Wednesday, 19 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Pakistan Aise He Chalta Rahega

Pakistan Aise He Chalta Rahega

ویسے ایک دلچسپ بات نوٹ کریں اتنی فکر سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو ٹھوک بجا کر جیلوں میں رکھنے یا ڈالنے سے نہیں ہوتی جتنی ہماری عوام اور میڈیا ان کی فکر میں آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ سب رودالی بن جاتے ہیں۔ اتنی فکر اور تکلیف تو خدانخواستہ انہیں اپنے گھر والوں کی طبعیت خراب ہونے پر نہیں ہوتی جتنی حاکموں کی جیل یا بیماری پر ہوتی ہے۔۔

زرداری صاحب کو اپنے کارناموں پر جیل میں ڈالا جائے تو عوام اور میڈیا روئے گا، فریال تالپور کو پولی کلینک سے اڈیالہ جیل چاند رات شفٹ کیا جائے گا تو بھی سب سے پہلے میڈیا روئے گا، نواز شریف کی صحت جیل میں بگڑے گی تو بھی سب کی آنکھوں میں آنسو اور فوراََ ہسپتال شفٹ کرو کی دہائیاں، عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ ہوگا تو بھی اسی میڈیا اور عوام کی بے چینی قابل داد ہوگی۔۔

اب مزے کی بات ہے نواز شریف زرداری یا عمران خان کو نہ عوام جیل میں ڈالتی ہے نہ ان کی صحت خراب ہونے کی ذمہ دار ہے۔ ایک ملک کا تین دفعہ وزیراعظم رہا، دوسرا ایک دفعہ وزیراعظم رہا اور تیسرا دوسری دفعہ صدر بن گیا۔۔ یہ اگر ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈال کر اور جیل کی سہولتیں چھین کر خوش ہیں تو عوام اور میڈیا کیوں اتنے بے چین ہو جاتے ہیں؟

آپ کو ان سب کی اتنی فکر کیوں لاحق ہو جاتی ہے جتنی انہیں خود نہیں ہے۔۔ عمران خان نے کہا میں جا کر نواز شریف کی جیل سے اے سی اتار دوں گا، موجودہ حکمران کہتے ہیں خان کو مرضی کا ڈاکٹر یا علاج نہیں ملے گا اور وہ سب اس پیکج پر خوش ہیں تو عوام اور میڈیا کیوں تنگ ہیں؟

عمران خان وزیراعظم بنے تو نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف، حمزہ، شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، خواجہ آصف، سعد رفیق، سلمان رفیق سب جیل میں ڈالے گئے۔ اب شہباز شریف کی باری لگی تو عمران خان، بشری صاحبہ، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ جیل میں ہیں۔۔

خان واپس آیا تو وہ پھر ان سب کو جیل میں ڈال دے گا۔

لیاقت علی خان کے قتل سے بھٹو کی پھانسی سے بینظیر بھٹو کے قتل سے نواز شریف کو چودہ سال سزا سے عمران خان کو موجودہ سزا تک یہ کھیل جاری ہے اور رہے گا۔

یہ اقتدار کا کھیل ہے جس میں جان دینی بھی پڑتی ہے اور لینی بھی پڑتی ہے اور یہ سب اس اقتدار کے خطرناک کھیل کو انجوائے کرتے ہیں بس عوام اور میڈیا بیگانے کی شادی میں عبداللہ کی طرح ناچ ناچ کر دیوانے ہوئے پھرتے ہیں۔

بھائی یہ ان سب کا جیل آنا جانا ہسپتال منتقلی کی دہائیاں نیا تھوڑی ہے۔۔ یا پہلی اور آخری دفعہ ہے۔ زرا گھوڑے چھائوں میں باندھیں۔۔ چند برس پہلے اس وقت میڈیا کو نواز شریف کے علاج کی فکر تھی جب عمران خان وزیراعظم تھے، اب عمران خان کے علاج کی فکر ہے جب شہباز شریف وزیراعظم ہے۔

حالت یہ ہے ہمارے اپنے گھر میں کوئی کہہ دے بیٹا زرا دوائی لا دو تو ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا کہ ٹوئٹ کرنا ہے۔ نواز شریف اور خان کی بگڑتی صحت پر زبردست وی لاگ کرنا ہے۔ کسی اور بھائی کو کہہ دیں۔ وہ آپ کو ہسپتال لے جائے گا یا ڈاکٹر کے پاس۔۔

پہلے نواز شریف کی خاطر عمران خان کی مذمت ہوتی تھی اب خان کے لیے شہباز شریف کی مذمت ہوتی ہے۔۔

فیض صاحب کا جملہ یاد آگیا پاکستان ایسے ہی چلتا رہے گا۔۔ میڈیا اور عوام اپنے گھوڑے چھائوں میں باندھے۔۔ جتنی فکر وہ سب ان حاکم بننے کے شوقین خطروں کے کھلاڑیوں کے لیے کرتے ہیں، اس سے دس فیصد بھی اپنے لیے کرتے تو کہاں سے پہنچ جاتے۔۔

برسوں سے یہی وزیراعظم ہاوس، جیل اور ہسپتال منتقلی۔۔ کا کھیل دیکھ رہے ہیں جو ختم ہونے میں نہیں آرہا۔۔ نہ ہوگا~~وزیراعظم ہاوس سے جیل اور پھر وزیراعظم ہاوس۔۔

یہ وہ پیکج ہے جس پر ان سب حاکم بننے کے جنون میں مبتلا سیاستدانوں نے ڈاکٹر فاوسٹس کی طرح اپنی روح کا سودا Lucifer کے ساتھ خوشی خوشی سائن کررکھا ہے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.