Monday, 14 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Aik Marg e Nagahani Aur Hai

Aik Marg e Nagahani Aur Hai

اخباری کالموں میں ذاتی مسائل کے ذکر سے ہمیشہ گریز اختیار کیا ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے مگر طبی مسائل نے پریشان کیا تو ذکر کو مجبور ہوا۔ مقصد اس ذکر کا کالم کے دیرینہ اور باقاعدہ قارئین کو ذہنی طورپر کبھی کبھار ناغے کے لئے تیار کرنا تھا۔ ذاتی مسائل مگر طبی سے بڑھ کر مزید علاقوں میں سیلاب کے پانی کی طرح نمودار ہونا شروع ہوگئے۔ یکے بعد دیگرے نازل ہوئی مصیبتوں سے گھبرا کر غالب کی طرح "فقط ایک مرگِ نا گہانی اور ہے" کا خیال ستانے لگا۔ آفتوں کے دور میں ہفتے کی سہ پہر ایک اور بدخبری لے کر آئی۔ اس کا ذکر خلقِ خدا کو ممکنہ طورپر درپیش آنے والی مشکلات کے بارے میں خبردار کرنے کے لئے ضروری سمجھتا ہوں۔

کمرے میں اکیلا بیٹھا نیویارک ٹائمز سے رجوع کرتے ہوئے کالم کے لئے اچھوتا موضوع ڈھونڈ رہا تھا کہ گھریلو ملازم گھبرائے ہوئے آیا۔ اطلاع دینے کہ سی ٹی کے اہلکار گھر کے باہر کھڑے میرے منتظر ہیں۔ سی ٹی یعنی کاؤنٹر ٹیرر ازم کی اپنی دہشت ہوتی ہے۔ میری ڈھیٹ ہڈی مگر پیدائشی بزدل ہونے کے باوجود گھبراتی نہیں۔ گھر کے مین دروازے پر آیا تو دو اہلکار کھڑے تھے۔ ان کا رویہ حیران کن حد تک مؤدب و مہذب تھا۔

ان کے ہاتھوں میں ایک بھاری بھر کم سرکاری دستاویز تھی۔ اس دستاویز کے مطابق ایک صاحب نے کسی سیاسی ہنگامے میں نامزد اور گرفتار ہوئے 10سے زیادہ افراد کی ضمانت دے رکھی تھی۔ اس شخص کا نام میرے لئے قطعاََ اجنبی تھا۔ سرکاری دستاویز کے مطابق مگر قومی شناختی کارڈ پر اس نے اپنے گھر کا جو مستقل پتہ لکھوارکھا تھا وہ عین میرے گھر کا تھا۔

جس گھر میں تقریباََ 20برس سے رہ رہا ہوں اسے میرے سسرمرحوم نے سی ڈی اے سے پلاٹ لے کر تعمیر کروایا تھا۔ 6سال وہ ایک عالمی ادارے کے ساتھ ہماری وزارتِ منصوبہ بندی سے نامزد ہوکر بنکاک میں رہتے ہوئے کام کرتے رہے۔ وہاں سے رخصت ہونے سے قبل انہوں نے ایف -8سیکٹر میں ملے پلاٹ پر مکان تعمیر کروایا۔ وہاں منتقل ہونے کے بعد اپنی وفات تک اسی گھر میں مقیم رہے۔ کوئی شخص بطور کرائے دار یہاں ایک دن بھی نہیں رہا۔

تقریباََ 20برس قبل ان کی وفات کے بعد ہم میاں بیوی مرحومہ ساس کی دیکھ بھال اور خدمت گزاری کے لئے ان کے ساتھ رہنے لگے۔ ان کے ا نتقال کے چند برس بعد ورثے میں ملے مکان کو گراکر دو پلاٹوں میں بانٹاگیا۔ ایک پر میں نے اور میری بیوی نے عمر بھر کی کمائی سے بچائی رقم لگاکر مکان تعمیر کروالیا۔ قصہ مختصر میرے ساس سسر، انکے بیٹے اور بعدازاں ہم دونوں میاں بیوی کے علاوہ کوئی اور شخص ہمارے نام ہوئے مکان میں کرایہ دار کی حیثیت میں بھی نہیں رہا۔ نادرا کے دفتر میں یقیناََ میرا اور میرے خاندان کا سارا ریکارڈ موجود ہوگا۔

میرے سسرال اور بیوی کے خاندان کا ریکارڈ بھی نادرا کے پاس ہونا چاہیے۔ میں یہ سمجھنے سے قطعاََ قاصر ہوں کہ ایسے جامع ریکارڈ کے ہوتے ہوئے ایک قطعی اجنبی شخص نجانے کتنے برسوں سے قومی شناختی کارڈ پر میرے گھر کا ایڈریس درج کروائے کیسی حرکتوں میں مصروف ہوگا۔ محض اس سوال نے پریشان کن ذاتی تجربے کے ذکر کو مجبور کیاہے۔ پاکستان کے ہر شہری کیلئے شاید اپنا تحفظ یقینی بنانے کے لئے نادرا سے رجوع کرکے معلوم کرنا ہوگا کہ ان کے قومی شناختی کارڈ میں درج مستقل پتے کو قطعی اجنبی افراد بھی اپنے مستقل پتے کیلئے استعمال تو نہیں کررہے۔

نادرا کے ریکارڈ کو میں ہمیشہ مستند گردانتا رہا ہوں۔ اپنی چھوٹی بیٹی کا قومی شناختی کارڈ بنوانے کے لئے چند برس قبل مگر اس ادارے سے رجوع کیا تو علم ہوا کہ دوافغان بچیاں مجھے اپنا والد بتاکر قومی شناختی کارڈ حاصل کرچکی ہیں۔ میری خوش قسمتی کہ میرے استادوں جیسے محترم پروفیسر فتح محمد ملک کے صاحبزادے ان دنوں نادرا کے مدارالمہام تھے۔ ان سے فون پر رابطہ کیا تو جواب ندارد۔ پیغام لکھ کر بھجوادیا۔ شام ڈھلنے کے چند لمحوں بعد ان کا فون ا?یا تو یہ جان کر شرمندگی ہوئی کہ وہ کسی سرکاری کام کے سلسلے میں غیر ملک گئے ہوئے تھے۔ میرا پیغام دیکھتے ہی فون کردیا۔ انہیں اپنا مسئلہ بتایا اور چند دنوں بعد ریکارڈ درست ہوگیا۔ وگرنہ نجانے کتنے بچوں اور بچیوں کا سرکاری ریکارڈ کے مطابق باپ بن چکا ہوتا۔

پیر کی صبح دوستوں سے مشورے کے بعد نادرا سے یہ جاننے کی کوشش کروں گا کہ کتنے اجنبی اشخاص میرے گھر کے ایڈریس کو اپنے قومی شناختی کارڈ پر مستقل پتہ کی صورت استعمال کررہے ہیں۔ قارئین سے بھی دست بستہ عرض کروں گاکہ فرصت ملے تو وہ بھی نادرا سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ کسی بھی پریشان کن امکان کو خدارا انہونی تصور کرتے ہوئے مطمئن محسوس نہ کریں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.