گزرے منگل کی سہ پہر سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کا فیصلہ آتے ہی بانی تحریک انصاف کے حامیوں اور مخالفین نے فوری طورپر یہ طے کرلیا کہ حکومت انہیں کم از کم 16 ستمبر تک اسلام آباد کے عالمی شہرت یافتہ نجی ہسپتال منتقل کرنے کو مجبور ہوگی۔ ذاتی طورپر وہ فیصلہ آنے کے بعد اس کالم میں لکھ کر اصرار کیا کہ پیر کے روز سرکاری طورپر تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ کی جو رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہوئی تھی اس کی روشنی میں حکومت کو ازخود عمران خان کو ہسپتال منتقل کردینا چاہیے تھا۔ اس ضمن میں حکومت کی پیش قدمی غالباََ اسے نجی ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے سے بچاسکتی تھی۔ دو ٹکے کے رپورٹر کی ذاتی رائے مگر ہمارے ہاں کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ حکومتی سینے میں ویسے بھی دل نہیں ہوتا۔
اس حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے تحریری حکم کا نہایت توجہ سے مطالعہ کیا۔ مقصد فیصلے میں ایسے راستوں کو ڈھونڈنا تھا جو حکومت کے لئے بانی تحریک انصاف کو نجی ہسپتال منتقل نہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکیں۔ چند راستے دریافت کرلئے تو اشاروں کنایوں میں ان کا ذکر بھی کردیا۔ ٹی وی سکرین اور سوشل میڈیا پر اس تناظر میں ہاتھ باندھ کر عاشقان عمران سے یہ التجا بھی کی کہ اپنے قائد سے پرخلوص عقیدت ومحبت ثابت کرنے کے لئے انہیں سپریم کورٹ کی ہسپتال منتقلی کے حوالے سے عائد کردہ شرائط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ میری فریاد کو "ٹائوٹ کی پکار" ٹھہراکر سوشل میڈیا پر چھائے تلنگوں نے حقارت سے رد کردیا۔
اس کالم میں تفصیل سے بیان کرچکا ہوں کہ مجھے بھی فشارِ خون کا مرض لاحق ہے۔ چند ماہ قبل اس میں خوفناک اتار چڑھائو شروع ہوگیا تھا۔ اس کی وجہ سے فالج یا دل کا دورہ یقینی محسوس ہونے لگا۔ مختلف نوع ٹیسٹوں سے گزارنے کے بعد ایک قابل احترام اور مستند ڈاکٹر نے دل کو فی الوقت محفوظ ٹھہرایا۔ فالج سے تحفظ کے لئے خون پتلا کرنے کی دوائی بھی تشخیص ہوئی۔ میرے فشارِ خون کا بنیادی سبب دل ودماغ پر مسلسل چھائی تشویش یا اضطراب قرار دی گئی۔ انگریزی میں اسے (Anxiety)کہتے ہیں۔
سرکاری ڈاکٹروں کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی تشخیص کا بغور مطالعہ کیا تو دریافت یہ بھی کیا کہ عمران خان صاحب کے لئے تقریباََ وہی ادویات نسخے کے طورپر درج ہیں جو میرے زیر استعمال ہیں۔ بانی تحریک انصاف کے لئے تجویز ہوئی ادویات کی طاقت لیکن میرے لئے تشخیص کردہ ادویات سے کمتر ہے۔ اس پہلو کو نگاہ میں رکھتے ہوئے خلوص دل سے توقع باندھی کہ ان کے فشار خون کی حالت اتنی تشویش ناک نہ ہو جو ہسپتال میں 24گھنٹے نگرانی کا تقاضا کرے۔
یہ سوچنے کے بعد رپورٹر کے تجسس نے یہ سوال اٹھانے کو مجبور کیا کہ اگر سپریم کورٹ کے حکم کے عین مطابق تشکیل کردہ بورڈ نے یہ طے کردیا کہ ان کے بلڈ پریشر پر نگاہ رکھنے کے لئے ہسپتال میں داخلے کی ضرورت نہیں۔ وہ جیل میں رہتے ہوئے بھی تشخیص کردہ ادویات کے باقاعدہ استعمال سے فشار خون کو قابو میں رکھ سکتے ہیں تو کیااس صورت میں بھی انہیں 16ستمبر تک ہسپتال میں رکھنا ضروری ہوگا؟ مذکورہ سوال کا تسلی بخش جواب حاصل کرنے میں قطعاََ ناکام رہا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے تقریباََ چار گھنٹوں بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کاایک ویڈیو پیغام نشر کروایا گیا۔ اس کے ذریعے سپریم کورٹ سے نظرثانی کے ارادے کا اظہار ہوا۔ ویڈیو پیغام سنتے ہی میں یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر کامل عملدرآمد سے گریز کرنا چاہے گی۔ میرے خدشات کو لیکن عزیز ترین دوستوں نے بھی شدت سے رد کردیا۔ ان کی دانست میں وزیر اعظم شہباز شریف یوسف رضا گیلانی کی سپریم کورٹ کے ساتھ چپقلش والی کہانی دہرانے سے اجتناب برتیں گے۔
یہ کالم لکھنے تک مگر سپریم کورٹ کی جانب سے گزرے منگل کے روز تحریری طورپر دئے حکم پر کامل عملدرآمد نہیں ہواہے۔ بانی تحریک انصاف کو شفا ہسپتال کے بجائے سرکاری طورپر چلائے پمز ہسپتال میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات لے جایا گیاتھا۔ طبی معائنے کے بعد وہاں موجود ڈاکٹروں نے انہیں اڈیالہ جیل لوٹا دیا۔ اندھی نفرت وعقیدت میں ہیجانی حد تک تقسیم ہوئی قوم میں کوئی یہ سوچنے کی زحمت اٹھاتا نظر نہیں آرہا کہ حکومت نے عمران خان کو شفا کے بجائے پمز لے جانے کا فیصلہ اچانک نہیں لیا ہوگا۔
اس کے معاونین کی اکثریت نے یہ سوچ کرہی شایدپمز کا انتخاب کیا ہوگا کہ بانی تحریک انصاف کا وہاں لے جانا وزیر اعظم شہباز شریف کو توہین عدالت کے الزام سے بچاسکتا ہے۔ جن بنیادوں پر پمز لے جانے کا فیصلہ ہوا وہ بالآخرناقص، احمقانہ اور بچگانہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنے والے شہبازشریف کو مگر وہ بنیادیں یقیناََ معقول محسوس ہوئی ہوں گی۔ ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائے "ذہن ساز" ان بنیادوں کا لیکن کھوج لگانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ طے کرچکے ہیں کہ وزیر اعظم توہین عدالت کی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔
پرانی وضع کا صحافی ہوتے ہوئے میں عدالتوں کے ممکنہ فیصلوں پر قیاس آرائی سے گریز کا عادی ہوں۔ 24/7ٹی وی نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارموں کی عدم موجودگی میں 1988ء کے برس بھی "ذہن سازوں " کی ا کثریت نے طے کرلیا تھا کہ جنرل ضیاء الحق کی جانب سے مئی کے مہینے میں محمد خان جونیجو کی جس حکومت کو برطرف کردیا گیا تھا اسے بحال کردیا جائے گا۔ ہاتھ اٹھاکر اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی ان دنوں اسی سوچ کا حامل تھا۔ بنیاد اس کی جنرل ضیاء کی فضائی حادثے میں اچانک وفات تھی جو ہمارے بندوبستِ حکومت کیلئے بہت بڑا دھچکا تھی۔
17اگست 1988ء کے فضائی حادثے کے چند دن بعد مگر ان دنوں کے سپریم کورٹ کو اچانک یاد آگیا کہ جونیجو حکومت کی برطرفی کو اس کے روبرو چیلنج کیا گیا ہے۔ اسے روزانہ کی بنیاد پر سننے کا فیصلہ ہوا۔ سبکدوش ہوئے وزیر اعظم اس مقدمے کی سماعتوں کے دوران بذاتِ خود کورٹ روم میں موجود ہوتے۔ ان کی بدن بولی واضح طورپر وزیر اعظم کی کرسی پر لوٹنے کی امید کا اظہار کرتی رہی۔ تقریباََ ایک ہفتے تک پھیلے ڈرامائی مراحل کے انجام پر لیکن سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ مئی 1988ء میں جونیجو حکومت کی برطرفی آئینی اور قانونی اعتبارسے غلط تھی۔ اسے مگر بحال اس لئے نہیں کیا جارہا کیونکہ عوام جنرل ضیاء کی وفات کے بعد نئے انتخاب چاہتے ہیں۔
24/7ٹی وی نیٹ ورکس اور سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے بھی نواز شریف کو "حیف ہے اس قوم پر" کی دہائی کے ساتھ "جھوٹا اور خائن" ٹھہرانے والے جی دار تصور ہوتے جج جناب آصف سعید کھوسہ نے بھی خوفزدہ کردینے والے ریمارکس کے بعد 26نومبر2019ء کے روز جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں عمران حکومت کی جانب سے جاری ہوئے نوٹیفیکیشن کو معطل کردیا تھا۔ جنرل باجوہ کی بطور آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف پیش ہوئی درخواست کو بالآخر یہ کہتے ہوئے نمٹادیا کہ مذکورہ معاملہ پارلیمان ہی حل کرسکتی ہے۔ جنرل باجوہ کی توسیع ملازمت کے بارے میں فیصلہ کرنے سے یوں جند چھڑالی تھی۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد ماضی کے تجربات یاد کرتے ہوئے ممکنہ عدالتی فیصلوں کے بارے میں حتمی رائے دینے سے گریز مجھ پیدائشی بز دل کی جبلت کا حصہ بن چکا ہے۔