Tuesday, 01 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Bani Pti Ke Liye Bazariya Cricket Aalmi Dabao Dalwane Ka Harba

Bani Pti Ke Liye Bazariya Cricket Aalmi Dabao Dalwane Ka Harba

آج تک سمجھ نہیں پایا کہ عاشقانِ عمران کا جنونی گروہ اپنے قائد کی طرز سیاست کے نقاد رہے مجھ ایسے صحافیوں کو ہر صورت ان کے دشمنوں کی صف میں کھڑا رکھنے کو بے قرار کیوں رہتا ہے۔ کرکٹ سے مجھے رتی بھر دلچسپی نہیں۔ اسی باعث لاعلم تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچوں کے ایک سلسلے کے لئے ان دنوں برطانیہ میں ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں کے توسط سے البتہ علم ہوا کہ کرکٹ کے عالمی طورپر مشہورگراؤنڈ لارڈ میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جو میچ ہوا تھا اس کے پہلے روز کے کھیل کے دوران لنچ بریک ہوئی تو سکائی سپورٹس نے وقفے کو اس وقت تک ہوئے کھیل پر تبصرے کے بجائے عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے کے لئے استعمال کیا۔

سکائی سپورٹس کی یہ پیش قدمی ہر حوالے سے حیران کن تھی۔ اندھی نفرت وعقیدت میں منقسم ہوئے ماحول میں بانی تحریک انصاف کے مداحین کو مذکورہ انٹرویو نے بہت شاد کیا۔ سینہ پھلاتے ہوئے سوشل میڈیا پر دعویٰ کرنا شروع ہوگئے کہ جیل میں مقید عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر ہوجانے کے بعد پاکستان کا بندوبستِ حکومت انہیں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے ایک حکم کے مطابق جیل سے ان کی ترجیح کے ہسپتال منتقل کرنے کو مجبور ہوجائے گا۔

بارہا اس کالم میں اعتراف کیا ہے کہ میں عمران خان صاحب کی طرز سیاست کا 2011ء میں مینارِ پاکستان تلے منعقد ہوئے خطاب کے بعد سے مستقل نقاد رہا ہوں۔ بانی تحریک انصاف نے میری تنقید کو درگزر کرتے ہوئے چند مشترکہ دوستوں کی وساطت سے مجھے رام کرنے کی کوشش بھی کی۔ دل مگر نرم نہ ہوا۔ نرمی کی گنجائش نکل سکتی تھی۔ سوشل میڈیا پر چھائے تلنگوں نے مگر تواتر سے مجھے لفافہ اور اخلاقی اعتبار سے بدکردار دکھاتے ہوئے ضدی بنادیا۔ جو تنقیدی رویہ اپنایا اس کی قیمت سوشل میڈیا پر بدنامی کی صورت وصول کی۔ 2018ء￿ کے انتخاب کے نتیجے میں بالآخر عمران خان صاحب وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان ہوگئے تو میں پہلا ٹی وی اینکر تھا جسے فارغ کروایا گیا۔

اپنی فراغت کو میں نے جذباتی اعتبار سے کیش کروانے کی کوشش نہیں کی۔ طاقتور اشرافیہ کے سرکردہ رہ نماؤں کی مسلسل تنقید کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور بطور کارکن صحافی میں اس کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہوں۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد اگرچہ یہ خیال اکثر ستاتا ہے کہ ہر حکومت کو ناراض کرنے کی عادت نہ اپنائی ہوئی ہوتی تو بڑھاپے میں روزانہ کی مشقت سے نجات مل جاتی۔ بہرحال اپنی فراغت کو رات گئی بات گئی گردانتے ہوئے بھلادیا۔ اسی باعث جنوری 2022ء کا آغاز ہوتے ہی اس کالم میں بیان کرنا شروع ہوگیا کہ عمران حکومت کو فارغ کرنے کی ہانڈی چڑھادی گئی ہے۔ اسے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنے کی گیم لگ چکی ہے۔ جو ہانڈی پک رہی تھی اس کے تواتر سے ذکرکے باوجود اس رائے کا اظہار بھی کرتا رہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اپنی آئینی مدت مکمل کرنے دی جائے۔ دو ٹکے کے رپورٹر کے مشورے مگر کوئی سنتا نہیں۔ ہونی بالآخر اپریل 2022ء کے مہینے میں ہوکر رہی۔

فاسٹ ٹریک اختیارکرتے ہوئے آج کے موضوع کی طرف آجاتے ہیں۔ چند دن قبل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے یہ حکم صادر کیا تھا کہ بانی تحریک انصاف کے طبی مسائل کے تفصیلی جائزے کے لئے انہیں سرکاری کے بجائے ان کی ترجیح کے نجی ہسپتال منتقل کیا جائے۔ جو فیصلہ ہوا اس پر کئی اعتراضات اٹھائے جاسکتے تھے۔ ماہر اور غیر جانب دار قانون دانوں کی جانب سے سمجھائے اعتراضات سن کر بھی لیکن ان کے ذکر کو مائل نہ ہوا۔ نہایت خلوص سے امید باندھی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ہوگا۔ حکومتوں کی مگر اپنی اکڑ ہوتی ہے۔ 20 اور 21اگست کی درمیانی رات بانی تحریک انصاف کو نجی ہسپتال کے بجائے سرکار کے پمز ہسپتال کچھ وقت کے لئے لے جاکر جیل واپس بھجوادیا گیا۔

حکومتی رویے کے خلاف بانی تحریک انصاف کی بہن نے توہین عدالت کی درخواست دائر کررکھی ہے۔ حکومت بھی سپریم کورٹ سے نظرثانی کی طلب گار ہے۔ قانونی باریکیوں سے نابلد ہوتے ہوئے بھی میں نے توقع باندھی کہ سپریم کورٹ حکومت کو اپنے حکم کی تعمیل کو مجبور کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی کے حوالے سے گزشتہ چند دنوں سے ذاتی مشاہدے میں آئے چند تجربات کی بنیاد پر یہ سوچنے کو مائل ہوا کہ بانی تحریک انصاف کو ان کے ترجیح کے ہسپتال منتقل کرنے کی "مشق" ہورہی ہے۔ ذہنوں کو اس کے لئے تیار کیا جارہا ہے۔

خالصتاََ ذاتی مشاہدات پر مبنی توقعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سکائی سپورٹس کی جانب سے پاک-انگلینڈ میچ کے لنچ وقفے کے دوران عمران خان کے بیٹوں کے نشر کئے انٹرویو نے مجھے حیران سے زیادہ پریشان کیا۔ سیاست کا دیرینہ طالب علم ہوتے ہوئے سوشل میڈیا کے ایکس پلیٹ فارم پر یہ پیغام لکھنے سے باز نہ رہ پایا کہ مذکورہ انٹرویو بانی تحریک انصاف کی جیل سے ہسپتال منتقلی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ ہفتے کے روز لکھے اس پیغام کو لاکھ سے زیادہ افراد نے دیکھا۔

منطقی بنیادوں پر میرے خدشات دور کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر چھائے تلنگوں نے یہ فتویٰ صادر کردیا کہ بانی تحریک انصاف کی "عالمی دباؤ" کے تحت جیل سے ہسپتال منتقلی رکوانے کے لئے میرے جیسے "ٹاؤٹ" متحرک ہوگئے ہیں۔ ضمیر فروشی نے مجھ جیسے ٹاؤٹوں کو پاکستانی ریاست کے تلخ حقائق کی مذمت تو دور کی بات ہے انہیں دیکھنے کے بھی ناقابل بنادیا ہے۔

اپنی مذمت سے میں بددل نہیں ہوتا۔ اس کی بلکہ عادت ہوگئی ہے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی رکوانے کے لئے "عالمی دباؤ" کا ایک ایک لمحہ تاہم بطور نوجوان رپورٹر آج بھی یاد ہے۔ "عالمی دباؤ" پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم کی جان بچانے کے کام نہیں ا?یا تھا۔ ان کی پھانسی کے بعد بیگم نصرت بھٹو طویل عرصہ تک کراچی کے گھر میں نظر بند رہیں۔ اس دوران ان کے پھیپھڑوں میں کینسر کے خدشات نمودار ہوئے۔ بیگم صاحبہ کی بگڑتی صحت کی خبر منظر عام پر آئی تو میں لندن میں تھا۔ وہاں مقیم جیالوں کا بے پناہ ہجوم بیگم صاحبہ کے تسلی بخش علاج کی راہ ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔

بیگم صاحبہ کی خوش بختی کہ بھٹو خاندان کے دیرینہ دوست اور پاکستان کے مشہور دندان ساز ڈاکٹر ظفر نیازی ان دنوں لندن میں جلاوطنی کے اذیت دہ ایام گزار رہے تھے۔ نہایت خاموشی سے انہوں نے مجھے اعتماد میں لے کر امریکہ کے چند اہم سینیٹروں کو خطوط لکھے۔ رازداری کی انتہاؤں کو چھوتے ہوئے بیگم صاحبہ کے ایکسرے اور میڈیکل رپورٹ بھی حاصل کرلیں۔ اسے بنیاد بناتے ہوئے لندن کی پکاڈلی سرکس کے قریب واقع ایک خستہ حال عمارت کی تیسری منزل پر دل کے مریض ہوتے ہوئے بھی وہ ہر صبح وہاں آتے اور "سیو بیگم نصرت بھٹو" مہم کسی جیالے کی مدد کے بغیر چلاتے رہے۔

میڈیا میں شوروغوغا سے اجتناب برت کر انہوں نے عالمی سطح کے چند رہ نماؤں کے توسط سے بیگم صاحبہ کی پاکستان سے علاج کی خاطر بیرون ملک منتقلی کی جس ثابت قدمی سے مہم چلائی اس کا عینی شاہد ہوں۔ خاموشی سے چلائی اس مہم نے بالآخر جنرل ضیاء کو بیگم صاحبہ کا علاج یقینی بنانے کے لئے بیرون ملک بھجوانے کا حکم دینے کو مجبور کیا تھا۔ حکومتوں سے نازک مواقعوں پر ریلیف کے حصول کے لئے لچک دکھانا بسااوقات لازمی ہوجاتا ہے۔ حکومت خواہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو "عالمی دباؤ" کے روبرو گھٹنے ٹیکنے کا تاثر روکنے کو ڈٹ جایا کرتی ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.