شناخت کسی بھی انسان کے وجود، اس کی پہچان اور اس کے حقوق کا بنیادی حوالہ ہے۔ ہر ملک کی شناخت اس کا پرچم، ہر شہری کی شناخت اس کا شناختی کارڈ اور ہر ادارے کی شناخت اس کے اصولوں، کردار اور ذمہ داریوں سے قائم ہوتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں شناخت کا ایک عجیب تضاد سامنے آ رہا ہے۔ جب کسی کو رسوا کرنا ہو تو اس کی شناخت تلاش کرنے میں دیر نہیں لگتی اور گھر کے بند کمروں سے بھی تصاویر جاری ہو جاتی ہیں۔
کسی شخص پر محض الزام سے اس کی تصویر اور نجی زندگی تک لوگوں کے سامنے لانے میں جھجک محسوس نہیں کی جاتی، لیکن جب کسی واقعہ کے ذمہ داران کا تعین کرنا ہو تو اچانک سب کچھ بے شناخت ہو جاتا ہے۔ جب کسی تعلیمی ادارے میں طالبات کو ہراساں کیا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ ملزم کون تھا۔ وہ ادارے میں کیسے داخل ہوا اور اسے روکنے کی ذمہ داری کس کی تھی؟ جواب ملتا ہے کہ شناخت نہیں ہو سکی۔ کبھی اسے ورکر کہا جاتا ہے، کبھی لیبر اور کبھی غیر متعلقہ شخص، جو موقع سے فرار ہوگیا۔
آخر یہ کون لوگ ہیں جن کی شناخت نہیں ہو پاتی؟ یونیورسٹیاں، ٹیکنیکل ادارے اور میڈیکل کالجز صرف تعلیم کے لیے نہیں بلکہ طلبہ و طالبات کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ اگر انہی اداروں میں تحفظ کی ضمانت نہ ہو تو سوال صرف کسی ایک واقعہ کا نہیں، پورے انتظامی نظام کا بن جاتا ہے۔ ایک انجینئرنگ یونیورسٹی میں طالبات کو مبینہ طور پر لیبر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی شکایت سامنے آئی لیکن سکیورٹی آفس میں ان کے لباس پر سوال اٹھائے جانے کی اطلاعات ملتی ہیں۔
دوسری طرف ایک میڈیکل یونیورسٹی میں طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ اور انتظامیہ کے مبینہ دھمکی آمیز رویے پر سوالات اٹھتے ہیں۔ کئی دیگر یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات کی ڈانس ویڈیوز بھی باہر آنے کے واقعات زیرِ بحث رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب سکیورٹی کی ناکامی ہے یا کہیں اداروں کے اندر موجود افراد ہی ویڈیوز کے غلط استعمال، بلیک میلنگ یا ہراسانی میں ملوث ہیں؟ اگر کسی طالبہ کے لباس پر اعتراض کرنے میں اتنی دلچسپی ہے تو اس کی نجی ویڈیو بنانے اور اسے باہر پہنچانے والوں کی شناخت میں اتنی خاموشی کیوں اور اسے کیوں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
ایک طرف طالبات کا لباس، دوسری طرف ویڈیوز کے معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کو مبینہ طور پر دھمکانے اور ذمہ داروں کے فرار کے الزامات ثابت کر رہے ہیں کہ "دال کالی ہے"۔ آخر اداروں کی ترجیح طلبہ کا تحفظ ہے یا ان پر اختیار قائم رکھنا۔ ایک طرف طلبہ کو کلاس رومز میں گریڈز کے لیے دھمکایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک نمایاں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کلاسز میں جاکر اساتذہ کو طلبہ کے سامنے ٹی شرٹ پہننے پر ڈانٹتے ہیں۔ انہی کی ہدایات پر گیٹ پر متعین خواتین گارڈز بچیوں کو روز ماں باپ کی تربیت کی خامیاں تسلیم کروانے کے بعد داخلہ کی اجازت دیتی ہیں۔ ایک طرف عمارات کی کمزور چھتیں گر رہی ہیں۔ دوسری طرف ذہنی پسماندگی قائم رکھنے کے لیے یہ بم پھوڑے جا رہے ہیں۔
شناخت مٹ گئی چہرے پہ گرد اتنی تھی
ہماری زندگی صحرا نورد اتنی تھی
تمام عمر اسے سینچتے رہے لیکن
گلاب دے نہ سکی شاخ زرد اتنی تھی
(سلیمان خمار)
تعلیمی اداروں کے سربراہان کا کام طالبات کے لباس پر "حلال" اعتراضات طے کرنا یا ہاسٹل کے واش روم کی ویڈیوز کو معمولی سمجھنا نہیں، بلکہ طلبہ و طالبات کی عزت، نجی زندگی اور تحفظ یقینی بنانا ہے۔ شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین سے ہی اداروں پر اعتماد قائم رہ سکتا ہے۔ یہ واقعات ایک اور اہم سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا دوسرے تعلیمی اداروں میں بھی ایسے مسائل موجود ہیں۔ کیا ہماری بچیاں گھر، سڑک، راستے، یونیورسٹی اور واش روم تک کہیں بھی محفوظ نہیں۔
یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طلبہ و طالبات یونیورسٹیز میں تعلیم، مستقبل اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے آتے ہیں۔ اپنی عزت اور نجی زندگی کے تحفظ کے لیے ہر روز جنگ نہیں لڑ سکتے۔ اگر تعلیمی اداروں میں طالبات اپنے لباس کے دفاع میں مصروف رہیں اور طلبہ اپنی نجی زندگی کے تحفظ کے لیے خوف زدہ ہوں اور شکایات کے جواب میں انہیں تحفظ کی بجائے صرف دھمکیاں ملیں۔ تو پھر سوال یہ نہیں کہ شناخت کس کی مٹ گئی۔ سوال یہ ہے کہ ان اداروں کی اپنی شناخت آخر کیا رہ گئی ہے۔