گزشتہ روز کوئٹہ کراچی شاہراہ پر مستونگ کے علاقے سنگر میں دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سرکاری گارڈ کو شہید کر دیا۔ ایک دن پہلے اسی مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں مسافر بس پر فائرنگ کرکے تین بے گناہ مسافر مار دیے گئے۔
اب ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ جو لوگ انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے جج کو گولیوں سے چھلنی کر دیں، بسوں سے عام مسافروں کو نشانہ بنائیں، ان سے مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں؟ کس بات پر ہو سکتے ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جس پر آج بات کرنی ہے۔
بلوچستان میں جب بھی دہشت گردی کی کوئی بڑی لہر آتی ہے، ہمارے ہاں ایک طبقہ یکایک ہی مذاکرات کا راگ الاپنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، مذاکرات کریں، سیاسی حل نکالیں۔
خاکسار مذاکرات، سیاسی حل کا ہرگز مخالف نہیں۔ میرا ماننا یہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بالآخر سیاسی عمل ہی سے حل ہوگا۔ مذاکرات بھی ہوں گے اور ہونے چاہئیں، مگر اصل سوال ترتیب کا ہے۔ پہلے کیا ہوگا، بعد میں کیا؟ یہ ترتیب الٹ دی جائے تو نتیجہ بھی الٹ نکلتا ہے۔
مذاکرات کی اپنی ایک سائنس ہے۔ دنیا بھر کا تجربہ بتاتا ہے کہ ریاست اور مسلح گروہ کے مذاکرات صرف اس وقت نتیجہ خیز ہوتے ہیں جب تین شرطیں پوری ہوں۔ پہلی یہ کہ دوسرا فریق تھک چکا ہو، اسے اندازہ ہو چکا ہو کہ بندوق سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ دوسری یہ کہ اس کی کچھ جائز شکایات ہوں جو دور کی جا سکتی ہوں۔ تیسری یہ کہ وہ کسی غیر ملکی طاقت کا آلہ کار نہ ہو، اپنے فیصلے خود کرنے کی پوزیشن میں ہو۔
اب بلوچستان کے دہشت گرد گروہوں کو ان کسوٹیوں پر پرکھ لیجیے۔ یہ گروہ تھکے ہوئے نہیں بلکہ حالیہ مہینوں کی کارروائیوں کے بعد ان کے حوصلے بلند ہیں۔ بے گناہ لوگوں کو قتل کرکے یہ دہشت گرد خود کو فاتح محسوس کر رہے ہیں۔ جو فریق خود کو حاوی سمجھ رہا ہو، وہ مذاکرات کی میز پر آتا ہی نہیں، آ جائے تو ایسی شرائط رکھتا ہے جو کوئی ریاست قبول نہیں کر سکتی۔ رہی جائز شکایات کی بات تو بلوچ عوام کی شکایات یقیناً موجود ہیں جو دور ہونی چاہئیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر مسافروں کو قتل کرنے والوں کا ان شکایات سے کیا تعلق؟ شکایت انصاف نہ ملنے کی ہو تو انصاف دینے والے جج کو قتل کیوں کیا؟ ظاہر ہے کہ ان گروہوں کا ایجنڈا شکایات کا ازالہ نہیں، کچھ اور ہے۔
تیسری شرط تو سرے سے غائب ہے۔ عسکری قیادت شواہد کے ساتھ کہہ چکی ہے کہ ان حملوں کے پیچھے بھارت ہے اور افغان سرزمین ان کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تو بھیا جی، جو گروپ غیر ملکی فنڈنگ پر چل رہے ہیں، جن کے ماسٹر سرحد پار بیٹھے ہیں، انہوں نے پاکستان سے مذاکرات کیوں کرنے ہیں؟ ان کے ہینڈلرز کا مقصد ہی بلوچستان کو سلگتا رکھنا ہے، سی پیک اور ترقیاتی منصوبوں کو رکوانا ہے۔ ہم نے یہی غلطی کی تھی جب ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے بعد جنگ بندی ہوئی اور انہیں واپس آنے کی اجازت ملی۔ ٹی ٹی پی نے اس مہلت میں اپنے نیٹ ورک دوبارہ منظم کیے اور پھر پوری قوت سے حملے شروع کر دیے۔ وہ کارروائیاں آج تک بھگت رہے ہیں۔
یہی سب کچھ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز برسوں کرتے رہے۔ ہر بار مذاکرات سے وہ فائدہ اٹھاتے اور پھر سے منظم ہوجاتے۔ آخرکار سری لنکن ریاست نے فیصلہ کن آپریشن کیا اور دو ہزار نو میں وہ تنظیم ختم ہوگئی جسے دنیا کی خطرناک ترین گوریلا تنظیم کہا جاتا تھا۔ ترکیہ میں پی کے کے سے امن مذاکرات دو ہزار پندرہ میں ناکام ہوئے، اسکے بعد ترک ریاست نے مسلسل آپریشن کرکے تنظیم کی کمر توڑ دی اور پھر اسی پی کے کے نے ہتھیار ڈال دئیے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ریاستیں مذاکرات طاقت کی پوزیشن سے کرتی ہیں، کمزوری کی پوزیشن سے نہیں۔ پہلے مسلح گروہ کا زور توڑا جاتا ہے، پھر جو تھک کر ہتھیار پھینکنے پر آمادہ ہوں، ان سے بات کر لیں۔
اس لئے اس وقت پہلا مرحلہ دہشت گردوں پر کاری ضرب لگانے کا ہے۔ انکا نیٹ ورک توڑنا ہوگا، گن فائیٹ کرنے والی افرادی قوت کم کرنی ہوگی، کیمپ، ٹھکانے اور رسد کے راستے ختم کرنے ہوں گے۔ خوش قسمتی سے ریاست اس حوالے سے یکسو ہوچکی۔ فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور مستونگ، سوراب میں پچھلے دو دنوں میں دس شدت پسند مارے گئے، دو مبینہ خودکش خواتین حملہ آور گرفتار ہوئیں۔ اس عمل کو مگر مؤثر تر بنانے کے لیے تین کام لازمی ہیں۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مضبوطی، یعنی مقامی مخبری کے نظام کو بہتر بنا کر ٹیکنالوجی اور نگرانی کرنے والے ڈرونز سے جوڑنا۔ فنڈنگ کے راستے کاٹنا، کیونکہ دہشت گردی پیسے سے چلتی ہے۔ تیسرا سہولت کاروں کا محاسبہ، کیونکہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والے اور رسد پہنچانے والے بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ دوسرا مرحلہ بیانیے کی جنگ ہے۔
یہ لڑائی صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی۔ بلوچستان میں اس وقت ایک بھرپور کاؤنٹر ٹیررازم نیریٹو کی ضرورت ہے اور سچ پوچھیں تو یہ ہمارا سب سے کمزور محاذ رہا ہے۔ بی ایل اے اور اس کے سرپرست سوشل میڈیا پر منظم مہم چلاتے ہیں، اپنے قاتلوں کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس پروپیگنڈے کا موثر جواب دیا جائے۔ دہشت گرد گروہوں کے اصل چہرے بے نقاب کیے جائیں، ان کے ہاتھوں مارے جانے والے بلوچوں کے خاندانوں کی آوازیں سامنے لائی جائیں۔ غیر ملکی فنڈنگ کے شواہد صرف عالمی فورمز پر نہیں بلکہ اردو، بلوچی اور براہوی میں عام آدمی تک پہنچائے جائیں تاکہ ہر شخص جان لے کہ یہ آزادی کی جنگ نہیں، پرائی جنگ ہے۔ جو بلوچ آوازیں قومی دھارے میں رہ کر صوبے کی خدمت کر رہی ہیں، انہیں آگے لایا جائے، ان کے ذریعے نوجوان نسل سے مکالمہ ہو۔
پھر آئے گا تیسرا مرحلہ یعنی سیاسی عمل، جو دراصل منزل ہے۔ جب دہشت گرد گروہ کمزور ہو جائیں، ان کا غرور ٹوٹ جائے، تب مذاکرات کا دروازہ کھلنا چاہیے۔ جو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوں، ان کے لیے واپسی کا باعزت راستہ ہو۔ ساتھ ہی حقیقی سیاسی عمل چلے۔ گورننس اتنی بہتر ہو کہ عام آدمی کو صحت، تعلیم، پانی اور روزگار میں عملی ریلیف نظر آئے۔
جس نوجوان کے پاس روزگار ہو اور مستقبل کی امید ہو، وہ کسی سرمچار کے جھانسے میں نہیں آتا۔ آپریشن دہشت گردوں کا زور توڑتا ہے مگر ان کی نرسری صرف گڈگورننس اور سیاسی عمل ہی بند کرتا ہے۔ تو یارو، بات ساری ترتیب کی ہے۔ جو لوگ آج مذاکرات سے آغاز کرنا چاہتے ہیں، ان سے صرف اتنی گزارش ہے کہ جج عبدالحکیم کاکڑ کے گھر والوں سے مل لیں، کھڈ کوچہ کی اس بس کے مسافروں کے لواحقین سے پوچھ لیں، پھر بتائیں کہ مذاکرات کس سے کرنے ہیں اور کس بات پر؟