Monday, 24 August 2026
  1.  Home
  2. 92 News
  3. Amir Khakwani
  4. Bharat Mein Pakistan Phobia Aur Aqliatein

Bharat Mein Pakistan Phobia Aur Aqliatein

اٹھارہ فروری دو ہزار سات کی رات پانی پت کے قریب سمجھوتہ ایکسپریس میں دو دھماکے ہوئے۔ اڑسٹھ لوگ جان سے گئے، جن میں اکثریت پاکستانی مسافروں کی تھی۔ صبح ہوتے ہی دلی کے چینلوں پر ماہرین کی قطار لگ گئی اور فیصلہ سنا دیا گیا کہ یہ کام سرحد پار سے ہوا ہے۔ برسوں بعد تفتیش کا رخ مڑا اور معاملہ سوامی اسیم آنند اور ان کے ساتھیوں تک جا پہنچا۔ مقدمہ چلتا رہا، دو ہزار انیس میں سب ملزم بری ہو گئے، مگر ریکارڈ پر ایک بات ہمیشہ کے لیے آ گئی۔ پہلے دن کا الزام اور آخری دن کی تفتیش دو مختلف سمتوں میں گئے تھے۔

یہ اکیلا واقعہ نہیں۔ دو ہزار چھ کے مالیگاؤں دھماکوں میں نو مسلمان نوجوان اٹھا لیے گئے اور دس سال بعد تفتیشی ادارے نے خود عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف کچھ نہیں۔ ہمارے ہاں محاورہ ہے، زندگی جہنم بن جانا۔ ان نوجوانوں کی جوانی، ملازمتیں، رشتے، سب اسی جہنم کی نذر ہوئے اور کسی نے پلٹ کر معافی تک نہ مانگی۔

یہ پرانی کہانیاں آج اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ اگست دو ہزار چھبیس میں بھارتی ایجنسیوں نے چودہ ریاستوں میں ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا۔ ان کے اپنے دعوے کے مطابق دو سو ترپن افراد حراست میں لیے گئے، دو سو سے زائد گرفتاریاں ہوئیں اور اسی سے زیادہ مقدمے درج کیے گئے۔ سب سے زیادہ گرفتاریاں اتر پردیش، ہریانہ، دلی اور پنجاب سے ہوئیں، جبکہ راجستھان، مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک اور مقبوضہ کشمیر تک چھاپے پڑے۔ سارے آپریشن کا مرکزی کردار ایک مفرور شخص شہزاد بھٹی کو بتایا گیا۔

اب اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔ ان دو سو سے زائد گرفتار شدگان میں پاکستانی کتنے ہیں؟ جواب ہے، ایک بھی نہیں۔ یہ سب بھارت کے اپنے شہری ہیں اور ان میں بڑی تعداد بھارتی مسلمانوں کی ہے۔ الزام پاکستان پر ہے اور ہتھکڑیاں اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ سرحد پار سے تو کوئی پکڑا نہیں گیا، مگر لکھنؤ، انبالہ اور میرٹھ کے محلوں میں دروازے ضرور توڑے گئے۔

دوسرا سوال اس سے بھی اہم ہے۔ نئی دلی کی حکومت دنیا کو بتاتی ہے کہ اس کا انٹیلی جنس نظام غیر معمولی ہے، اس کا نگرانی کا ڈھانچہ مثالی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ مبینہ پاکستانی ماڈیول چودہ ریاستوں میں بار بار کیسے اگ آتے ہیں؟ سال بھر بعد پھر وہی اعلان، وہی پریس کانفرنس، وہی نقشے۔ یا تو نظام اتنا مضبوط نہیں جتنا بتایا جاتا ہے، یا پھر ہر ناکامی پر ایک لیبل چپکا دینا سب سے سستا سیاسی حل ہے۔ غیر جانبدار ماہرین کی رائے میں معاملہ دوسری بات کا زیادہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود بھارتی اعداد و شمار اس بیانیے کا ساتھ نہیں دے رہے۔ ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق کالعدم لشکر طیبہ سے مبینہ روابط پر گرفتاریاں دو ہزار بائیس میں ایک سو چوالیس تھیں، دو ہزار تئیس میں ایک سو نو، دو ہزار چوبیس میں تینتالیس، دو ہزار پچیس میں بائیس اور دو ہزار چھبیس کے وسط اگست تک صرف سترہ۔ گراف مسلسل نیچے جا رہا ہے، مگر ٹیلی وژن کا شور اسی رفتار سے اوپر۔ زمین پر معاملہ سکڑ رہا ہے اور سکرین پر پھیل رہا ہے۔

پھر یہ کہ گرفتاری جرم ثابت ہونے کا نام نہیں ہوتا۔ دو ہزار پچیس میں این آئی اے کے دو سو چھہتر گرفتار افراد میں سے سڑسٹھ کو ایک وسیع کیٹیگری میں رکھ دیا گیا۔ کسی کیٹیگری میں کھپا دینا آسان کام ہے۔ مشکل کام آزاد عدالت میں شواہد پیش کرنا ہے، مالی ریکارڈ دکھانا ہے، ڈیجیٹل ثبوت کی تصدیق کرانا ہے۔ حکام نے دھماکہ خیز مواد اور اسلحے کی برآمدگی کے دعوے تو کیے، مگر ہر ملزم کے خلاف الگ الگ قابل جانچ فرانزک شواہد سامنے نہیں آئے۔ چالان بننے تک کیمرے جا چکے ہوتے ہیں۔

اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں۔ مارچ دو ہزار سولہ میں بلوچستان سے کلبھوشن یادھو پکڑا گیا، انڈین نیوی افسر، جس کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف تک گیا۔ اکتوبر دو ہزار چوبیس میں امریکی محکمہ انصاف نے وکاش یادو نامی بھارتی سرکاری ملازم پر نیویارک میں ایک امریکی شہری کے قتل کی سازش کا الزام عائد کیا۔ اسی مہینے کینیڈا کی رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس نے باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے بھارتی حکومتی ایجنٹوں پر قتل، بھتہ خوری اور جنوبی ایشیائی برادری کو ہراساں کرنے کے الزامات لگائے۔ ستمبر دو ہزار پچیس میں کینیڈا نے لارنس بشنوئی کے گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔

تو یارو، جو ملک اپنے ہر داخلی مسئلے کا ملبہ ہمسائے پر ڈالتا ہے، اسی کے اہلکار تین براعظموں میں ایسے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ محض جوابی الزام تراشی نہیں، ان میں سے کئی معاملات مغربی عدالتوں کی فائلوں میں موجود ہیں۔ کینیڈا اور امریکہ کا پاکستان سے کوئی رومان نہیں کہ وہ ہماری خاطر یہ سب گھڑ لیں۔ سچ ہے تو انہوں نے کہا۔ یہاں ایک بات کھلے دل سے ماننی چاہیے۔ غیر ملکی ہاتھ ڈھونڈنے کی بیماری ہمارے ہاں بھی رہی ہے۔ ہم نے بھی کئی بار اپنے مختلف بحرانوں کے پیچھے بیرونی سازش تلاش کی۔ فرق مگر پیمانے کا ہے۔ ہمارے ہاں یہ ایک سیاسی عادت رہی، بھارت میں یہ حکمرانی کا باقاعدہ ہتھیار بن چکا ہے، جس کے ذریعے پرچہ لیک ہونے کے سکینڈل، بے روزگاری، کسانوں کے احتجاج اور منی پور جیسے زخم سب ایک ہی جھاڑو سے قالین کے نیچے سرکا دیے جاتے ہیں۔

ویسے یہ حربہ اب چل بھی نہیں رہا۔ نیپال سے تعلقات میں کھچاؤ ہے، بنگلہ دیش کے ساتھ معاملات کشیدہ ہو چکے ہیں، چین کے ساتھ سرحدی تنازع جوں کا توں ہے۔ کیا یہ سب بھی پاکستان کرا رہا ہے؟ بھارتی شہری خود پوچھنے لگے ہیں کہ گرفتاریاں تو فوراً ٹیلی وژن پر آ جاتی ہیں، ثبوت کہاں جاتے ہیں؟

بحث کو اب اس نکتے سے آگے بڑھانا ہوگا کہ بھارت کے ہر مسئلے کے پیچھے پاکستان ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ نئی دلی اپنے داخلی مسائل حل کرنے میں ناکام کیوں ہے؟ اگر ناکام نہیں تو غیر آمادہ کیوں ہے؟ کسوٹی یہ نہیں کہ کتنے ماڈیول توڑنے کا اعلان ہوا، کسوٹی یہ ہے کہ ان میں سے کتنے الزام آزاد عدالتوں میں ثابت ہوئے اور پاکستان کے نام پر پکڑے گئے کتنے بھارتی شہریوں کا حقیقی سرحد پار تعلق عدالتی طور پر قائم ہو سکا؟

ہمارے لیے اس سارے قصے میں ایک سبق بھی ہے۔ پروپیگنڈے کا جواب پروپیگنڈہ نہیں، دستاویز اور دلیل ہے۔ اپنا مقدمہ ٹھنڈے دل سے، حوالوں کے ساتھ رکھنا ہے۔ دنیا آخرکار اسے ہی دیکھے گی۔ سننے والے کو خود ہی سمجھ آ جائے گی کہ اصل کہانی کس طرف سے لکھی جا رہی تھی۔