ گئی کہ شکر ہے یہ بات کراچی نثار لائبریری کے ابراہیم جمالی کے سامنے نہیں ہوئی جو ہر ماہ ہزاروں روپے کی کتب بھیجتے ہیں۔ مزاج آشنا ہیں اس لیے اب کتب کی فہرست اور بل اکٹھا ہی میسج کر دیتے ہیں۔ ان کے یہاں ہر قسم کی نئی پرانی کتب مل جاتی ہیں۔ شہزاد فراموش اپنی بات پر قائم رہے۔ میں نے کہا اگر اچھا ادب تخلیق ہو رہا ہے تو پھر ادیب رائلٹی لینے کی بجائے کتاب کی اشاعت کے اخراجات کیوں برداشت کرتا ہے؟ پبلشر کیوں نہیں مانتا کہ کتاب ہاتھوں ہاتھ بکے گی؟ طے پایا کہ اس موضوع پر لاہور پریس کلب میں ایک سیمینار رکھ لیں۔ بہرحال میری تشویش اور شکوہ برقرار رہا۔

ایک عرصے سے پاکستان میں دیومالائی ناول لکھنے کا سلسلہ موقوف ہو چکا ہے۔ عمران سیریز جیسے ناول اب نہیں لکھے جاتے اور نہ اس تواتر سے شائع ہوتے ہیں۔ تاریخی ناول لکھنے والے وفات پا گئے ہیں۔ نسیم حجازی کی طرح تاریخ کے پس منظر میں ناول ہو یا عنایت اللہ کی طرح داستان ایمان فروشوں کی بات ہو۔ ایک عرصے سے ایسے ناول نہیں لکھے جا رہے۔ ابن انشا جیسی شاعری اب کون لکھ رہا ہے؟ فیض اور فراز کی طرح شعر کون کہہ رہا ہے؟

احمد ندیم قاسمی جیسی سنجیدگی یا شہزاد احمد جیسی نفسیات اب کس کے یہاں ہے؟ یہاں تو ہجو گوئی کو صدارتی ایوارڈ کے معاملے پر رحمان فارس اور ندیم بھابھہ نے زندہ کیا ورنہ وہ بھی نہیں ملتی۔ یار دوست منہ پر یا پیٹھ پیچھے ہی گالم گلوچ کرنے لگے تھے۔ ابھی یہ رونا رو ہی رہا تھا کہ عمران حیدر تھیم کا شعری مجموعہ "عالم ہو جاتا ہے"شائع ہوگیا۔ رائے میں کچھ تبدیلی لانا پڑی کہ خال خال ہی سہی لیکن کچھ لوگ ابھی باقی ہیں۔ عمران حیدر تھیم کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے۔

گزشتہ تیس سال سے شعر کہہ رہے ہیں لیکن ان کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ وہ پولیس میں بھرتی ہو گئے۔ اپنے جذباتی اور حساس مزاج کی وجہ سے انہوں نے محکمے کے ہر شعبے کی وردی پہنی گویا ادھر ڈوبے ادھر نکلے والا معاملہ رہا۔ انہیں بھی وہی خوف لاحق تھا جو پولیس کے محکمے میں موجود اکثر ادیبوں اور شعرا کو لاحق ہے۔ تھانیدار شاعر ہو تو کہا جاتا ہے اس نے پولیس اسٹیشن کی کمانڈ کیا کرنی ہے؟ یہ تو شعر کہتا ہے۔ اب انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹر میں بطور ڈی ایس پی تعینات ہوئے تو تیس سال کا شعری سفر سمیٹ کر کتاب میں بند کر دیا۔ ایسے ہی ایک ڈی ایس پی ناصر محمود مزاح نگار ہیں۔ ایک عرصے تک نئی بات میں بھی فکاہیہ کالم لکھتے رہے۔

خوش قسمتی سے ان کی کتاب شائع ہوگئی تھی جسے عطا الحق قاسمی سمیت دیگر سینئر مزاح نگاروں نے پذیرائی دی۔ اب وہ بھی فیلڈ پوسٹنگ کی وجہ سے ادبی منظر نامے سے غائب ہو چکے ہیں۔ جیل پولیس کے ڈی آئی جی طارق بابر بھی کبھی جنگ میں کالم لکھتے تھے، کئی سال سے ان کا قلم خاموش ہے۔ اگلے روز ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان سے ملاقات ہوئی تو انہیں بھی کہا کہ اب شعری مجموعہ شائع کروا لیں۔ شہزادہ سلطان کی نشستوں کا بھی اپنا لطف ہے۔ وہ دیوان غالب کے حافظ ہیں۔ اردو اور انگریزی ادب کے بعد اب ایک اور زبان کا ادب پڑھ رہے ہیں۔

نجی گفتگو میں شاعری اور افسانوں کے حوالے دیتے ہیں۔ خود بھی باکمال شاعر ہیں۔ ان کے بارے میں گمان ہے کہ وہ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد ہی شعری مجموعہ منظر عام پر لائیں گے۔ ڈی آئی جی عبدالغفار قیصرانی کلاسیک ناول لکھ رہے تھے۔ اس ناول کے ابتدائی ابواب پڑھنے کا موقع ملا، ہم کافی پیتے ہوئے اس پر تبادلہ خیال کرتے تھے پھر وہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں چلے گئے۔ پہلے لاہور تھے پھر بلوچستان تبادلہ ہوگیا اور ان کا قلم بھی خاموش ہوگیا۔ فیلڈ پوسٹنگ ایسے کئی اچھے ادیبوں اور شعرا کو کھا گئی ہے۔ کتب کی دنیا میں جہلم بک کارنر نے بہت محنت کی ہے۔

گگن برادران کئی بڑے ناموں کو کھینچ کر کتاب لکھنے پر لائے۔ نامور صحافی روف کلاسرا کے اندر چھپا ادیب باہر لانا انہی کی کاوش ہے۔ اسی طرح قلم فاونڈیشن انٹرنیشنل کے بینر تلے علامہ عبدالستار عاصم نے کتاب کو زندہ کیا۔ انہوں نے بھی کئی بڑی شخصیات کی آپ بیتیاں لکھوائیں اور ان کی پرانی تحریروں کو یکجا کیا، کئی اہم لوگوں کو لکھنے پر آمادہ کیا۔ ہزاروں نجی لائبریریاں بنوائیں۔ ان کی ایک خوبی کتاب کو اس کی شان اور وقار سے شائع کرنا بھی ہے۔ یہ کتاب کی "پریزنٹیشن" پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اب علامہ عبدالستار عاصم خود بھی کتب لکھ رہے ہیں۔

ان کی حالیہ کتاب "999 ٹریلین ڈالر کی کتاب" پڑھنے لائق ہے۔ اس میں تاریخ کا ایک سفر ہے۔ یہ کتاب تاریخ میں اہم کردار ادا کرنے والوں کی زندگی اور ان کے فلسفے پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی وسعت 999 ٹریلین ڈالر کی فکر و بصیرت پر محیط ہے۔ ایسی کتاب ہر اس گھر میں ہونی چاہیے جو اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ میری علامہ عبدالستار عاصم سے بھی گزارش ہے کہ تاریخی ناول، دیومالائی داستانوں اور ان پاپولر اصناف پر بھی کام کریں جو اب معدوم ہو رہی ہیں۔ یہ پسندیدہ اصناف ہیں لیکن ان میں محنت زیادہ لگتی ہے۔ ادب کی طرف مائل ہونے والے نوجوانوں کی پہلی سیڑھی ہمیشہ ایسی ہی کتب بنی ہیں۔ آپ پہلی سیڑھی نکال کر کسی کو بلندی تک نہیں لے جا سکتے۔