بچپن میں بزرگ جو چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ ان میں زندگی کے بڑے بڑے فلسفے چھپا دیا کرتے تھے۔ ایک کردار ایسا بھی تھا۔ جو کھاتا ہی چلا جاتا تھا۔ بمثل
شیر ساریاں نوں کھاوے
پر شیر نوں کوئی ناں کھاوے
ہمیں اس وقت ان کہانیوں کی تہہ میں چھپی حکمت تو سمجھ نہیں آتی تھی۔ البتہ ان کے کردار، ان کی حرکتیں اور ان کا انجام ہمارے ذہنوں میں نقش ہو جایا کرتے تھے۔ ایک نظم کچھ یوں تھی۔
دو اپنیاں وی کھادیاں
دو بٹیر دیاں وی کھادیاں
بچپن میں اس نظم کو سن کر ہنسی آتی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس زمانے میں پیٹ پھٹنے پر کہانی ختم ہو جاتی تھی۔ جدید دور میں پیٹ پھٹ جانے کے بعد بھی کہانی ختم نہیں ہوتی۔ ہم بھی تو ایک ایسی ہی کہانی کے کردار ہیں۔ ہم پر ٹیکس در ٹیکس عائد ہوتے ہیں۔ بجلی کا بل آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے گھر کے دروازے پر خوشیوں کا جنازہ رکھ دیا ہو۔ گیس، پٹرول اور روزمرہ زندگی کی بے شمار ضروریات کے اخراجات بڑھتے جاتے ہیں۔ آدمی اپنی آمدن گنتا ہے اور اخراجات اس سے پہلے ہی اسے گن کر مسترد کر چکے ہوتے ہیں۔
تنخواہ دار طبقہ مہینے کی پہلی تاریخ کو جینے کا منصوبہ بناتا ہے اور دس تاریخ تک حساب کتاب کی میز پر اپنی خواہشات کا پوسٹ مارٹم کر چکا ہوتا ہے۔ کسان اپنی فصل اگانے کے لئے زمین کا سینہ چیرتا ہے۔ مگر اپنی پیداوار کی مناسب قیمت کے لئے اسے پھر بھی دروازے کھٹکھٹانا پڑتے ہیں۔ کبھی اسے مافیا کہا جاتا ہے۔ کبھی اس کے مطالبات کو بلیک میلنگ بنا دیا جاتا ہے۔ عوام کے مسائل بڑھتے جاتے ہیں۔ ان کی قوتِ برداشت کم ہوتی جاتی ہے، مگر ان سے توقع یہی رکھی جاتی ہے کہ وہ خاموش رہیں۔ قانون کا احترام کریں۔ صبر کریں اور ہر نئے بوجھ کو قومی ضرورت سمجھ کر اپنے کندھوں پر اُٹھا لیں۔ کہیں سڑک پر کسی کو گاڑی تلے کچل دیا جاتا ہے۔ کہیں معمولی تنازعے پر پستول نکل آتی ہے۔ کہیں طاقتور اپنی مرضی کی سرخ لکیر کھینچ دیتا ہے اور کہیں کمزور کو یہ سمجھا دیا جاتا ہے کہ اس کی آواز کی کوئی قیمت نہیں۔
قانون کی کتاب، ادارے اور ضابطے اپنی جگہ موجود ہیں، مگر عام آدمی کے ذہن میں لاینجل سوال اپنی جگہ قائم ہے۔ اگر قانون سب کے لئے ہے تو اس کا تحفظ سب کو یکساں کیوں محسوس نہیں ہوتا؟ یہ کیسا عہد ہے کہ ایک طرف امن و امان کے دعوے ہیں اور دوسری طرف خوف کی ایسی فضا ہے جس میں آدمی اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے سے پہلے اپنے گھر والوں کے چہروں کے بارے میں سوچتا ہے؟ معاشرے میں امن محض سڑکیں بند کر دینے، سرخ لکیریں کھینچ دینے یا طاقت کا مظاہرہ کرنے سے قائم نہیں ہوتا۔ انصاف و اعتماد سے پروان چڑھتا ہے لیکن تماشا ہی تماشا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حکومتیں چلانے سے زیادہ اہم حکومت کا تاثر چلانا ہے۔
کیمرے کے سامنے ایک منظر، سوشل میڈیا پر ایک بیان، ٹک ٹاک پر ایک کلپ اور چند لمحوں کے لئے یوں لگتا ہے جیسے ملک کے تمام مسائل حل ہو گئے ہو مگر کیمرہ بند ہونے کے بعد وہی خالی جیب، وہی مہنگائی، وہی بے یقینی اور وہی سوالات۔ ٹک ٹاک پر بننے والی ویڈیو شاید چند سیکنڈ میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جائے۔ مگر کسی غریب کے گھر میں چولہا جلانے کے لئے محض ویڈیو کافی نہیں ہوتی۔ آئی سی یو میں بیڈ کی عدم دستیابی کا مطلب ڈاکٹر کو ہراساں کرنا نہیں۔
عام شہری کو ایسا قانون چاہیے جو اس کی حیثیت، دولت اور تعلقات دیکھ کر اپنا رویہ نہ بدلے۔ حکومت کا اصل امتحان اس کے اشتہارات میں نہیں، شہریوں کی زندگی میں ہوتا ہے۔ حکومت کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ اس کی تشہیر کتنی مؤثر ہے بلکہ اس سے کہ عام آدمی کی زندگی کتنی آسان ہوئی ہے۔ اگر شہری اپنے بنیادی حقوق کے لئے مسلسل لڑ رہا ہے تو ترقی کے بلند بانگ دعووں کو دوبارہ پرکھنے کی ضرورت ہے۔
ہم شاید نظم کے اس کردار کی طرح ہو گئے ہیں جو کھاتا جاتا ہے۔ کھاتا جاتا ہے مگر اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ فرق یہ ہے کہ یہاں بوجھ اٹھانے والے کروڑوں لوگ ہیں۔ ان کی آمدن محدود ہے۔ ان کے وسائل محدود ہیں۔ ان کی ضروریات حقیقی ہیں مگر ان پر عائد ذمہ داریوں اور اخراجات کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔
نانیاں دادیاں کہانی سناتے ہوئے آخر میں کوئی سبق ضرور دیا کرتی تھیں۔ شاید ہماری کہانی کا سبق بھی یہی ہے کہ کسی کو اس کی برداشت کی آخری حد تک آزمانا اور صبر کو کامیابی سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔ خاموشی ہمیشہ اطمینان کی علامت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ تھکن کی آخری منزل بھی ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عوام کتنا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ انہیں آخر اتنا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہی کیوں کیا جائے؟ کیونکہ جب پیٹ پھٹ جاتا ہے تو کہانی کا انجام بدل جاتا ہے، لیکن جب پورا نظام عوام کی برداشت پر کھڑا ہو تو محض کرداروں کو بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
کہانی کا انجام بدلنے کے لئے اس کا طریقہ کار بدلنا پڑتا ہے اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی بچپن کی اس نظم کو محض ایک مزاحیہ یاد سمجھنے کے بجائے ایک تنبیہہ کے طور پر پڑھیں۔ پیٹ پھٹ جانے سے پہلے رک جانا ہی عقل مندی ہے۔ ورنہ تاریخ میں ایسی کہانیاں بہت کم ہیں جن میں کردار تو ختم ہو جاتے ہیں، مگر نظام اپنی غلطیوں سمیت ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔