Monday, 12 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Saadia Bashir
  4. Iraqi Par Bas Na Chala, Gadhe Ke Kaan Marore

Iraqi Par Bas Na Chala, Gadhe Ke Kaan Marore

کہتے ہیں، ایک جنگل میں اچانک کیمرا آ گیا۔ کیمرا کیا آیا، گویا حسرت زدہ پھول بھی کھل اُٹھے اور بنجر زمین سے شور زدہ چشمے بھی پھوٹنے لگے۔ جنگل کے ہر باسی کو اپنی ذات، اپنا حسن، اپنی صلاحیت، اپنی ذہانت اور اپنی خوبی دنیا کے سامنے دکھانے کا موقع مل گیا۔ جو لوگ کل تک گمنامی میں زندگی گزار رہے تھے۔ آج کیمرے کے سامنے آ کر ایسی ایسی ادائیں دکھانے لگے کہ بہت سے لوگوں کو یہ کہنا پڑا کہ "آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں"۔ کیونکہ شکایت کو کوئی بھی درخورِ اعتنا نہیں سمجھتا تھا۔

زبان سے سب کہتے تھے کہ ہمیں کیمرے کی کوئی پروا نہیں، مگر کیمرا سامنے آتا تو نظریں خود بخود اس کی طرف اٹھ جاتیں۔ انگلیاں بٹن دبا دیتیں اور یوں، نہ چاہتے ہوئے بھی، واچ ٹائم بڑھتا چلا جاتا۔ کیمرے نے جنگل کے کئی ایسے کرداروں کو بھی مشہور کر دیا جنہیں خود بھی اپنی صلاحیتوں پر صرف شک نہیں بلکہ "پک" تھا۔ خیر و شر کے مصداق حسن و بدصورتی میں کوئی تمیز نہ رہی۔ بہت سوں نے صرف خود کو دکھانے میں دلچسپی لی۔ سب سے زیادہ بندر کی بن آئی۔ بندر چاہے ادرک کا سواد نہ جانتا ہو، مگر ٹک ٹاک سے اس کی خوب آشنائی تھی۔ ٹپوسیاں مارنے میں اس کا جواب تھا اور نہ شیخیاں مارنے میں۔ اس کے ہاتھ ماچس تو نہیں، کیمرے کے ہزارہا گر تھے۔ وہ خود کو Hidden کیمروں میں بھی خوب دکھا سکتا تھا۔

بس ایک گدھا تھا جو خالص گدھا ہی رہا۔ وہ صبح سے شام تک بوجھ اٹھاتا تھا۔ راستوں پر چلتا، دھوپ میں جلتا، بارش میں بھیگتا، تھکتا، ہانپتا، پھر بھی اگلے دن دوبارہ اسی راستے پر نکل آتا۔ جنگل کی بہت سی ضرورتیں صحیفوں کی طرح اس کے کاندھوں پر گویا اتر آئی تھیں مگر کیمرے کی نظر اکثر اس کے پاس سے گزر جاتی تھی۔ اسی جنگل میں ایک گھوڑا بھی تھا۔ گھوڑا خوبصورت تھا، تیز رفتار تھا، اس کی چال میں شان تھی اور کیمرے کو بھی جیسے اس کی عادت پڑ گئی تھی۔ کیمرا اکثر اس کی طرف آتا، اس کی دوڑ دکھاتا، اس کے قدم محفوظ کرتا اور جنگل کے باسی اسے دیکھ کر داد دیتے۔ گدھا گھوڑے کو دیکھتا اور سوچتا۔

کاش! کبھی کیمرا میری طرف بھی اسی طرح آئے۔ کاش! کبھی مجھے بھی موقع ملے کہ میں اپنا ہنر دکھاؤں، اپنی محنت دکھاؤں، اپنی طاقت دکھاؤں۔ کاش کبھی میں بھی گھوڑے کے ساتھ کھڑا ہو سکوں اور ایک تصویر بن جائے جس میں دونوں ایک ہی فریم میں ہوں۔ گدھا گھوڑے کے قریب جانے کی کوشش کرتا رہا۔ کہاوت جو بھی ہو، گدھا گھوڑے کو چھونے کی حسرت میں ناکام الجھتا گدھا ہی رہا۔ وہ کبھی اپنی گردن سیدھی کرتا، کبھی کان کھڑے کرتا، کبھی اپنی چال سنوارتا اور کبھی کیمرے کی طرف دیکھ کر ٹھہر جاتا۔ اسے لگتا شاید اب کیمرا دونوں کو ایک ساتھ دکھائے گا۔ مگر وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا۔

جنگل میں گھوڑا، گھوڑا تھا اور گدھا، صرف گدھا۔ دونوں کی حیثیتیں الگ تھیں، دونوں کے فریم الگ تھے، دونوں کے لئے پیمانے الگ تھے۔ یہی جنگل کی مہابھارت تھی۔ گدھا پھر بھی حسرتوں کا بوجھ لیے بھاگتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ شاید کسی دن کیمرا اس پر بھی ٹھہرے گا۔ شاید کسی دن دنیا اسے بھی دیکھے گی۔ شاید کسی دن اس کی محنت بھی اتنی ہی اہم سمجھی جائے گی جتنی گھوڑے کی رفتار۔ لیکن گدھا"مافیا کا تمغہ" سجائے مگن، جون ایلیا کو گنگناتا رہا۔

دکھ تو یہ ہے کہ جتا رہا میں بھی
دکھ تو یہ ہے کہ تم بھی زندہ ہو

مگر جنگل کے کیمرے نے آخرکار فیصلہ سنا دیا۔

گھوڑا تصویر کے لئے تھا اور گدھا تصویر کے بعد کی دنیا اٹھانے کے لئے۔ سو گدھا آج بھی چل سو چل ہے۔ عراقی کے سارے بوجھ، سب الزام، سب گناہ گدھے پر ڈال کر اسی کے کان مروڑے جاتے۔ کبھی کبھی کیمرا واقعی اس کی طرف آتا بھی تھا۔ گدھا خوشی سے اپنی تھکن بھول جاتا۔ وہ سیدھا کھڑا ہو جاتا، اپنی مشقت دکھانے کی کوشش کرتا۔ زرد چہرے پر اپنے ہی خون سے غازہ ملتا۔ پوز بنانے کی اس کی اوقات نہیں تھی۔ وہ جان جوکھوں میں ڈال کر بھی گدھا ہی رہا۔ کیمرا چلتا رہتا۔ تماشائی دیکھتے رہتے۔ واچ ٹائم بڑھتا رہتا اور گدھا؟ وہ پھر اٹھ کھڑا ہوتا۔ وہ کبھی چلتے چلتے ہار جاتا، کبھی بے ہوش ہو کر گر پڑتا، کبھی اپنی سانسیں پوری کرکے زمین پر ڈھیر ہو جاتا۔ مگر جنگل کے کیمرے کو اگلے منظر کی جلدی ہوتی۔

گدھا ہر تماشے کا بوجھ اٹھاتا رہا، مگر جب تصویر بنی تو اکثر فریم سے باہر رہا۔ شاید جنگل کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہی تھی کہ جسے کیمرے نے کبھی ٹھہر کر نہیں دیکھا۔ وہی کیمرے کے ہر منظر کا بوجھ اٹھاتا رہا جس دن گدھے نے کیمرے کے بجائے اپنے بوجھ کو دیکھ لیا، اس دن جنگل کی پوری تصویر بدل جائے گی اور جس دن وہ بوجھ اٹھانے سے انکار کر دے گا۔ اس دن کیمرے کے پاس دکھانے کو شاید بہت کچھ ہو۔ مگر جنگل کے پاس چلنے کو کچھ نہیں ہوگا۔