Thursday, 20 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Amir Khakwani
  4. Imran Khan Ki Bimari Ka Nawaz Sharif Ki Bimari Se Mawazna

Imran Khan Ki Bimari Ka Nawaz Sharif Ki Bimari Se Mawazna

مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو شائد تعصب میں اندھے ہوچکے ہیں یا ن لیگ کی محبت انہیں عقل و فہم سے عاری کر چکی ہے۔ وہ لوگ جو عمران خان کی بیماری اور سپریم کورٹ سے دئیے جانے والے ریلیف کا موازنہ نواز شریف صاحب کی فیک بیماری اور پلیٹلیٹس کے گرنےکے ڈرامے سے کر رہے ہیں۔ یا وہ آصف زرداری صآحب کی بیماری کے نام پر برسوں ہسپتالوں میں عیش کرنے کے ساتھ موازنہ کر رہے ہیں اور ایک جعلی جھوٹا بے بنیاد بیانیہ بناتے ہوئے پوسٹیں لگا رہے ہیں کہ کہانی ایک ہی ہے، کردار بدلتے رہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

حالانکہ ایک معمولی عقل رکھنے والا شخص، ایک ایوریج دیانت کا حامل بھی بتا سکتا ہے کہ عمران خان کا کیس باقی سب کیسز سے انتہائی مختلف ہے۔ کوئی موازنہ بنتا ہی نہیں۔

مثال کے طور پر مجھے صرف یہ بتائیں کہ کیا آصف زرداری کو تین سال تک قید تنہائی میں رکھا گیا تھا؟ کیا ایک بار جیل میں جانے کے بعد کسی نے ان کی ایک تصویر تک نہیں دیکھی، انہیں کبھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا؟ سپٌریم کورٹ تک میں پیش کرنے کے بجائے ویڈیو لنک استعمال کیا گیا اور باقاعدہ سرتوڑ کوشش کرکے اسے یقینی بنایا گیا کہ اس ویڈیو لنک میں آنے والی عمران خان کی تصویر تک باہر نہ نکلے؟

کیا ایسا آصف زرداری کے ساتھ ہوا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ وہ تو مزے لوٹتے رہے۔ جیل کاٹی مگر بیشتر حصہ ہسپتالوں میں گزرا، آرام دہ کمرے میں، ہر قسم کی سہولتوں سے لیس۔ ہر قسم کی ملاقاتی آتے اور ان سے ملتے اور بہت کچھ ایسا کہ اس کی تفصیل میں جانا نامناسب بھی ہوگا اور غیر شائستہ بھی۔

جناب نواز شریف صاحب کے ساتھ ایسا کچھ ہوا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ وہ عدالتوں میں پیش ہوتے رہے، کارکنوں کو دیکھ کر وکٹری کے نشان بناتے، لیڈرانہ شان کے ساتھ مسکراتے، تصاویر بنواتے رہے۔ جو سختیاں عمران خان کو جھیلنا پڑی ہے، پاکستانی تاریخ میں کسی مین سٹریم سیاستدان لیڈر کو نہیں سہنا پڑیں۔ البتہ کارکن کی سطح پر لوگ ہر دور میں رگڑے کھاتے رہے، خاص کر ہمارے سندھی، پشتون، بلوچ قوم پرست کارکنان اور کبھی لیفٹ کے کارکن اور کبھی رائیٹ ونگ خاص کر جماعت اسلامی کے کارکنان کو مصائب بھگتنے پڑے۔

بڑے سیاسی لیڈرون کو قید میں رکھا گیا، ایام اسیری تکلیف دہ ہوتے ہیں، ان کے لئے بھی ہوں گے، مگر انہیں عمران خان کی طرح انتہائی سختیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ خان صاحب کا کیس منفرد اور سب سے زیادہ تکلیف دہ کیس ہے۔

اب آجائیں بیماری پر۔ عمران خان کی بیماری کوئی ڈرامہ ہے نہ اس مقصد کے لئے کسی نے فیک رپورٹیں بنوائیں اور نہ ہی پلیٹلٹیس گرنے اور کسی پراسرار نایاب بیماری کا ڈرامہ ہوا۔

عمران خان کی آنکھیں متاثر ہوئیں، خود جیل میں چیک کرنے والے ڈاکٹرون کی رپورٹ کے مطابق ایک آنکھ کی بینائی پچاسی فیصد تک متاثر ہوئی، دوسری بھی متاثر تھی۔ خان صاحب کو تب بھی کسی سے نہیں ملنے دیا گیا۔ حتیٰ کہ کسی قابل اعتماد آئی ڈاکٹر یا سرجن تک سے نہیں۔ انہیں تیماری اور تکلیف دہ بیماری کے باوجود زرا برابر ریلیف نہیں ملا۔

اب بھی ان کی بیماری بڑھ گئی ہے، انہیں بلڈ پریشر کا مسئلہ لاحق ہوچکا، ان کا بلڈ کلاٹ بنا، جو تشویشناک صورتحال ہے۔ انہیں انجیوگرافی کی ضرورت ہے اور شائد اس کے بعد انجیوپلاسٹی۔ ڈاکٹر ہی فیصلہ کریں گےکہ سٹنٹ ڈالنے ہیں یا سردست دوائیوں کے ذریعے علاج۔ یہ ایک باقاعدہ مسئلہ ہے، سنگین نوعیت کا۔ افسوس تو یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کو یہ تکلیف ہوئی جو جیل جانے سے پہلے تک سپرفٹ تھا، جو میلوں واک کرتا، جوگنگ کرتا، اپنی خوراک کا خیال رکھتا تھا، جس کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس کا جسم اس کی عمر سے پچیس تیس سال کم عمر اور زیادہ فٹ ہے۔

اس شخص کو بےجا سخیتوں، خوفناک حد تک پہنچی قید تنہائی اور اس کے بنیادی حقوق معطل کرکے دی گئی اذیت ک نتیجے میں یہ بیماریاں لاحق ہوئیں۔

اب اگر ان بیماریوں کا پراپر علاج نہ ہو تو یقینی بات ہے کہ کچھ عرصے میں اللہ نہ کرے خان صاحب کو جیل میں ہارٹ اٹیک ہوجائے اور بروقت طبی امداد فراہم نہ کی جائے تو زندگی کو بھی شدید خطرہ ہوسکتا ہے۔ مصری صدر ڈاکٹر مرسی شہید کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ انہیں طبی امداد نہیں دی جاتی تھی، وہ بے چارے عدالت میں سماعت کے دوران کئی بار بے ہوش ہوجاتے اور ایسے ہی ایک دن انتقال کر گئے۔

اگر ڈیل ہوتی تو عمران خان کی آنکھ کا بروقت علاج کرا لیا جاتا۔ تب انہیں ہسپتال میں ایڈمٹ کرکے انجیکشن وغیرہ وہیں لگواتے۔ رمضان تھا تو انہیں وہ مہینہ بھی ہسپتال میں گزارنے دیا جاتا۔ ایسا نہیں کیا گیا۔

اب بھی دیکھ لیں کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو کس طرح ہانپتی کانپتی، ڈری سہمی حکومت بھاگ کر نظرثانی کے لئے پہنچ گئی۔ شرم آنی چاہیے ن لیگ کو اپنی اس گھٹیا پالیسی پر، اس کم ظرفی اور شرمناک حرکتوں پر۔ انہی وجوہات کی بنا پر تو عوام ن لیگ اور آل شریف سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے تو نواز شریف کو لاہور کے عوام نے بری طرح مسترد کر دیا۔ اپنے حلقے سے نواز شریف ہار گئے، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز سب لاہور سے ہارے ہوئے ہیں۔

اس لئے خدارا کچھ تو فکری دیانت سےکام لیں۔ عمران خان کی بیماری جینوئن ہے، اس پر بے پناہ مصائب ہوئے، پہاڑ توڑے گئے، بس مار دینےکی کسر رہی، باقی سب کچھ تو کر دیا گیا۔ اب کہیں جا کر سپریم کورٹ سےتھوڑا سا ریلیف ملا تو اس کا موازنہ نواز شریف کی فیک بیماری اور پلیٹلٹ کے ڈرامے سے کیسے کیا جا سکتا ہے؟