Tuesday, 18 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Net Meteron Ki Taaron Ki Chori Se Jure Mazeed Waqiat

Net Meteron Ki Taaron Ki Chori Se Jure Mazeed Waqiat

میرے گھر سے نیٹ میٹر کے ساتھ لگی تاروں کی چوری پر لکھے کالم کو قارئین کی متاثر کن تعداد نے پڑھا۔ ملک بھر سے اس کے بارے میں مثبت اور منفی تبصرے مسلسل آرہے ہیں۔ سوشل میڈیائی تلنگوں کی ہذیانی تنقید وضاحتوں کے قابل نہیں۔ کالم کو پر خلوص انداز میں سراہنے والے بھی لیکن یہ کہنے سے باز نہ رہ سکے کہ شکر ہے کہ مجھے مقامی سیاست اور عالمی امور پر جگالی کرتے کالموں کے بجائے عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑے مسائل پر توجہ دینے کی فرصت ملی۔ کراچی سے تبصرہ کرنے والوں میں سے تقریباََ ہر ایک نے شکوہ کیا کہ بجلی کی ترسیل کے نظام میں تاروں اور میٹروں کی چوری اس شہر کے تقریباََ ہر گھر کی کہانی ہے۔ اسلام آباد کے ایوان ہائے اقتدار کی غلام گردشوں میں پھیرے لگاتے مجھ جیسے افراد مگر ان کے مسائل یوں نظرانداز کردیتے ہیں جیسے وہ پاکستان کے کسی دوسرے شہر نہیں بلکہ کسی اور ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔

کراچی کے قارئین کی جارحانہ تنقید سے میں خفا نہیں ہوا۔ اپنے دفاع میں فقط یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ میرے گھر میں اگر نیٹ میٹر سے جڑی تاریں چور کاٹ کر اپنے ساتھ نہ لے جاتا تو میں آج بھی یہ جان نہ سکتا کہ نیٹ میٹر کے ساتھ نصب ہوئے تاروں کا جال جرائم کے عادی افراد کے لئے کتنا قیمتی ہے۔ کراچی ہی نہیں بلکہ بقراطی کے شوق میں یہ خاکسار اسلام آباد کی روزمرہ زندگی سے جڑے عام آدمی کے مسائل سے کماحقہ انداز میں آگاہ نہیں۔ اپنی غفلت کے بارے میں شرمسار ہوں اور کوشش ہوگی کہ ان پر توجہ مبذول رکھی جائے۔

اکثر قارئین کا خیال تھا کہ جن تاروں کی چوری کے بارے میں لکھا گیا اسے نشے کے عادی افراد اپنی "خوراک" کے لئے چوری نہیں کرتے۔ وہ درحقیقت جرائم پیشہ گروہوں کے کارندے ہوتے ہیں اور تاروں کی چوری سے مختص گروہ کا سراغ لگانا کم از کم اسلام آباد پولیس کے لئے ممکن ہے۔ میں نے مگر پولیس کی گوشمالی سے گریز کیا۔ قارئین کی رائے درست ہوسکتی ہے لیکن نشے کی "خوراک" کی خاطر چھوٹی موٹی چوری چکاری ملک بھر کا معمول بن چکی ہے۔

بات چل نکلی ہے تو پہلی بار یہ بتانے میں کوئی حرج نہیں کہ میرے ہاں ایک سال قبل کسی عورت نے گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ وہ صبح کاذب کے بعد گھر کے مین گیٹ سے داخل ہوئی۔ میں اور میری بیوی بیسمنٹ میں اپنے کمرے میں گہری نیند سورہے تھے۔ ملازم بھی گھر کے مرکزی دروازے سے دور ایک ایسے کمرے میں سورہا تھا جہاں سیڑھیاں اترکرجانے کی ضرورت ہے۔ عورت مین گیٹ سے ہمارے گھر کے مرکزی دروازے کی جانب بڑھی تو گھر کے اندر موجود کتوں نے خوفناک آواز میں بھونکنا شروع کردیا۔ ہمارے پالے کتے نہایت چوکس ہیں۔

رات کو بلی جیساجانور بھی لان میں گھس آئے تو مسلسل آوازوں سے ہمیں خبردار کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہماری آنکھ عموماََ ان کی وجہ سے اکثر کھل جاتی ہے۔ اس عورت نے گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو کتوں کی آواز سے گھبراکر پیچھے ہٹ گئی۔ واردات ہوجانے کے بعد سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ہم نے دریافت کیا کہ کتوں سے گھبراکر گھر میں داخل ہونے والی عورت مرکزی دروازے سے دور ہوگئی۔ گھر میں پارک ہوئی گاڑیوں کے پیچھے چھپ کر اس نے اِدھر اُدھر کا جائزہ لیا تو معلوم کرلیا کہ سیڑھیوں کے ذریعے ملازم کے کمرے میں جایا جاسکتاہے۔ دبے پاؤں سیڑھیوں سے اترکر وہ سرونٹ کوارٹر میں داخل ہوگئی۔

ملازم کا کمرہ سی سی ٹی وی سے محفوظ ہے۔ اس کا دروازہ مگر کھلا ہوا تھا اور ملازم گہری نیند میں مدہوش۔ گزشتہ چار برسوں سے وہ اونچا سننا شروع ہوگیا ہے۔ ہم میاں بیوی کے اصرار کے باوجود مگر کانوں کا معائنہ کروانے کو تیار نہیں۔ اپنے بہرے پن کے تاثر کی وہ نفی کرنے کو بضد ہے۔ دبے پاؤں سیڑھیوں سے اس کے کمرے میں داخل ہوئی عورت کی اسے خبر نہ ہوئی۔ میز کے سرہانے اس نے بٹوہ اور موبائل فون رکھا ہوا تھا۔ موبائل اور بٹوہ اٹھاکر وہ باہر نکل گئی۔ گھر کے بیرونی دروازے سے باہر نکلتے ہی اس نے بٹوے سے محض پیسے نکالے اور باقی بٹوے کو اچھال کر گھر کے اندر پھینک دیا۔

میں اس چوری کی ایف آئی آر کروانے کو کارزیاں تصور کرتا رہا۔ میری بیوی نے مگر یہ کہتے ہوئے شرمندہ کردیا کہ چونکہ چور عورت ہمارے گھر میں داخل نہیں ہوپائی اس لئے میں ایف آئی آر کروانے سے جند چھڑارہا ہوں۔ میں نے اسے یقین دلایا کہ دیانتداری سے ملازم کا خمیازہ اپنی جیب سے بھرنا چاہتا ہوں۔ ملازم مگر مصر تھا کہ اس کا "بہت نقصان" ہوا ہے۔ رپٹ کروانا ضروری ہے۔ محض اس کی تسلی کی خاطر ایف آئی آر کروادی اور پولیس کو اس عورت سے متعلق سی سی ٹی وی کا ریکارڈ بھی فراہم کردیا۔

ایف آئی آر کٹوانے کے دوران پولیس والوں نے آگاہ کیا کہ وہ عورت گزشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر کے گھروں میں گھسنے کی کوشش کررہی ہے۔ اکثر ناکام رہی اورپھر کسی نہ کسی طرح سرونٹ کوارٹر میں گھس کر موبائل فون اٹھاکر رفوچکر ہوگئی۔ پولیس میں رپورٹ درج کروانے والوں نے اس کا سی سی ٹی وی ریکارڈبھی فراہم کیا ہواہے۔ ہمارے ہاں سے آئی فوٹیج میں لیکن اس کا چہرہ بہت صاف ہے۔ اس کا سراغ لگانے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ پولیس نے یہ اطلاع بھی دی کہ مذکورہ عورت کی وارداتوں کی وجہ سے صبح تین سے پانچ بجے کے درمیان پولیس کی گشت سیکٹر ایف ایٹ میں یقینی بنائی جارہی ہے۔

ہمارے ہاں ہوئی واردات کے تقریباََ دس دن بعد وہ عورت صدر ایوب خان کے ایک قریبی عزیز کے گھر کے اندر گھسنے میں کامیاب ہوگئی اور وہاں دیوار پر نصب ایک دو قیمتی اشیا بھی چرالیں۔ جو اشیا اس نے چوری کیں وہ نادر تھیں۔ ان کا بازار میں بیچنا ممکن نہیں تھا۔ کباڑیے کے پاس انہیں لے کر گئی تو اسے شک ہوگیا اور یوں وہ گرفتار ہوگئی۔ نادر اشیا بطور مال مسروقہ بازیاب کرلی گئی ہیں۔

میرے ملازم کا فون مگر وہ بیچ چکی تھی۔ اس کے ہمراہ تھانے میں دس سال کا ایک بچہ اور تقریباََ سات سال کی ایک بچی بھی تھی۔ وہ ہر واردات میں انہیں ساتھ رکھتی ہے تاکہ گھر سے چوری کی اشیا گھر سے باہر پھینک سکے۔ میرے ملازم سے اس عورت کی شناخت کروالینے کے بعد تھانے کے ایک اہلکار نے مجھے فون کیا اور نہایت دھیمے انداز میں بیان کیا کہ نشے کی عادی اس عورت سے نادر اشیا پولیس کی محنت کے بغیر برآمد ہوئی ہیں۔ چھوٹی وارداتوں سے جو رقم یا فون وغیرہ اس نے چوری کئے ان کی برآمدگی مگر بہت دشوار ہے۔ اہم ترین مسئلہ یہ بھی ہے کہ نشے کی خوراک کے بغیر وہ حوالات میں تڑپنا شروع ہوجاتی ہے۔ اسے بحالی کے مرکز بھیجناہوگا۔ مشکل مگر یہ آن پڑی ہے کہ اس کے بچوں کو کہاں رکھا جائے۔ میرے پاس اس سوال کا جواب موجود نہیں تھا۔ ملازم کو گھر واپس بلالیا۔ اس کے بعد وہ مجھ سے چھپ کر تھانے جاتا رہا۔

بالآخر ایک اہلکار نے اسے اطلاع دی کہ مذکورہ عورت کو منشیات کی لت میں مبتلا افراد کی بحالی کے اداروں نے اپنے ہاں رکھنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ بچوں کی خاطر لہٰذا اسے چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ ملازم آج تک اس کہانی پر اعتبار نہیں کرتا۔ یہ خاکسار مگر اسے تسلیم کرنے کو رضامند ہے۔ اس عورت کی کہانی کو وسیع تر تناظر میں رکھ کر دیکھیں تو ہماری ریاست اور معاشرے کے پاس واقعتا ایسے ادارے موجود نہیں جو نشے کی لت میں مبتلا عورت کو اس کے بچوں سمیت رکھ کر انہیں نفسیاتی اور معاشی حوالوں سے زندہ رہنے کے قابل بناسکیں۔ محض پولیس کو ایسے اداروں کے نہ ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.