Thursday, 01 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Salamti Ka Safar

Salamti Ka Safar

دہشت گردی کسی ریاست کے دروازے پر اچانک نمودار ہونے والا ایک وقتی حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا مسلسل اور متغیر بحران ہے جو سیاسی کشمکش، علاقائی عدم استحکام، نظریاتی انتہاپسندی، کمزور حکمرانی، معاشی محرومی، غیر قانونی مالیاتی ذرائع اور جدید ابلاغی ٹیکنالوجی کے باہمی امتزاج سے اپنی نئی صورتیں پیدا کرتا رہتا ہے۔ پاکستان نے اس عفریت کے مقابلے میں طویل عرصے تک بھاری انسانی قیمت ادا کی ہے۔ فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کی قربانیوں نے ریاستی مزاحمت کو مضبوط ضرور کیا، لیکن موجودہ منظرنامہ یہ سوال بھی سامنے لاتا ہے کہ کیا دہشت گردی کے خلاف کامیابی کو صرف ایک ایک حملے کو ناکام بنانے یا ایک ایک ٹھکانے کو ختم کرنے تک محدود رکھا جا سکتا ہے؟

ستمبر 2026 کے واقعات اس سوال کی اہمیت مزید واضح کرتے ہیں۔ کوہاٹ میں پولیس لائنز پر حملے کے بعد 21 گھنٹے کی کارروائی میں 8 حملہ آور مارے گئے جبکہ پولیس اور حکام کے مطابق ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 23 تک پہنچی۔ چند روز بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے دارازندہ علاقے میں ایک خودکش حملے نے مزید جانی نقصان کیا، جبکہ 28 ستمبر کو ٹانک میں پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 ٹریفک اہل کار جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے۔

یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ پاکستان کا سلامتی کا مسئلہ ایک ہی جغرافیے تک محدود نہیں۔ خیبر پختونخوا میں مسلح حملوں کی نوعیت اپنی جگہ سنگین ہے، بلوچستان میں صورتِ حال میں دہشت گردی کے ساتھ اغوا، بھتہ خوری، شاہراہوں پر نقل و حرکت میں خلل اور مسافروں کو نشانہ بنانے جیسے عناصر بھی سامنے آ رہے ہیں، جبکہ پنجاب میں خطرے کی ایک مختلف شکل دکھائی دیتی ہے۔ ستمبر میں پنجاب کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے 158 انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران 23 مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری اور بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈیز اور ڈیٹونیٹرز کی برآمدگی کا دعویٰ کیا۔

یہ اعداد و شمار سرکاری ادارے کے بیان پر مبنی ہیں، اس لیے ان کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالتی عمل سے ہونا باقی ہے۔ اسی ماہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کی اور راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی معاونت بھی طلب کی، سرکاری نوٹیفکیشن میں ممکنہ دہشت گرد سرگرمیوں کے خطرات کا حوالہ دیا گیا۔ یوں پنجاب کا تجربہ یہ دکھاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اس وقت شروع نہیں ہوتی جب دھماکا ہو جائے، مؤثر انٹیلی جنس اور پیشگی کارروائی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ حملہ وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی اس کی راہ روک دی جائے۔

بلوچستان کی حالیہ صورتِ حال بھی سلامتی کے تصور کو محض عسکری تصادم سے آگے لے جاتی ہے۔ ستمبر میں کلات کے قریب این-25 شاہراہ پر کارروائی کے بارے میں آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 5 مسلح افراد مارے گئے اور 23 مغویوں کو بازیاب کرایا گیا، جبکہ گاڑیاں، اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ ریاست نے اس کارروائی کے ذمہ دار عناصر کے لیے اپنے مخصوص الفاظ استعمال کیے ہیں، ان دعوؤں کو اسی نسبت سے دیکھا جانا چاہیے۔ اس واقعے کا اہم پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی صرف ایک بم یا گولی کا نام نہیں، اگر شاہراہ پر مسافروں کا اغوا، بھتہ خوری اور تجارتی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا کرنے کی صلاحیت کسی مسلح نیٹ ورک کے پاس ہو تو یہ براہِ راست قومی معیشت، عوامی اعتماد اور ریاستی رٹ کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سلامتی کو ترقی، قانون، روزگار، مواصلاتی رابطوں اور شہری اعتماد سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔

پاکستان کے لیے قومی ایکشن پلان اسی جامع تصور کی ایک اہم بنیاد ہے۔ 2014 میں منظور ہونے والے 20 نکاتی قومی ایکشن پلان نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مقابلے کے لیے فوجی اقدامات کے ساتھ نفرت انگیز مواد، کالعدم تنظیموں، دہشت گردی کی مالی معاونت، نیکٹا کی استعداد، فوجداری نظامِ انصاف اور دیگر شعبوں کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا تھا۔ 2021 کے نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان نے اس دائرے کو مزید وسیع کرتے ہوئے دہشت گردی کے مالی ذرائع کی روک تھام، سی ٹی ڈیز کی استعداد میں اضافہ، انتہاپسندی کے تدارک، مدارس کی تنظیم و رجسٹریشن، بلوچستان مفاہمتی عمل، ضم شدہ اضلاع کی اصلاحات، فوجداری انصاف اور سرحدی و افغان معاملات کو بھی شامل کیا۔ اس پورے پالیسی سفر کا بنیادی سبق یہی ہے کہ بندوق حملہ آور کو روک سکتی ہے، مگر دہشت گردی کے پورے نظام کو شکست دینے کے لیے اس کے مالی، فکری، ابلاغی اور سماجی راستے بھی بند کرنا پڑتے ہیں۔

آج افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی اسی پیچیدہ سلامتی کے منظرنامے کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی مسلح سرگرمیوں اور ٹی ٹی پی کی موجودگی پر اعتراض کرتا ہے، جبکہ افغان حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ستمبر میں دونوں ملکوں کے درمیان فضائی حملوں، سرحدی جھڑپوں اور جوابی کارروائیوں کے واقعات نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا۔ 24 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں ڈرون سرگرمیوں سے متعلق اہداف قرار دیا، جبکہ کابل نے شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی۔ 29 ستمبر کی سرحدی جھڑپ کے بارے میں بھی دونوں جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے جن کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایسے حالات میں قومی سلامتی کی پالیسی کو جذباتی ردِعمل کے بجائے قابلِ تصدیق معلومات، سفارتی رابطوں، مؤثر سرحدی نظم اور مربوط انٹیلی جنس پر استوار کرنا زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔

اس کے ساتھ پاکستان کو اپنے داخلی سلامتی کے ڈھانچے پر بھی مسلسل نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ قومی احتساب کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ماضی کے فیصلوں کو آج کی معلومات کے پیمانے سے پرکھ کر ذمہ دار تلاش کیے جائیں، اس کا زیادہ مفید مفہوم یہ ہے کہ ریاست اپنے تجربات سے ادارہ جاتی سبق اخذ کرے۔ کون سی پالیسی نے خطرہ کم کیا؟ کہاں خلا باقی رہا؟ کن علاقوں میں انٹیلی جنس مؤثر ثابت ہوئی؟ کہاں دہشت گردی کے مالی یا ابلاغی نیٹ ورک دوبارہ فعال ہوئے؟ ایسے سوالات کے جواب جذباتی بحث نہیں بلکہ اعداد و شمار، تحقیق اور مسلسل ادارہ جاتی جائزے سے مل سکتے ہیں۔ قومیں اپنی سلامتی اسی وقت مضبوط کرتی ہیں جب وہ اپنی کامیابیوں کے ساتھ اپنی کمزوریوں کو بھی دیانت داری سے دیکھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔

اس پورے عمل میں ٹیکنالوجی ایک طاقتور معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت، بڑے پیمانے پر اعداد و شمار کا تجزیہ، ڈیجیٹل فرانزک، مشکوک مالیاتی لین دین کی نگرانی، جدید سرحدی نظام، چہرہ شناسی اور مربوط انٹیلی جنس پلیٹ فارم دہشت گرد نیٹ ورکس کی پیشگی شناخت میں مدد دے سکتے ہیں۔ لیکن کوئی الگورتھم انسانی انٹیلی جنس، قانونی نگرانی اور ادارہ جاتی جواب دہی کا مکمل متبادل نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اسی وقت قومی سلامتی کا مؤثر ذریعہ بنے گی جب اس کے استعمال کے ساتھ قانون، شہری حقوق اور شفاف نگرانی کے اصول بھی موجود ہوں۔

سب سے بنیادی محاذ بہرحال قومی فکر کا ہے۔ مذہبی وابستگی کو پرتشدد انتہاپسندی کے ساتھ خلط ملط کرنا درست نہیں، لیکن مذہب کے نام پر انسانی جان، شہری حرمت اور قانون کی پامالی کو جائز قرار دینا بھی دینی و اخلاقی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔ پاکستان کو ایسا اجتماعی بیانیہ درکار ہے جس میں اختلاف دشمنی نہ بنے، سیاسی مطالبہ مسلح تصادم کی طرف نہ جائے، مذہبی اختلاف تکفیر کا ذریعہ نہ بنے اور نوجوانوں کے لیے تشدد کے بجائے علم، تحقیق، ہنر اور تعمیری قومی خدمت مستقبل کی علامت بنیں۔

قرآنِ حکیم کا فرمان ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوُمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنُفُسِهِمُ

پاکستان کے لیے اس آفاقی اصول کا تقاضا یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف دشمن کے خاتمے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان اسباب اور ماحول کو بھی تبدیل کیا جائے جہاں تشدد کو نئی زندگی ملتی ہے۔ ہماری کامیابی صرف یہ نہیں کہ ایک حملہ ناکام بنا دیا گیا، حقیقی کامیابی یہ ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی ہی ممکن نہ رہے، اس کی مالی معاونت کا راستہ بند ہو، اس کا ابلاغی جواز بے اثر ہو اور اس کے لیے نئی افرادی قوت پیدا نہ ہو سکے۔

سلامتی دراصل ایک منزل نہیں، ایک مسلسل سفر ہے۔ اس سفر میں عسکری قوت ضروری ہے، مگر تنہا کافی نہیں، انٹیلی جنس ضروری ہے، مگر قانون کے بغیر نامکمل ہے، ترقی ضروری ہے، مگر انصاف اور شہری اعتماد کے بغیر پائیدار نہیں۔ جب ریاستی طاقت قانون کی بالادستی، معاشی مواقع، تعلیمی شعور، سیاسی اعتماد، ادارہ جاتی شفافیت اور فکری اعتدال کے ساتھ جڑ جائے گی تو امن محض خوف سے پیدا ہونے والی خاموشی نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسے قومی اعتماد میں تبدیل ہوگا جس میں شہری اپنے مستقبل کو محفوظ سمجھیں گے۔ یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں پاکستان دہشت گردی کے خلاف صرف ایک جنگ نہیں لڑ رہا ہوگا بلکہ سلامتی کا ایک ایسا سفر طے کر رہا ہوگا جس کی منزل پائیدار امن، مضبوط ریاست اور باشعور معاشرہ ہے۔