ارجنٹائن کے جلسوں میں کچھ عرصہ پہلے تک ایک عجیب منظر دکھائی دیتا تھا۔ سٹیج پر ایک بکھرے بالوں والا آدمی کھڑا ہوتا اور ہاتھ میں لکڑی کاٹنے والی وہ مشینی آری اٹھا لیتا جسے ہمارے ہاں چین سا کہتے ہیں۔ مجمع نعرے لگاتا، تالیاں بجتیں اور آری فضا میں لہراتی رہتی۔ ہم جیسے دور بیٹھے لوگوں کو یہ محض انتخابی شوشا لگا، ایسا تماشا جو ووٹ لینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ آج مگر وہی آدمی، خاویر میلی، ارجنٹائن کا صدر ہے اور اس آری کی نقلیں خطے کے دوسرے ملکوں کے انتخابی جلسوں میں دکھائی دے رہی ہیں۔
لاطینی امریکا کا سیاسی نقشہ سامنے رکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔ ارجنٹائن میں میلی، ایل سلواڈور میں نایب بوکیلے، ایکواڈور میں ڈینیل نوبوا، چلی میں خوسے انتونیو کاست، پیرو میں کیکو فوجیموری اور کولمبیا میں ایک نسبتاً غیر معروف وکیل ابیلاردو دے لا ایسپریئیا۔ فہرست بڑھتی جا رہی ہے۔ اب نگاہیں برازیل پر ہیں جہاں دو ماہ بعد اکتوبر میں صدارتی انتخاب ہے اور موجودہ صدر لولا دا سلوا کا مقابلہ بولسونارو خاندان کے امیدوار سے ہے۔ تازہ سروے بتاتے ہیں کہ ممکنہ دوسرے مرحلے میں دونوں چھیالیس اور پینتالیس فیصد پر کھڑے ہیں، یعنی مقابلہ کانٹے کا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہوا کیا؟ کیا لاطینی امریکی ووٹر اچانک دائیں بازو کے نظریات کا عاشق ہوگیا ہے؟ کیا پچھلی دو ڈھائی دہائیوں میں بار بار ابھرنے والی لیفٹ سیاست اب پسپا ہو رہی ہے؟ یا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے کہ لوگ جس حکومت سے تنگ آتے ہیں، اسے اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں؟ محتاط جواب یہ ہے کہ سچائی ان تینوں کے بیچ میں کہیں پڑی ہے اور اسے سمجھنے کے لیے تھوڑا پیچھے جانا ہوگا۔
انیس سو اٹھانوے میں وینزویلا کے ہیوگو شاویز کی کامیابی کے بعد اس براعظم میں بائیں بازو کی ایک بڑی لہر چلی تھی۔ برازیل میں لولا دا سلوا، بولیویا میں ایوو مورالیس، ایکواڈور میں رافیل کوریا اور ارجنٹائن میں کرچنر خاندان۔ اسے "گلابی لہر" کا نام دیا گیا۔ گلابی اس لیے کہ یہ سوویت طرز کا سخت گیر سرخ کمیونزم نہیں تھا، نسبتاً نرم، انتخابی اور فلاحی قسم کا لیفٹ تھا۔ اس کا وعدہ سادہ تھا۔ ریاست بڑی ہو، غریب کو سہارا دے، دولت کی تقسیم بہتر ہو، نجکاری کی زیادتیاں روکی جائیں اور واشنگٹن کی بجائے اپنی مرضی کی خارجہ پالیسی چلائی جائے۔ ایک عرصے تک یہ کارگر رہا، خاص کر جب عالمی منڈی میں تیل، سویا اور تانبے کی قیمتیں آسمان پر تھیں اور حکومتوں کے پاس بانٹنے کے لیے پیسہ تھا۔
پھر وقت کا پہیہ گھوما اور ووٹر کے سوال بدل گئے۔ آج کے لاطینی امریکی شہری کو نظریاتی کتاب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ رات کو گھر لوٹتے ہوئے اسے کوئی گینگ لوٹ تو نہیں لے گا؟ اس کی بیٹی محفوظ ہے یا نہیں؟ مہینے کے آخر تک تنخواہ بچے گی یا نہیں؟ ریاست ٹیکس تو پورا لیتی ہے، بدلے میں دیتی کیا ہے؟ لاطینی امریکہ کے نیو رائیٹ ونگ نے انہی سوالوں کو پکڑا ہے اور کمال یہ کیا کہ ہر ملک میں الگ الگ جواب دیا۔
ارجنٹائن کو دیکھیے۔ صدر میلی کے ہاتھ کی وہ آری محض تماشا نہیں تھی، ایک مکمل سیاسی پیغام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ارجنٹائن کا اصل مرض یہ ہے کہ ریاست بہت ہیوی اور موٹی ہوگئی ہے۔ سرکاری محکمے، سبسڈیاں، خسارے، نوکر شاہی اور سیاسی مراعات معیشت کو چاٹ رہے ہیں۔ آری اسی موٹی ریاست کو کاٹنے کی علامت تھی۔ اقتدار میں آ کر انہوں نے اخراجات کاٹے، سبسڈیاں کم کیں اور روایتی سیاسی اشرافیہ پر مسلسل حملے کیے۔ یاد رہے کہ میلی کے انتخاب سے پہلے، دو ہزار تئیس میں ارجنٹائن کی سالانہ مہنگائی کی شرح دو سو گیارہ فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
اب ذرا ایل سلواڈور چلیں، جہاں کا نسخہ میلی سے تقریباً الٹ ہے۔ نایب بوکیلے بھی نئی رائٹ ونگ کے ہیرو ہیں، مگر ان کا پیغام یہ نہیں کہ ریاست بہت طاقتور ہے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ ریاست بہت کمزور ہے، اسے اتنا طاقتور بناؤ کہ مجرم اس کے نام سے کانپیں۔ ایل سلواڈور برسوں گینگ تشدد کا شکار رہا، قتل کی شرح دنیا کی بلند ترین شرحوں میں تھی۔ بوکیلے نے ہنگامی حالت نافذ کی، ہزاروں گرفتاریاں ہوئیں، فوج اور پولیس کو غیر معمولی اختیارات ملے اور ایک بہت بڑی میگا جیل بنائی گئی جس کی تصویریں پوری دنیا میں وائرل ہوئیں۔
انسانی حقوق کے ادارے ان پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بے گناہ لوگ بھی پکڑے گئے، شہری آزادیاں محدود ہوئیں، عدالتیں اور پارلیمنٹ صدر کے سامنے کمزور اور بہت چھوٹے ہوگئے۔ یہ اعتراضات معمولی نہیں اور تجزیہ کار انہیں سنجیدہ سمجھتے ہیں۔ بوکیلے کے حامی مگر ایک سیدھا سوال پوچھتے ہیں۔ پہلے ہمارے بچے گلی میں محفوظ نہیں تھے، اب ہیں یا نہیں؟
اس سوال پر ہمیں چونکنا چاہیے، کیونکہ یہ سوال ہم بھی سن چکے ہیں۔ دو ہزار تیرہ میں جب کراچی میں آپریشن شروع ہوا تو انسانی حقوق کے حلقوں کے تحفظات اپنی جگہ تھے اور ان میں وزن بھی تھا۔ عام کراچی والے کا سوال مگر یہی تھا کہ بھتہ پرچی اب آتی ہے یا نہیں، دکان شام کو کھلی رہ سکتی ہے یا نہیں؟ ویسے تو کراچی میں اب پھر سے اسی طرح کے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عام آدمی چیزیں ٹھیک ہونے کا خواہشمند ہوتا ہے، قانونی تقاضےبہت بار اس کے لئے زیادہ اہم نہیں رہتے۔
ایکواڈور کی کہانی الگ ہے۔ یہ ملک کبھی خطے کے پرامن ملکوں میں شمار ہوتا تھا۔ پھر اس کی بندرگاہیں عالمی کوکین تجارت کے لیے اہم ہوگئیں، مقامی گینگ میکسیکن کارٹلوں سے جڑ گئے، جیلیں مجرموں کے قبضے میں چلی گئیں اور قتل کی شرح تیزی سے اوپر گئی۔ ڈینیل نوبوا نے فوج اور پولیس کے بھرپور استعمال کا وعدہ کیا اور جیت گئے۔ وہاں دائیں بازو کی اصل طاقت کوئی معاشی نظریہ نہیں، یہ وعدہ ہے کہ ریاست کو جرائم پیشہ گروہوں سے واپس چھینا جائے گا۔
چلی کا معاملہ سب سے دلچسپ ہے۔ چلی اب بھی خطے کے بہت سے ملکوں سے زیادہ محفوظ ہے۔ وہاں مگر لوگوں کے دلوں میں جرم بڑھنے کا خوف اور غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں بے چینی پیدا ہوئی۔ خوسے انتونیو کاست نے سرحد، امیگریشن، جرائم اور سرکاری اخراجات کو موضوع بنایا اور اٹھاون فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوگئے۔ یہاں ایک سبق چھپا ہے جسے ہمارے سیاست دانوں کو بھی سمجھنا چاہیے۔ کئی بار الیکشن اس بات پر نہیں لڑا جاتا کہ جرم حقیقت میں کتنا ہے، بعض اوقات اس بات پر لڑا جاتا ہے کہ عام آدمی کو وہ جرم یا مسئلہ بڑھنے کا احساس کتنا شدید ہے؟
اب ذرا دوسری طرف کا منظر بھی دیکھ لیں۔ پیرو میں کیکو فوجیموری کی فتح آدھے فیصد سے بھی کم فرق سے ہوئی۔ کولمبیا میں دے لا ایسپریئیا ایک فیصد سے بھی کم فرق سے جیتے۔ یعنی دونوں ممالک میں جیت رائٹ ونگ کو ہوئی مگر معمولی مارجن سے۔
ایک بات جو اس ساری بحث میں دب جاتی ہے۔ ان رہنماؤں کا کوئی ایک مشترکہ معاشی نسخہ ہے ہی نہیں۔ میلی ریاست کا حجم گھٹانا چاہتے ہیں، بوکیلے امن و امان کے معاملے میں انتہائی طاقتور ریاست چاہتے ہیں۔ نوبوا فوج کے ذریعے ریاستی رٹ بحال کرنا چاہتے ہیں، کاست امیگریشن اور ثقافتی قدامت پسندی کو معاشی اصلاحات کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی دو آدمی ایک کمرے میں بٹھا دیے جائیں تو ریاست کے کردار پر ان کا جھگڑا ہو جائے۔ ان کو جوڑنے والی چیز نظریہ نہیں، وہ مسائل ہیں جو ان کے ووٹروں کو مشترک ملے ہیں۔ جرم، مہنگائی اور پرانی سیاسی اشرافیہ سے بیزاری۔
تو کیا یہ سب پرانی حکومتوں کے خلاف نفرت تھی یعنی اینٹی اِن کمبنسی ہے؟ وہی پرانا کھیل کہ حکومت میں جو بیٹھا ہے، اسے نکال باہر کرو؟ ہمارے ہاں بھی تو یہی ہوتا ہے۔ دو ہزار آٹھ میں ایک جماعت، دو ہزار تیرہ میں دوسری، دو ہزار اٹھارہ میں تیسری۔ دوہزار چوبیس میں۔۔ چلیں چوبیس کو چھوڑ دیتے ہیں کہ اس بار گڑبڑ گھوٹالا زیادہ تھے، جو جیتے وہ فارغ اور دوسرے نمبر والے فاتح۔ عمومی طور پر ووٹر کے پاس اپنا غصہ نکالنے کا یہی ایک ہتھیار ہوتا ہے۔ بات مگر یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اینٹی اِن کمبنسی ووٹر کو حکومت کے خلاف کرتی ہے، وہ سرحد پار سیاسی اتحاد پیدا نہیں کرتی۔ لاطینی امریکا میں اب یہی ہو رہا ہے۔
چوبیس اگست کے نیویارک ٹائمز نے صفحہ اول پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی، اس کا لب لباب یہ ہے کہ مختلف ملکوں کی دائیں بازو کی سیاست اب صرف ایک دوسرے سے مشابہہ نہیں رہی، ایک دوسرے سے سیکھ بھی رہی ہے۔ میلی کی آری چلی تو کسی اور ملک میں سرکاری اخراجات کاٹنے کے لیے بڑی قینچی انتخابی علامت بن گئی۔ بوکیلے کی میگا جیل مشہور ہوئی تو دوسرے ملکوں کے امیدوار بھی میگا جیلیں بنانے کے وعدے کرنے لگے۔ قومی فٹ بال جرسی قوم پرستی کا انتخابی لباس بن گئی۔ ایک ملک کا رہنما دوسرے ملک کے امیدوار کے ساتھ مشترکہ ویڈیو بنا رہا ہے، اس کے جلسے میں جا رہا ہے اور پڑوسی ملک کی حکومت پر کھلے حملے کر رہا ہے۔ یہ روایتی سفارت کاری نہیں۔
اس لیے یہ کہنا کہ لاطینی امریکا میں کچھ نہیں بدلا، بس حکومتیں بدل رہی ہیں، اب درست نہیں رہا۔ یہ کہنا بھی جلد بازی ہوگی کہ وہاں ایک مکمل نظریاتی انقلاب آ چکا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ایک نئی سیاسی زبان جنم لے چکی ہے، جسے ابھی اپنی کارکردگی سے خود کو ثابت کرنا ہے۔
سوال آخر میں یہ رہ جاتا ہے کہ الگ الگ ملکوں کے یہ مختلف رہنما، جن کے معاشی خیالات تک ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، آخر آپس میں جڑ کہاں رہے ہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ابھرتے ہوئے سیاسی نیٹ ورک کا ایک اہم مرکز لاطینی امریکا کے اندر نہیں، شمال میں واشنگٹن بنتا جا رہا ہے۔ وہاں وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ بیٹھے ہیں۔ ٹرمپ اس نئی رائٹ ونگ کے خالق نہیں، مگر کیا وہ اسے ایک علاقائی سیاسی طاقت میں تبدیل کر رہے ہیں؟ اس قربت کا فائدہ کیا ہے اور اس کی قیمت کیا؟ اس پر بات اگلے کالم میں۔