Monday, 12 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. KPK Mein Governor Raj

KPK Mein Governor Raj

اتوار کی صبح 8 بجنے سے چند منٹ قبل یہ کالم لکھنے کو قلم اٹھالیا ہے۔ ہفتے کی سہ پہر سے مگر ریگولر اور سوشل میڈیا میں قیاس آرائی شروع ہوگئی تھی کہ ایوانِ صدر میں وزیر اعظم کی اپنے سینئر معاونین سمیت صدر مملکت سے ملاقات کے بعد "اہم فیصلوں" پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالات یا گورنر راج میں سے کسی ایک کے نفاذ کے بجائے ان دونوں کے چند اجزائے ترکیبی کے امتزاج سے ایک نیا نسخہ تیار کیا جائے گا۔ نسبتاََ پرامن اضلاع گورنر راج کی نگرانی میں چلائے جائیں گے۔ افغان دراندازی کی وجہ سے مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے اضلاع کو تاہم ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد وفاق کی جانب سے براہِ راست چلائے انتظام کے سپرد کردیا جائے گا۔

ہنگامی حالات اور گورنر راج کے منصوبے پر مشتمل نظام کا ذکر کئی دنوں سے اسلام آباد کے سازشی ڈرائنگ روموں میں ہورہا تھا۔ اس کے ٹھوس خدوخال مگر "آف دی ریکارڈ" بریفنگوں میں شریک ہوئے سینئرترین صحافی بھی سمجھنے اورہم عامیوں کو سمجھانے میں ناکام رہے ہیں۔ آئین کی شق 232اور 234کے امتزاج سے خیبرپختونخوا کے لئے جو حکومتی بندوبست متعارف کروایا جائے گا اس کے بارے میں تبصرہ آرائی کی لہٰذا گنجائش نہیں۔

حکومت اور تحریک انصاف کے مابین چند روز قبل دو دن اور 13گھنٹوں تک جاری رہے مذاکرات کے انجام پر لیکن ایک حقیقت عیاں ہوگئی تھی اور وہ یہ کہ خیبرپختونخوا میں اب آئینی معمول کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہیں رہا۔ جواں سال وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے مگر اس پیغام کا سیاسی جواب فراہم کرنے سے گریز کی راہ اختیار کی۔ 4اکتوبر سے وہ اپنے صوبے کے جنوبی اضلاع کے مختلف شہروں میں جاکر عوام کو اسلام آباد پر مارچ کے لئے تیار کررہے ہیں۔ ان کے مارچ کا مقصد اپنے قائد کی رہائی یا جیل میں آسانیاں فراہم کرنا بتایا جارہا ہے۔

اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاری کے لئے ہوئے سفر کے دوران گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کے انسپکٹر جنرل اور چیف سیکرٹری کو اپنے دفتر طلب کیا۔ انہیں امن وامان یقینی بنانے کے لئے ہدایات دیں۔ ان کی جانب سے بلائے اجلاس نے عملاََ خیبرپختونخوا میں گورنرراج نافذ کردیا۔

سیاسی منطق کا بنیادی تقاضا تھا کہ گورنر کی جانب سے اٹھائے اقدامات کے بعد سہیل آفریدی کوہاٹ سے پشاور پہنچتے ہی صوبائی کابینہ کے اجلاس کے فوراََ بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے۔ مجوزہ اجلاس کے دوران تحریک انصاف کی مخالف جماعتوں خصوصاََ جمعیت العلمائے اسلام کے لئے گورنر کے اٹھائے اقدامات کا دفاع ناممکن ہوجاتا۔ بتدریج یہ پیغام بھی اجاگر ہوسکتا تھا کہ شدید ترین باہمی اختلافات کے باوجود منتخب اراکین اسمبلی کی اکثریت ہنگامی حالات یا گورنر راج جیسے غیر معمولی اقدامات کی حامی نہیں۔

ایک منتخب ایوان کے ذریعے سیاسی مزاحمت کی راہ اختیار کرنے کے بجائے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ مگر اپنے صوبے کے دیگر اضلاع میں لوگوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے ممکنہ طورپر اٹھائے اقدامات کی عوامی مزاحمت کے لئے تیار کرنا شروع ہوگئے۔ تحریک انصاف کے متحرک سوشل میڈیا کی بدولت لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ عوام میں پرجوش پذیرائی کی بنیاد پر آفریدی وفاقی حکومت کو للکاررہے ہیں کہ اگر اس میں ہمت ہے تو ہنگامی حالات یا گورنر راج کا نفاذ کرکے دکھائے۔ مختلف وزراء کی جانب سے ہنگامی حالات یا گورنر راج کے ذکر کو یوں گیدڑ بھبکیاں ٹھہراتے ہوئے تمسخر کا نشانہ بنایا گیا۔

فرطِ جذبات میں یوٹیوب کی بدولت سوشل میڈیا پر چھائے "ذہن ساز" اس پہلو پر توجہ دینے میں ناکام رہے کہ تحریک انصاف اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات کے دوران حکومت نے نہایت ہوشیاری سے بیانیہ یہ تشکیل دیا کہ اسلام آباد پر تحریک انصاف کا لانگ مارچ مذاکرات کے ذریعے روکنا اس کی ترجیح نہیں۔ اسے روکنے کے لئے وہ ریاستی قوت کے استعمال کی کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ تحریک انصاف کے وفد سے مذاکرات کا بنیادی مقصد خیبرپختونخوا حکومت کو رضا مند کرنا ہے کہ وہ افغانستان میں فاتح کی طرح لوٹے طالبان کی جانب سے ہوئی دراندازی کے مقابلے کے لئے وفاقی حکومت کو بھرپور معاونت فراہم کرے۔ عمران خان کی رہائی یا ان کے لئے قید میں آسانیاں فراہم کرنے کے بجائے یوں مذاکرات کا بنیادی مقصد "قومی سلامتی" یقینی بنانے کے لئے تیار ہوئی حکمت عملی کی بھرپور حمایت کی تلاش بنادیا گیا۔

ریاست کے دائمی اداروں کی دہشت گردی کے خلاف تیار کی حکمت عملی سے اتفاق کے اظہار کے بجائے وزیر اعلیٰ آفریدی نے اس کی افادیت پر سوالات اٹھانا شروع کردیے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی مسلط ہوئے ایک سے زیادہ دہائی گزرچکی ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے متعدد آپریشن ہوئے۔ ان کے نتیجے میں امن کے طویل وقفے بھی آئے۔ خیبرپختونخوا کے باسیوں کی اکثریت مگر دہشت گردی کے خلاف لئے اقدامات کے نتائج سے بالعموم ناخوش ہے۔ اسے اپنے معمولاتِ زندگی میں خلل ڈالنے کا سبب تصور کرتی ہے۔ وفاقی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف تیار کردہ حکمت عملی پر سوالات اٹھاتے ہوئے سہیل آفریدی نے درحقیقت ان ہی جذبات کی ترجمانی کرنا چاہی۔ اپنی جذباتی تقاریر کی بدولت مگر "قومی سلامتی" کے حوالے سے ریاست کے دائمی اداروں کو وہ "غیر ذمہ دارانہ رویہ" اختیار کرتے محسوس ہوئے۔

اس کالم میں تواتر سے عرض کرتا رہا ہوں کہ ریاست کے دائمی اداروں اور سہیل آفریدی کی ترجیحات انہیں دو مختلف دنیائوں کا باسی دکھارہے ہیں۔ ایسے حالات میں آفریدی کے خلاف دائرہ تنگ ہورہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ بھی جبلی طورپر یہ ہی محسوس کررہے تھے۔ اسی باعث پشاور سے صوابی کا رخ کرنے کے بجائے وہ مردان اور چارسدہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ صوابی کے بجائے مذکورہ شہروں کے رخ نے اسلام آباد کو پیغام دیا کہ سہیل آفریدی اسے خبردار کررہے ہیں کہ اگر انہیں ہنگامی حالات یا گورنر راج کے ذریعے ہٹانے کی کوشش ہوئی تو خیبرپختونخوا کے گلی محلوں میں وفاقی حکومت کو عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا۔

وفاقی حکومت کے لئے یہ پیغام وصول ہونے کے بعد لازمی ہوگیا ہے کہ وہ حکومتی بندوبست پر اپنی کامل گرفت ثابت کرے۔ جو ہونے والا ہے اسے ٹالنا یہ کالم لکھتے وقت لہٰذا مجھے ممکن نظر نہیں آرہا۔ شکست خوردہ مگر جمہوری نظام کا رومان پرست حامی ہوتے ہوئے فقط اس خواہش کا اظہار ہی کرسکتا ہوں کہ کاش موجودہ حکومتی بندوبست کے تمام فریقین (تحریک انصاف سمیت) ایک ناخوش گوار صورتحال ٹالنے کے لیے مطلوب لچک دکھاسکتے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.