Wednesday, 19 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Aik Baghi Ki Badolat Bartanvi Samraj Ka Yaad Ata Karofar

Aik Baghi Ki Badolat Bartanvi Samraj Ka Yaad Ata Karofar

وفاقی کابینہ کے مؤثر ترین وزیر داخلہ جناب محسن نقوی نے چند ہفتے قبل سرمایہ کاروں کی ایک تقریب سے خطاب فرمایا۔ اس کے دوران بندوبستِ حکومت کے حالتِ نزع میں پہنچ جانے کا اعلان کردیا۔ اس کے احیاء کے لئے نئے صوبوں یا چھوٹی انتظامی اکائیوں کے قیام کی تجویز دی۔ ان کی تجویز کو ریاست کے طاقتور ادارے کا پیغام سمجھتے ہوئے ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائے بے شمار ذہن سازوں نے چھوٹے صوبوں کے قیام کے فضائل بیان کرنا شروع کردئیے۔ یہ طے کرلیا کہ چھوٹے صوبے اب بن کے رہیں گے، اپنا نام چمکانے لگے۔ چند سیانوں نے مگر نقارچیوں کی صف میں شامل ہونے کے بجائے بندوبستِ حکومت کو عوام کی بھلائی کے لئے زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے لئے افلاطون کی طرح "جمہوریہ" کی تشکیل کے نسخے فراہم کرنا شروع کردئیے۔

حکومتی خدمات کو "عوام کی دہلیز" تک پہنچانے کے نسخے دریافت کرنے کو بے چین دورِ حاضر کے افلاطون ہمارے خطے کی تاریخ سے قطعاََ غافل نظر آئے۔ یہ بھول گئے کہ ہماری تاریخ میں حکومتوں کو جوابدہ بنانے کی روایت کبھی موجود نہیں رہی۔ سات سمندر پار سے آئے برطانیہ سے قبل کم ازکم آٹھ سو سال تک وسطی ایشیاء کے دلاور ہمارے حکمران رہے تھے۔ عوام کو ہمیشہ انہوں نے رعایا ہی تصور کیا جن کے فرائض جی حضوری تھی اور حقوق سے محرومی تقدیر کا لکھا ٹھہرائی جاتی تھی۔

دلاوروں میں سے چند نے اپنے "کارناموں" سے بہت نام کمایا۔ شیر شاہ سوری کی بنائی جرنیلی سڑک کو آج بھی فخر سے اسے یاد کرتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ پشاور کو بنگال تک ملانے والی سڑک کی تعمیر کے باوجود وہ ایسا حکومتی بندوبست فراہم نہ کر پایا جو اس کی موت کے بعد بھی لوگوں کو مطمئن رکھتا۔ اس کے انتقال کے بعد بلکہ مغل سلطنت بحال ہوگئی۔ اس کی بحالی کے نتیجے میں اکبر اعظم ملا۔ وہ اور اس کے نورتن آج بھی بندوبست حکومت کے نابغے تصور ہوتے ہیں۔

سوال اٹھتا ہے کہ ان کے فراہم کردہ نظام کے باوجود اکبرکے جاں نشین کو اپنے دربار کے باہر زنجیر عدل کیوں لٹکانا پڑی۔ دور دراز کے سفر کے بعد اس دور کے دارالحکومت پہنچ کر فریادی کو انصاف کی بھیک مانگنا پڑتی۔ زنجیر عدل کی موجودگی اس حقیقت کا اعتراف تھی کہ جہانگیر کی وسیع وعریض سلطنت میں ہر ایک کو انصاف بآسانی میسر نہیں۔ مغلوں کے لگائے صوبے دار ہی برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاملات طے کرتے رہے۔ ان کے دئے تحفوں (رشوت) نے انہیں بتدریج شاہ سے زیادہ سمندر پار سے آئے منافع خوروں کا وفادار بنادیا۔ مغلوں کے لگائے صوبے دار مغل سلطنت کے زوال کے دنوں میں بذات خود اودھ اور بنگال جیسے صوبوں کے خودمختار با دشاہ بن گئے۔ میسور حیدر علی اور سلطان ٹیپو کے حوالے ہوگیا اور حیدر آباد دکن آزاد خودمختار سلطنت کی شکل اختیار کرنے لگا۔

بادشاہت رعایا سے فقط مالیے کی توقع رکھتی ہے۔ گڈگورننس کے متلاشی فرصت میں تنہا بیٹھ کر دیانتداری سے سوچیں تو بآسانی دریافت کرلیں گے کہ گزشتہ چند برسوں سے ہمارے ہاں بھی جناتی انگریزی میں معاشی امور پر مضامین لکھنے والوں کی جانب سے اصرار ہورہاہے کہ ہم پاکستانی اجتماعی طورپر ٹیکس چور ہیں۔ اپنی آمدنی پر واجب ٹیکس ادا نہیں کرتے اور حکومت سے ہر سہولت کی توقع باندھتے ہیں۔ مبینہ ٹیکس چوری نے بالآخر پاکستان کو اس حد تک مقروض بنادیا ہے کہ ریاست اپنی آمدنی کا سب سے بڑا حصہ غیر ملکی قرضوں کا سود ادا کرنے میں خرچ کردیتی ہے۔

ریاست وحکومت کی جانب سے مبینہ طورپر چھپائی رقوم کا سراغ لگانے اور ان سے واجب ٹیکس لگانے پر اولین ترجیح دی جارہی ہے۔ اہداف مگر حاصل نہیں ہو پا رہے۔ حکومتی خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کو بے چین دانشوروں میں سے کسی ایک نے بھی ایسا مضمون نہیں لکھا جو سادہ الفاظ میں مجھ جاہل کو یہ سمجھاسکے کہ ملک میں نئے صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹوں کا قیام واجب الادا ٹیکسوں سے چھپائی رقوم کا سراغ لگانے میں کیسے مددگار ثابت ہوگا۔ ان رقوم پر واجب ٹیکس وصول نہ ہوپائے تو نئے صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹوں کے قیام کے لئے بھی ہمیں عالمی معیشت کے نگہبان اداروں -آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک- ہی سے مزید قرضے لینا ہوں گے۔

اسلام آباد کئی حوالوں سے پاکستان کا ایک اور صوبہ بھی تصور کیا جاسکتا ہے۔ دیگر صوبوں کے تناظر میں اس کا جائزہ لیں تو یہ ہمارے ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ قومی اسمبلی کے لئے اس شہر کو تین نشستیں دی گئی ہیں۔ صوبائی اسمبلی جیسی "عیاشی" اسے میسر نہیں۔ جنرل مشرف کے طویل اور مستحکم دورِ اقتدار میں "جعلی نہیں حقیقی جمہوریت" کے قیام کے لئے مقامی نظام حکومت متعارف کروایا گیا تھا۔ گڈگورننس کے چند متوالے اسے آج بھی حسرت سے یاد کرتے ہیں۔ اس کے اوصاف یاد کرتے ہوئے یہ حقیقت مگر فراموش کردی جاتی ہے کہ اسلام آباد کو جنرل (ریٹائرڈ) تنویر نقوی صاحب کے متعارف کردہ اس نظام سے محروم رکھا گیا تھا۔ ملک بھر میں ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی جیسے عہدے "سامراج کی نشانیاں " ٹھہراتے ہوئے ختم کردئیے گئے۔ ان کی جگہ ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز نے لے لی۔ اسلام آباد میں لیکن کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کا عہدہ برقرار رکھا گیا۔ شہر کو مقامی طورپر منتخب حکومت کے بجائے سی ڈی اے کا ادارہ ہی چلاتا رہا۔ دیہات اور مضافات "وفاقی حکومت" کی حیثیت میں کمشنر، ڈی سی اور اے سی کی توجہ کے محتاج رہے۔

"سامراج کی باقیات" بھلانے کو اسلام آباد ملک بھر کے لئے چھوٹے انتظامی یونٹوں کو شہریوں کی جانب سے منتخب کردہ حکومت کے ذریعے چلائے نظام کا مثالی ماڈل فراہم کرسکتا تھا۔ چھوٹے یونٹ کا قیام اور اسے بااختیار ضلعی حکومت کے ذریعے چلانے کے لئے یہ شہر ایک بہترین لیبارٹری تھا۔ اسے مگر "قومی تعمیر نو" کے لئے تیار ہوئے "مجرب نسخے" سے محروم رکھا گیا اور 14اگست 2026ء کی شام ایک "بگھی"کی بدولت ہم برطانوی سامراج کا کروفر یاد کرنے کو مجبور ہوگئے۔ وہ بگھی کیوں استعمال ہوئی اس کی تفصیلات بیان کرنے کا مجھ میں حوصلہ وہمت نہیں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.