Friday, 07 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Amir Khakwani
  4. Kya Aulad Ko Apna Aqeeda Sikhana Chahiye?

Kya Aulad Ko Apna Aqeeda Sikhana Chahiye?

ایک بہت پیارے دوست ہیں۔ عمدہ لکھاری، مصنف، فکشن نگار، عمدہ افسانوں کی کتاب بھی شائع ہوئی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ کھرے آدمی ہیں۔ انہوں نے اپنی فیس بک تحریر میں ایک واقعہ لکھا جسے پڑھ کر میں دیر تک سوچتا رہا۔ ہوا یوں کہ جب ان کا بیٹا دس گیارہ برس کا تھا تو انہوں نے اس سے پوچھا، بیٹا، کیا خدا ایک ہے؟ بچے نے وہی جواب دیا جو ہمارے ہاں ہر بچہ دیتا ہے، ہاں جی خدا ایک ہے، آپ نے بتایا ہے، دادی نے بتایا ہے۔ والد کو یہ جواب پسند نہ آیا۔ انہوں نے سمجھایا کہ تم خود اپنا سچ کھوجو، ہم تمہیں غلط بھی تو بتا سکتے ہیں۔

تحریر لمبی ہے، مختصر یہ کہ بچہ انہی سوالوں میں الجھ گیا۔ ایک روز باپ بیٹا واک کر رہے تھے کہ بیٹے نے کہا، میرے خیال میں خدا نہیں ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، پھر آخرکار والد نے خود ہی اسے کہا کہ چلو، پچھلے اسباق بھول جاؤ اور مان لو، تب تک مان لو جب تک انکار کی منزل نہیں آ جاتی۔

اصل بات مگر یہ ہے کہ ہمارے یہ دوست اس تحریر میں فتح کا اعلان نہیں کر رہے تھے، اپنی غلطی کا اعتراف کر رہے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ کچھ لوگ شاید اس پر داد دیں کہ میں نے بچے کو سوچنے کی تربیت دی، مگر مجھے افسوس ہے، میں نے غلط کیا۔ بچوں سے ان کا بچپن چھین لینا والدین کے بڑے جرائم میں سے ایک ہے۔ ان کے الفاظ میں، "میں نے اسے انکار کا سبق تو پڑھایا مگر اقرار کے لیے اسے تن تنہا چھوڑ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بکھر کے رہ گیا"۔ تحریر کے آخر میں انہوں نے احباب سے پوچھا کہ بتائیے، میں نے غلط کیا یا درست؟

اس اعتراف کے لیے بڑا حوصلہ چاہیے۔ اولاد کے معاملے میں کوئی باپ آسانی سے یہ نہیں کہتا کہ مجھ سے چوک ہوئی۔ حیرت مجھے تحریر پر نہیں، اس کے نیچے آنے والے کمنٹس پر ہوئی۔ خاصے لوگ تلقین فرما رہے تھے کہ اپنا عقیدہ اولاد کو منتقل کرنا ہی نہیں چاہیے۔ بچوں پر اپنی سوچ نہیں ٹھونسنی چاہیے۔ نو دس سال کی عمر سے بچے کو تنقیدی اور تحقیقی سوچ سے آشنا کر دیں۔ جس بچے کے ذہن میں مذہب ڈال دیا جائے وہ کبھی نیوٹرل نہیں ہو پاتا۔ وغیرہ وغیرہ۔

خاکسار نے وہاں مختصر سا تبصرہ کیا، کچھ ان الفاظ میں، "آپ نے غلط کیا تھا، اچھی بات یہ ہے کہ آپ کو اس کا احساس ہوگیا۔ آپ اپنے بچے کو سچ بولنے، امانت داری اور دوسری اخلاقی اقدار کی تربیت دیتے ہیں۔ پھر تو وہ بھی اس پر چھوڑ دیں کہ خود ہی دریافت کرے اور جب یہ سب سکھاتے ہیں تو جو ان اقدار کا سرچشمہ ہے، وہ ہستی کیوں چھوڑ دی جائے؟ اگر آپ کو اپنے مطالعے، تجربے اور غوروفکرکے بعد آخرت، حساب کتاب اور جنت دوزخ پر یقین ہے تو فطری طور پر ہر باپ چاہے گا کہ اس کی اولاد آگ سے بچ جائے۔ میرے لیے تو یہ نہایت صاف اور سادہ سی بات ہے"۔

مجھے دلیل عجیب لگی گو بظاہر بڑی روشن خیال لگتی ہے کہ بچے کو نیوٹرل رہنے دو۔ سوال یہ ہے، نیوٹرل کس چیز میں؟ ہم بچے سے یہ نہیں کہتے کہ زبان خود ایجاد کرو، پہلے تحقیق کر لو کہ پنجابی بولنی ہے یا اردو۔ ہم اپنی زبان اس پر ٹھونستے ہیں اور اس پر اصرار بھی کرتے ہیں کہ چونکہ تم اتفاق سے سرائیکی، پنجابی، پشتون یا کسی دوسری زبان بولنے والے کے گھر پیدا ہوگئے ہو تو بس یہی زبان بولو، اس میں لکھنا پڑھنا سیکھو وغیرہ وغیرہ۔ اکثر والد ایسا نہیں کرپاتے تو وہ گلٹ کا شکار رہتے ہیں کہ ہم نے اپنی زبان اگلی نسل کو منتقل نہیں کی۔

ہم اپنے بچوں کو یہ بھی نہیں کہتے کہ جھوٹ کے فائدے نقصان خود جانچ لینا، پندرہ سولہ برس کی عمر میں فیصلہ کر لینا کہ سچ بولنا چاہیے یا نہیں۔ ماں باپ کا احترام، بڑوں سے سلوک، ہر معاملے میں ہم پوری تندہی سے اپنا تجربہ منتقل کرتے ہیں۔ صرف ایک معاملے میں ہاتھ کھڑے کر دیں، وہ بھی سب سے بڑے معاملے میں؟ یہ کہاں کا انصاف ہے۔

پھر یہ بھی دیکھیں کہ نیوٹرل رہنے کی سہولت سرے سے موجود ہی نہیں۔ خلا کہیں نہیں ہوتا۔ آپ اگر بچے کو کچھ نہیں دیں گے تو وہ برتن خالی نہیں رہے گا۔ اسے یوٹیوب بھر دے گا، سکول کے اساتذہ، اس کے اپنے کچھ دوست بھر دیں گے، انسٹاگرام کی ریلیں بھر دیں گی۔ آج کے بچے کا سامنا صبح شام ایسے مواد سے ہے جو عقیدے، اخلاق، رشتوں، ہر چیز کے بارے میں مسلسل رائے دے رہا ہے اور وہ رائے بڑی پرکشش پیکنگ میں آتی ہے۔ ایسے میں والد کی خاموشی غیر جانبداری نہیں، میدان خالی چھوڑ دینا ہے۔

ایک نکتہ ذرا باریک ہے، اس پر غور کیجیے گا۔ جو صاحب کہتے ہیں کہ میں بچے کو کوئی عقیدہ نہیں دوں گا، وہ بھی دراصل ایک عقیدہ ہی دے رہے ہیں۔ وہ اسے سکھا رہے ہیں کہ سب سے اونچی قدر انفرادی دریافت ہے، خاندان کا ورثہ مشکوک چیز ہے اور جو بات بزرگوں سے ملی وہ کمتر درجے کی ہے۔ یہ اپنی جگہ ایک پورا فلسفہ ہے جو مغرب کی روشن خیالی تحریک سے برآمد ہوا۔

برسوں پہلے مجھے بھی ان مباحث میں دلچسپی پیدا ہوئی، ہم نے تب انٹرنیٹ پر کچھ جستجو فرمائی تھی۔ کئی چیزیں تب ہاتھ لگیں۔ اس نظریے کے سب سے بڑے علمبردار مشہور ملحد دانشور رچرڈ ڈاکنز ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب "گاڈ ڈیلیوژن" میں لکھا کہ مسلمان بچہ یا عیسائی بچہ جیسی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں، صرف مسلمان ماں باپ کا بچہ ہوتا ہے اور بچوں کو مذہب میں پالنا ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ ہمارے ہاں کے کئی دوستوں تک یہ دلیل ایسے پہنچی ہے کہ انہیں خبر ہی نہیں کہ مال کہاں سے آیا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ خود مغرب میں نفسیات کے میدان سے اس دعوے پر خاصے سوالات اٹھ چکے ہیں۔ کئی ماہرین نفسیات کہہ چکے ہیں کہ گیارہ بارہ برس کے بچوں میں فلسفیانہ استدلال کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی۔ یعنی جس عمر میں ہمارے دوست نے بیٹے سے کہا کہ اپنا سچ خود ڈھونڈو، اس عمر میں بچے کا دماغ اس بوجھ کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آٹھ سال کے بچے سے کہہ دیا جائے کہ کیلکولس خود دریافت کرو، ہم تمہیں پہاڑے بھی غلط بتا سکتے ہیں۔

حال ہی میں دوبارہ بھی اس موضوع پر کچھ پڑھا۔ اسی سرچ کے دوران بوسٹن یونیورسٹی کی ماہر نفسیات ڈیبورا کیلیمن کی تحقیق پڑھنے کو ملی۔ ان کے مطابق چھوٹے بچوں میں فطری طور پر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز کے پیچھے کوئی مقصد اور کوئی بنانے والا تلاش کرتے ہیں۔ آکسفورڈ کے محقق جسٹن بیرٹ نے تو اپنی کتاب کا نام ہی "بورن بلیورز" رکھا، یعنی پیدائشی ماننے والے۔ ان محققین کے بقول ایمان بچے پر باہر سے چپکایا جانے والا لیبل نہیں، اس کے اندر کا رجحان ہے جسے تربیت سنوارتی ہے۔

ہمارے لیے اس میں کوئی نئی خبر نہیں۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ چودہ سو برس پہلے یہ حقیقت بیان ہو چکی جس تک آج کے مغربی تحقیقی مقالے اب پہنچ رہے ہیں۔

قرآن مجید کا انداز اس معاملے میں دو ٹوک ہے۔ سورہ لقمان میں ایک دانا باپ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتا ہے، اے میرے بیٹے، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ بیٹا، بڑے ہو کر خود دیکھ لینا۔ سورہ بقرہ میں حضرت یعقوبؑ موت کے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھتے ہیں کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ ایک باپ کی زندگی کے آخری لمحے تھے اور سب سے بڑی فکر یہی تھی۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ البتہ ضروری ہے۔ عقیدہ سکھانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سوال پوچھنے پر بچے کو ڈانٹ دیا جائے یا اسے یہ تاثر ملے کہ اس گھر میں سوچنا منع ہے۔ جو بچہ سوال لے کر باپ کے پاس آئے اور اسے جھڑکیاں ملیں، وہ سوال ختم نہیں کرتا، صرف باپ سے پوچھنا چھوڑ دیتا ہے اور کسی اور دروازے پر دستک دینے لگتا ہے۔ درست راستہ یہ ہے کہ بچے کو یقین بھی دیں اور پوچھنے کی اجازت بھی۔ ہمارے دوست سے یہی چوک ہوئی۔ انہوں نے بچے کو تنقیدی سوچ نہیں دی، اپنا شک منتقل کر دیا۔ ان کے بیٹے کے پاس دلیل تھی نہ اوزار، بس ایک خالی جگہ تھی جس میں والد کے لہجے کا شک اتر گیا۔

میں سمجھتا ہوں یہ سارا مغالطہ ایک بنیادی سوال پر ٹکا ہوا ہے کہ آپ خود کیا مانتے ہیں؟ اگر آپ کے نزدیک موت کے بعد کچھ نہیں، حساب کتاب کوئی نہیں، تو پھر واقعی آپ کو کیا پڑی کہ بچے کو کچھ بتائیں۔ اس کے برعکس اگر آپ کا ایمان ہے کہ ایک دن سب کو حاضر ہونا ہے اور وہاں جواب دہی ہے، تو پھر بچے کو یہ نہ بتانا نرمی نہیں، سنگ دلی ہے۔ جو باپ اپنے بیٹے کو بجلی کے ننگے تار سے دور رکھتا ہے، سڑک پار کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے، اس کے لئے یہ کہاں کی دانائی ہے کہ سب سے بڑے خطرے(جہنم میں جا گرنے) پر خاموش رہے اور کہے کہ بیٹا، بڑے ہو کر خود دیکھ لینا۔

اپنے دوست کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔ ان کا اعتراف بہت سے والدین کو راستہ دکھائے گا۔ اللہ سے امید ہے کہ ہمارے، ان کے، سب کے بچوں کے دلوں میں ایمان یوں مستحکم ہو کہ زرا برابر بھی شک نہ رہےاور ان کی زندگیاں بھی اسی ایمان کا عکس بنیں اور پھر حسن خاتمہ ہو، آمین۔