لاہور کی ایک معروف ترین سڑک کے کنارے کئی گھنٹوں تک تنہا بیٹھے رہنے کے بعد خیبرپختونخوا کے جواں سال وزیر اعلیٰ کو جبلی طورپر دریافت کرلینا چاہیے تھا کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں مرنے مارنے کو بے چین حامی فی الوقت گھروں سے نکل کر ریاستی قوت کو للکارنے کی ہمت سے محروم ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی سہیل آفریدی کو ایسا ہی پیغام ملا تھا۔ مذکورہ پیغام کا بغور جائزہ لیتے ہوئے وفاقی حکومت پر عمران خان کی رہائی یا ان کے لئے بطور قیدی سہولتیں یقینی بنانا ملک گیر تحریک کے ذریعے ناممکن نظر آتا ہے۔
ملک گیر تحریک کی عدم موجودگی میں فقط خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب مارچ "اٹک کے اس پار سے" ہوئی"یلغار" کا تاثر دیتا ہے۔ آخری "یلغار" اس تناظر میں نومبر2024ء میں ہوئی تھی۔ بانی تحریک انصاف کی اہلیہ بھی اس میں شریک تھیں۔ ان کی شرکت کی بدولت میسر ہوئے جذباتی ایندھن کی طاقت سے تحریک انصاف کے چند رہ نما اور کارکنوں کی خاطر خواہ تعداد اسلام آباد کے ڈی-چوک تک پہنچ گئی۔ ریاستی قوت کے بھرپور استعمال سے وفاقی حکومت نے لیکن اسے پسپائی اختیار کرنے کو مجبور کردیا۔ علی امین گنڈاپور اور محترمہ بشریٰ بی بی "چورراستوں " کے ذریعے ہری پور کی جانب چلے گئے۔ آخری یلغارکی پسپائی کے نتیجے میں علی امین گنڈا پور وزارت اعلیٰ کے منصب سے مستعفی ہونے کو مجبور ہوئے۔ بانی کی اہلیہ سزا یافتہ ٹھہراکر جیل بھجوادی گئیں۔
پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کو ایک اور "یلغار" کا تصور دینے سے سہیل آفریدی نے جواں سال ہونے کے باوجود گریز اختیار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر چھائے عاشقان عمران مگر زمینی حقائق کو بے دردی سے نظرانداز کرتے ہوئے انہیں ہذیانی انداز میں یاد دلاتے رہے کہ عمران خان نے نسبتاََ گمنام اور سیاسی حوالوں سے "نووارد" آفریدی کو علی امین گنڈاپور کی جگہ وزارت اعلیٰ کے منصب پر وفاقی حکومت کو مستقل دیوار سے لگائے رکھنے کو بٹھایا تھا۔ اسلا م آباد پر یلغار کو ٹالتے ہوئے وہ اپنے قائد سے "غداری" کے مرتکب ہورہے ہیں۔ سہیل آفریدی کی نیت اور وفاداری پر سوال اٹھے تو وہ بالآخر سخت گیر مؤقف اپنانے کو مجبور ہوگئے۔ بتدریج بنیادی حقوق کے تحفظ اور جمہوری اصولوں کی پاسبانی کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کے امکانات پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے "پختون جذبات" کے نمائندہ سنائی دینے لگے۔ وفاقی حکومت کے لئے انہیں اپنی ہی جماعت سے مختلف دکھانا یوں مزید آسان ہوگیا۔
پشاور سے اسلام آباد تک جذباتی کارکنوں کے متاثر کن ہجوم کے ساتھ مارچ کی ذمہ داری فقط سہیل آفریدی تک محدود رہی۔ ان کے برعکس تحریک انصاف کے عمران خان کی جانب سے نامزد کیے "چیئرمین" بیرسٹرگوہر وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ ان کے روابط کی بدولت حکومت اسلام آباد پر مارچ کو مؤخر کروانے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہوگئی۔ دو دن اور 13گھنٹوں تک پھیلے مذاکرات مگر بالآخر ناکام رہے۔
بانی نے تحریک انصاف کے کسی رکن اسمبلی کے بجائے بلوچستان کے پشتون قوم پرست محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائدِحزبِ مخالف بنارکھا ہے۔ ایوان بالا میں بھی یہ مرتبہ تحریک انصاف کے کسی سینیٹر کے بجائے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے رہ نما علامہ راجہ ناصر عباس کا مقدر ہوا۔ اچکزئی صاحب کے مقابلے میں وہ نسبتاََ معتدل مزاج ہیں۔ آفریدی مگر رہ نمائی کے لئے اچکزئی صاحب کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے حکم پر فیصلہ یہ ہوا کہ حکومت سے کسی معاہدے پر رضامند ہونے کے لئے تحریک تحفظ آئین پاکستان (جس میں تحریک انصاف بھی شامل ہے) کے رہ نمائوں کو جیل میں قید عمران خان کی ہدایات درکار ہیں۔
تحریک انصاف کو مذاکرات میں مصروف رکھنے کے دوران وفاقی حکومت نے مہارت سے کہانی یہ پھیلائی کہ مذکورہ مذاکرات کا حتمی اور بنیادی مقصد "سزا یافتہ" عمران خان کے لئے آسانیاں فراہم کرنا نہیں۔ خیبرپختونخوا کی حکومت سے افغان دراندازی کے خلاف نبردآزما ہونے کے لئے بھرپور تعاون کا حصول ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ذکر خیبرپختونخوا کے باسیوں کو ڈرون حملوں، فوجی آپریشن اور نقل مکانی کی یاد دلاتا ہے۔ ان تینوں سے گھبرائے دل مزید گھبرا جاتے ہیں اور تحریک انصاف نائن الیون کے بعد سے مسلسل گھبرائے دلوں کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کی مقبول ترین جماعت بنی ہے۔ بانی تحریک انصاف کی رہائی کے لئے ملک گیر احتجاج کے امکانات دکھائی نہ دینے کی وجہ سے مایوس ہوئے سہیل آفریدی بطور وزیر اعلیٰ مذکورہ جذبات کو شدت سے اپنانے کو مجبور ہوئے ہیں۔ ان کی مجبوری خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالات یا گورنر راج کے نفاذ کی راہ بنارہی ہے۔
گزشتہ روز سے بارہا اس کالم میں تواتر سے یاد دلاتا رہا ہوں کہ ہماری ریاست کے دائمی ادارے یہ طے کرچکے ہیں کہ 2021ء میں بطور فاتح کابل لوٹے طالبان پاکستان کے ساتھ دوستانہ روابط برقرار رکھنے کے بجائے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ذریعے اسے غیر مستحکم بنانا چاہ رہے ہیں۔ ان کی سرپرستی میں خیبرپختونخوا میں در آئی دہشت گرد تشکیلات کے خلاف انتہائی اقدام سے مفر ممکن نہیں رہا۔ سہیل آفریدی کی حکومت اور جماعت دائمی اداروں کی نگاہ میں لیکن افغان دراندازی کو بنیادی مسئلہ سمجھنے کے بجائے جیل میں قید اپنے قائد کے لئے آسانیوں کی طلب گار ہے۔
وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت کے مابین تنائو کو مذکورہ زاویے سے دیکھیں تو فریقین فکری اعتبار سے دو مختلف دنیائوں کے باسی نظر آتے ہیں۔ ان کے مابین درمیانی راہ نکالنا ممکن نظر نہیں آتا۔ منطقی انجام ٹالنے کے لئے البتہ دونوں فریقین گہرے پانیوں سے نکلنے کے لئے ہاتھ پائوں مارہے ہیں۔ وفاقی حکومت ہنگامی حالات اور گورنر راج کے نفاذ سے سخت گیر بیانات کے باوجود ہچکچارہی ہے اور سہیل آفریدی اسلام آباد پر آخری یلغار کے لئے صوابی پہنچنے میں دیر لگائے چلے جارہے ہیں۔ دونوں فریق منتظر ہیں کہ مسلسل تنائو سے بیزار ہوکر انگریزی محاورے کے مطابق پہلے آنکھ کون جھپکے گا۔