ایک منظر کا تصور کریں، یہ فرضی نہیں حقیقی منظر ہے۔ سلامتی کونسل کے کمرے میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد پیش کی گئی۔ پندرہ ارکان میں سے چودہ اس کے حق میں ہیں۔ ایک ملک اپنا ہاتھ نیچے رکھتا ہے اور قرارداد وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ بحث آگے بڑھتی ہے، نہ کوئی اپیل ہوتی ہے، نہ کہیں شکایت درج ہو سکتی ہے۔ چودہ ملکوں کی رائے ایک ملک کی مرضی کے سامنے کاغذ کا ٹکڑا بن جاتی ہے۔ یہ منظر پچھلے دو برس میں ہم نے ایک بار نہیں، کئی بار دیکھا ہے۔ ہر بار قرارداد نامنظور ہوتی رہی اور غزہ میں قبریں بنتی رہیں۔
اب اس منظر میں صرف ایک تبدیلی کیجیے۔ فرض کیجیے وہ ہاتھ پانچ نہیں، آٹھ یا نو ہیں۔ کیا اس سے کونسل زیادہ منصف ہو جائے گی، یا زیادہ بے بس؟ اقوام متحدہ میں اس وقت جو بحث چل رہی ہے، اصل میں وہ اسی ایک سوال کے گرد گھوم رہی ہے۔
بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے مختصر پس منظر۔ اقوام متحدہ انیس سو پینتالیس میں بنی، جب لیگ آف نیشنز دنیا کو دوسری جنگ عظیم سے نہ بچا سکی۔ سلامتی کونسل کا ڈھانچہ اسی وقت کی طاقت کے مطابق بنا، پانچ فاتح ملک مستقل ارکان اور چھ ملک منتخب ارکان۔ انیس سو پینسٹھ میں منتخب نشستیں چھ سے بڑھا کر دس کر دی گئیں اور کل تعداد پندرہ ہوگئی۔ اس کے بعد ساٹھ برس گزر گئے اور اس سٹرکچر میں معمولی سی تبدیلی بھی نہیں آئی۔ اُس وقت اقوام متحدہ کے ارکان پچاس کے قریب تھے، آج ایک سو ترانوے ہیں۔
دو ہزار آٹھ میں جنرل اسمبلی نے اس گتھی کو سلجھانے کے لیے بین الحکومتی مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا اور اس ایشو پر کئی نشستیں، کئی اجلاس ہوچکے ہیں۔ سترہ برس ہو گئے، فیصلہ آج تک نہیں ہوا۔ وجہ یہ ہے کہ چار مختلف گروپ چار مختلف راستے مانگ رہے ہیں۔ جی فور یعنی بھارت، جرمنی، برازیل اور جاپان اپنے لیے مستقل نشستیں چاہتے ہیں۔ افریقی گروپ، جو چون ملکوں پر مشتمل ہے، ویٹو سمیت دو مستقل نشستیں مانگتا ہے۔ فرانس اور میکسیکو کی تجویز ہے کہ نسل کشی جیسے معاملات میں مستقل ارکان رضاکارانہ طور پر ویٹو نہ استعمال کریں اور چوتھا گروپ یونائیٹنگ فار کنسنسز ہے، جس کی قیادت پاکستان کر رہا ہے اور اٹلی، میکسیکو، ارجنٹائن، کینیڈا اور جنوبی کوریا سمیت کئی ملک اس کے ساتھ ہیں۔ اس گروپ کا موقف صاف ہے، مستقل رکنیت کا دروازہ مزید نہیں کھلنا چاہیے، ویٹو کے ساتھ، نہ ویٹو کے بغیر۔
میری رائے میں یہی موقف درست ہے اور اس کی وجہ محض بھارت دشمنی نہیں، اس کے پیچھے ٹھوس دلائل موجود ہیں۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ مستقل رکنیت بڑھانا اصلاح نہیں، اسی مرض کو پھیلانا ہے۔ شکایت یہ ہے کہ چند ملکوں کے پاس مستقل اور غیر جوابدہ اختیار ہے۔ علاج یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ ایسے چند ملک اور بنا دیے جائیں۔
دوسری دلیل زیادہ اہم ہے۔ مستقل کرسی ایک بار مل جائے تو واپس نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس سلامتی کونسل کا غیر مستقل مگر منتخب رکن دو سال بعد ہٹ جاتا ہے اور اسے دوبارہ آنے کے لیے دنیا کے سامنے جانا پڑتا ہے۔ مستقل رکن کے لیے نہ کوئی الیکشن ہے، نہ کارکردگی کا جائزہ، نہ نکالنے کا کوئی طریقہ اور سب سے بڑی بات یہ کہ نیا مستقل رکن آگے چل کر ہر اس اصلاح کو روک سکے گا جو اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہو۔
تیسری دلیل عملی ہے۔ آج پانچ ویٹو کے ساتھ کونسل مفلوج ہے۔ اگر مستقل نشستوں کے ساتھ ویٹو کا دائرہ بھی بڑھا تو آٹھ یا نو ویٹو کے ساتھ وہ کیا ہوگی؟ یوکرین پر ایک ویٹو، غزہ پر دوسرا، کشمیر پر تیسرا۔ ہر بحران پر کوئی نہ کوئی ملک ویٹو استعمال کرے گا اور دنیا تماشا دیکھتی رہے گی۔
اب آئیے اس سوال پر جو پاکستان کے لیے سب سے براہ راست ہے۔ بھارت۔ بھارت کا ریکارڈ کیا کہتا ہے؟ کشمیر پر خود سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں، بھارت نے جن پر آج تک عمل نہیں کیا اور نہ فوجی موجودگی کم کی۔ دو ہزار انیس میں آرٹیکل تین سو ستر اور پینتیس اے یکطرفہ طور پر ختم کر دیے گئے، حالانکہ متنازع علاقے کی حیثیت تبدیل کرنا انہی قراردادوں کی روح کے خلاف تھا۔ معاملہ صرف کشمیر تک محدود نہیں۔ انیس سو ساٹھ کا سندھ طاس معاہدہ، جو ساٹھ برس تک جنگوں میں بھی قائم رہا، بھارت نے یکطرفہ طور پر معطل کر دیا۔ کینیڈا سمیت کئی مغربی ملکوں نے اپنی سرزمین پر بھارتی اداروں کے ملوث ہونے کے الزامات لگائے اور تحقیقات کیں۔ اندرونی طور پر اقلیتوں کے حوالے سے جو صورتحال ہے، وہ عالمی اداروں کی رپورٹوں میں موجود ہے۔
سوال یہ ہے کہ جو ملک آج، جب اس کے پاس ویٹو نہیں، سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نظرانداز کرتا ہے، وہ ویٹو ملنے کے بعد کیا کرے گا؟ کشمیر کا معاملہ جو آج بھی کاغذوں میں کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، اس کی قسمت کس کے ہاتھ میں ہوگی؟ یہ سوال جذباتی نہیں، خالص منطقی اورڈپلومیٹک ہے۔ جرمنی کا معاملہ الگ ہے مگر اس میں بھی منطق کمزور ہے۔ یورپ پہلے ہی برطانیہ اور فرانس کی صورت میں دو مستقل نشستیں رکھتا ہے۔ اگر شکایت یہ ہے کہ افریقہ کے پاس ایک بھی نہیں، تو اس کا علاج تیسری یورپی نشست کیسے ہو سکتا ہے؟ متبادل کیا ہے؟
متبادل موجود ہے اور وہ اہم ڈیمانڈز کو اکاموڈیٹ کرتا ہے۔ یونائیٹنگ فار کنسنسز کی تجویز یہ ہے کہ منتخب نشستیں دس سے بڑھا کر بیس کر دی جائیں، ان کی مدت لمبی ہو اور دوبارہ انتخاب ممکن ہو۔ اس سے افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور مسلم دنیا کو کونسل کے کمرے میں پہلے سے کہیں زیادہ جگہ مل جائے گی۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ یہ جگہ کسی کی جاگیر نہیں ہوگی، ہر چند سال بعد اس ملک کو دنیا کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ نمائندگی بھی بڑھ جائے گی اور مراعات کے نئے مستقل مراکز بھی نہیں بنیں گے۔
آخر میں ایک بات جو اس ساری بحث میں کم کہی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ترمیم کے لیے جنرل اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ پانچوں مستقل ارکان کی توثیق لازمی ہے۔ یعنی جو ملک اپنی طاقت میں حصہ داری نہیں چاہتے، فیصلہ آخر میں انہی کے دستخط سے ہونا ہے۔ اسی لیے سترہ برس کی بحث کے بعد بھی ایک قدم آگے نہیں بڑھا۔ ایسے میں سمجھداری اس میں ہے کہ ہم اس راستے پر زور لگائیں جو واقعی کھل سکتا ہے، منتخب نشستوں میں اضافہ، نہ کہ اس دروازے پر جو کھلا بھی تو ہمیشہ کے لیے کھل جائے گا۔
انیس سو پینتالیس میں چند ملکوں نے دنیا کے لیے ایک نظام بنایا تھا اور اسے مستقل بنا دیا تھا۔ اس نظام کی شکایت کرتے کرتے اسی نظام کو مزید بھونڈا بنا لینا عقلمندی نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کرسی پر کون بیٹھے گا؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسی کرسیاں مزید بنانا چاہتے ہیں جن سے کوئی اٹھایا نہ جا سکے؟