Thursday, 23 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Akhri Lamhat Mein Azad Kashmir Ke Intikhabat Marhalawar Karane Ka Faisla

Akhri Lamhat Mein Azad Kashmir Ke Intikhabat Marhalawar Karane Ka Faisla

خالصتاََ انتظامی نقطۂ نگاہ سے دیکھیں تو آزادکشمیر کی موجودہ صورتحال میں مرحلہ وار انتخاب کا انعقاد معقول اور درست فیصلہ ہے۔ انتخابات ہمارے ہاں مگر بدقسمتی سے ہمیشہ مشکوک تصور ہوتے رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غلط یا صحیح بنیادوں پر عوام کی اکثریت میں یہ تاثر بیٹھ چکا ہے کہ انتخاب کے انعقاد سے قبل مقتدر ادارے یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ اب کی بار محاورے والی "ہما" کس کے سربٹھانا ہے۔ یہ طے کرلینے کے بعد فقط ووٹ ڈالنے کی رسم بنائی جاتی ہے۔ اس سوچ کے نتیجے میں چھڑی فارم 45,47کی بحث آج بھی حکومتی بندوبست کو اخلاقی اعتبارسے کمزور بنائے ہوئے ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ آزادکشمیر میں مرحلہ وار ہوئے انتخاب وہاں کئی مہینوں سے ہیجانی ہوئی صورتحال مزید بگاڑنے کا باعث ہوسکتے ہیں۔

آزادکشمیر میں گزشتہ کئی مہینوں سے ایک احتجاجی تحریک جاری ہے۔ ذاتی طورپر اسے دیانتداری سے میں حکومتی نااہلیوں کے خلاف ابھری ایک خود رو تحریک سمجھتا رہا۔ جو مطالبات اس تحریک نے مرتب کئے ان کی اکثریت عوام کی حکمرانی کا تقاضہ کررہی تھی۔ مقبوضہ کشمیر سے آئے مہاجرین کا آزادکشمیر کے جمہوری بندوبست میں حصہ لینے کا جو بندوبست وضع کیا گیا ہے اس کے بارے میں اٹھائے کئی اعتراضات بھی ہر حوالے سے واجب ہیں۔ ان کے لئے مختص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ مگر پاکستان کے اس مؤقف کی جڑیں ہلادیتا ہے جو قیامِ پاکستان سے کئی دہائیاں قبل قائم ہوئی ریاست جموں وکشمیرکے باسیوں کے حق رائے شماری پر اصرار کرتا رہاہے۔

تاریخی اعتبار سے ڈوگرہ راج کے تحت چلائی ریاستِ جموں وکشمیر ایک کثیر القومی اور کثیر اللسانی ریاست تھی۔ لداخ، وادیٔ کشمیر اور جموں جغرافیائی اور نسلی اعتبار سے مختلف علاقے ہیں۔ وادیٔ نیلم اور پونچھ کی انفرادی شناخت ہے۔ مختلف قوموں اور نسلوں میں بٹی ریاست کی بے پناہ اکثریت مگر مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ اسی باعث ہم پر اعتماد رہے کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہوئے استصواب رائے کے نتیجے میں ماضی کی ریاستِ جموں وکشمیر اپنی کامل جغرافیائی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کرے گی۔

ہم آج بھی کشمیریوں کے حق رائے شماری کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر سے آئے مہاجرین کے لئے مختص نشستوں سے دست برداری ہمارے تاریخی مؤقف کی بنیادیں ہلاسکتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے آئے مہاجرین کے لئے مختص نشستوں کے حوالے سے اٹھے قضیے کا پر خلوص مذاکرات کے ذریعے حل ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ جب تک معقول حل دریافت نہیں ہوتا تب تک آزادکشمیر کے موجودہ جمہوری بندوبست کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اس کے لئے انتخابی عمل کا انعقاد اور اس میں بھرپور شرکت ہی امید کی لو جلائے رکھ سکتی ہے۔

یہ سب بیان کرنے کے بعد انتہائی عاجزی سے خبردار کرنے کو مجبور محسوس کررہا ہوں کہ مرحلہ وار انتخابات آزادکشمیر میں پہلے سے موجود ہیجان کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اسے مزید بھڑکانے کا سبب ہوسکتے ہیں۔ مرحلہ وار انتخابات کا چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے اعلان کروانے سے قبل میری ناقص رائے میں لازمی تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں گرم جوشی سے حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس ہوتا۔ مذکورہ اجلاس کے دوران مرحلہ وار انتخابات کے ہر مثبت اور منفی پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ایسا لائحہ عمل تیار کیا جاسکتا تھا جو مرحلہ وار ہوئے انتخابات کی شفافیت کو یقینی بناتا۔ اس تاثر کو کافی حد تک ناقص ثابت کرتا کہ انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی مقتدر قوتیں یہ فیصلہ کرچکی ہیں کہ "اب کی بارکس سیاسی جماعت کو اقتدار میں لانا ہے"۔

بھارت میں کئی برسوں سے مرحلہ وار انتخابات ہورہے ہیں۔ ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے مگر وہا ں EVMاستعمال ہوتی ہیں۔ بھارتی عوام کی اکثریت کو اعتماد ہے کہ EVMکے ذریعے کاسٹ ہوئے ووٹ کو بدلنا ممکن نہیں۔ اسی باعث انتخاب کے تمام مراحل گزرجانے کے کئی روز بعد ان کے حتمی نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ ممکن نہیں۔ کیونکہ انتخابی عمل تین مراحل سے گزرکر 10اگست کو ختم ہوگا۔ پہلے مرحلے میں انتخابات میرپور کے لئے مختص نشستوں کے لئے ہوں گے۔ ان کے نتائج کا اعلان پولنگ ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد نہ ہوا تو لوگ یہ سوچنے کو اُکسائے جاسکتے ہیں کہ جو "بکسے بھرے گئے ہیں انہیں کسی خفیہ مقام پر لے جانے کے بعد مختلف نتائج سنوانے کے لئے بھراجارہا ہے"۔ ممکنہ تاثر کی نفی کیلئے پولنگ کا خاتمہ ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی نتائج کا اعلان ضروری ہے۔

نتائج کا پولنگ ختم ہونے کے بعد اعلان مگر شک وشبہ میں برسوں سے مبتلا عوام کو یہ سوچنے کو مجبور کرسکتا ہے کہ میرپور کے لئے مختص نشستوں کے جو نتائج آئے ہیں ان میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت ہی کو اقتدار دینے کا "فیصلہ" ہوچکا ہے۔ خواہ بے بنیاد وجوہات کے نتیجے میں ابھری اس سوچ کا اثرہم ہر صورت مظفر آباد کے لئے مختص نشستوں کے دوران ڈالے ووٹوں اور ان کے نتائج میں بھی دیکھیں گے۔

میرپور، مظفر آباد اور مہاجرین کی نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوجانے کے بعد آزادکشمیر اسمبلی کی اکثریتی نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوجائے گا۔ اس کے بعد فقط پونچھ کے لئے مختص چند نشستیں ہی رہ جائیں گی جہاں عوامی جذبات فی الوقت بہت بھڑکے ہوئے ہیں۔ میرپور، مظفر آباد اور مہاجرین کے لئے مختص نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوجانے کے بعد پونچھ میں عوامی جذبات مزید بھڑکائے جاسکتے ہیں۔ انتظامیہ انہیں ذہن میں رکھتے ہوئے 10اگست کے انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان بھی کرسکتی ہے۔ پونچھ کے باسیوں کو یہ اعلان انتخابی عمل سے باہر رکھتا محسوس ہوگا۔

بہتر تو یہی تھا کہ انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے سے قبل احتجاجی تحریک کو مذا کرات کے ذریعے ٹھنڈا کیا جاتا۔ مذاکرات کے ذریعے حل ڈھونڈنے کے بعد ہی انتخابی شیڈول کا اعلان ہونا چاہیے تھا۔ احتجاجی تحریک کا مناسب حل ڈھونڈے بغیر انتخابی شیڈول کا اعلان ہوگیا تھا تو آزادکشمیر کی ہر نشست پر پولنگ ایک ہی روز کروائے جانا یقینی بنانا چاہیے تھا۔ آخری لمحات میں انتخابات کو مرحلہ وار کروانے کا فیصلہ آزادکشمیر میں جاری ہیجان کو مزید سنگینی کی جانب دھکیل سکتا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.