طویل وقفے کے بعد ان دنوں پاکستان میں "گڈ گورننس" یقینی بنانے کے لئے نئے انتظامی یونٹ بنانے کے علاوہ بااختیار ضلعی حکومتوں کے قیام کا بھی تواتر سے ذکر ہورہا ہے۔ سیاسی امور پر رائے دینا صحافت میں 40سے زیادہ برس گزارنے کے بعد اب وقت کا زیاں سمجھتا ہوں۔ دو ٹکے کے رپورٹروں کو ہماری اشرافیہ بے وقعت تصور کرتی ہے۔ ان سے جپھیاں ڈال کر ملتے ہوئے اگرچہ انہیں اس گماں میں مبتلا رکھتی ہے کہ وہ ان کی رائے کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ ہفتے میں لیکن پانچ دن مجھے یہ کالم لکھ کر پیٹ بھی توپالنا ہے۔ روایتی اور سوشل میڈیا پر ان موضوعات کو نظرانداز کرنا شروع کردوں گا تو یہ کالم کون پڑھے گا۔ نہایت سوچ بچار کے بعد فیصلہ لہٰذا یہ کیا ہے کہ عمر کے جس حصے میں داخل ہوچکا ہوں وہ شاید کتاب لکھنے کی مہلت فراہم نہ کرے۔ بہتر یہی ہے کہ بطور رپورٹر جن تجربات سے گزرا ان کا میڈیا میں زیر بحث موضوعات کی مناسبت سے ذکر کردیا کروں۔
مجھے خبر نہیں کہ ہمارے ہاں گڈ گورننس یقینی بنانے کے لئے ضلعی نظام کو بااختیار بنانے کے معاملے پر جو بحث چھڑی ہے اس کا حتمی نتیجہ کیا برآمد ہوگا۔ اس حوالے سے البتہ چند ذاتی تجربات بیان کردیتا ہوں۔
قیام پاکستان کے دس سے زیادہ سال گزرجانے کے بعد پیدا ہونے والی نسل سے تعلق رکھتا ہوں۔ قدیم لاہور کے بارہ میں سے ایک دروازے میں پیدا ہوکر بڑا ہوا۔ آٹھویں جماعت تک روزانہ اخبارات پڑھنے کی وجہ سے اپنے عمر کے حوالے سے سیاسی بلوغت کی جانب تیزی سے بڑھنا بھی شروع ہوگیا۔ بلوغت کی جانب بڑھتے ہوئے میں نے دریافت کیا کہ میرے آبائی محلے کی اکثریت قیام پاکستان کے بعد قائم ہوئی حکومتوں سے خوش نہیں۔ "اچھے وقتوں" کو یاد کرتے ہوئے ہمیشہ برطانیہ کے مسلط کردہ نظام کا اداسی سے ذکر کرتی ہے۔ مصر ہے کہ برطانوی دور میں قانون کی کامل حکمرانی تھی جو انگریزوں کے چلے جانے کے بعد بتدریج کمزور سے کمزور ترہورہی ہے۔ نصابی کتب میں پڑھائی "آزادی" کے ذکرکے تناظر میں محلوں کے بزرگوں کی رائے سن کرپریشان ہوجاتا۔ کالج پہنچنے تک "انقلابی" بھی ہوگیا اور سامراج سے نفرت جنون کی طرح ذہن میں سماگئی۔ محلے کے بزرگوں کے اس تاسف کو مگر ہمیشہ یاد رکھا جس کا اظہار برطانیہ کے مسلط کردہ بندوبستِ حکومت کے ذکر سے چھلکا کرتا تھا۔
1980ء کی دہائی کے آغاز میں مسلسل بے روزگاری سے تنگ آکر برطانیہ چلا گیا۔ سیاسی پناہ لینا مقصد نہ تھا۔ سوچا کہ وطن عزیز میں جمہوریت بحال ہونے سے قبل مزید تعلیم حاصل کرلوں گا۔ برطانیہ میں قیام کے دوران مجھے مقامی حکومتوں کے دفاتر سے مختلف مسائل کے حل کیلئے رجوع کرنا پڑا۔ وہاں کے صحت عامہ کے نظام نے بھی شدید متاثر کیا۔ ان تجربات سمیت وطن لوٹا تو چند ہی برسوں میں 1985ء کے انتخاب کے ذریعے جمہوریت بحال ہونے کا تاثر اجاگر ہونا شروع ہوگیا۔ اخبارات کے لئے بھی میں "تخریبی" نہ رہا۔ اسلام آباد کے مؤثر انگریزی اخبار میں نوکری مل گئی تو بتدریج سیاسی امور پر رپورٹنگ کی بدولت قومی اسمبلی کی کارروائی کے بارے میں پریس گیلری والا کالم بھی لکھنا شروع کردیا۔ محض رپورٹنگ کے علاوہ یہ کالم مجھے سیاسی معاملات پر رائے دینے کے مواقع بھی فراہم کردیتے۔
1990ء کے برس محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے آٹھویں ترمیم کے تحت میسر اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے برطرف کردیا تو نئے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف صاحب پہلی بار وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔ میں انہیں "جنرل ضیاء کی باقیات" شمار کرتے ہوئے ہمیشہ کڑی تنقید کی زد میں رکھتا۔ اس تنقید کی پاداش میں نوکری بھی گنوانا پڑی۔ بالآخر ایک اہم اخباری ادارے کے انگریزی اخبار سے وابستہ ہوگیا۔ پریس گیلری کے علاوہ اس اخبار کے لئے RSVPکے عنوان سے ایک اور کالم بھی لکھتا جو سفارتی تقاریب پر توجہ مرکوز رکھتا۔
1983ء سے سفارتی تقاریب پر انگریزی میں کالم لکھنے کی وجہ سے میرے بے شمار سفارتکاروں سے بے تکلف تعلقات قائم ہوگئے۔ ان میں سے اہم ترین تعلق برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر مارک لائل گرانٹ سے قائم ہوا۔ مارک لائل پور (فیصل آباد) بسانے کے عمل کے نگہبان لائل کا پوتا تھا۔ اسی سفارتکار نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ جنرل پرویز مشرف کے این آر او معاہدے کی راہ بھی ہموار کی تھی۔ پاکستان کے معاملات کے بارے میں وہ دیگر سفارتکارو ں کے مقابلے میں سب سے زیادہ باخبر تصور ہوتاتھا۔
مارک لائل گرانٹ کے ذکرکے بعد اصل قصے کی طرف لوٹتے ہیں۔ 1992ء کے وسط میں قومی اسمبلی میں نجی قانون سازی کے لئے مختص دنوں میں ہمیشہ کئی اراکین ایسی قراردادیں یا قانون متعارف کروانے کی کوشش کرتے جو اسلام آباد میں مقامی یا ضلعی حکومت کے قیام اور اسے مضبوط تر بنانے کا تقاضہ کرتے۔ عموماََ یہ قراردادیں نوازشریف کی مسلم لیگ کے متحرک اراکین کی جانب سے پیش ہوتیں۔ انہیں "جنرل ضیاء کی باقیات" سمجھتے ہوئے بھی میں تسلسل سے پریس گیلری میں اسلام آباد کو "سی ڈی اے کی افسر شاہی" سے آزاد کروانے کے لئے منتخب مقامی حکومت کے قیام پر جذباتی انداز میں مطالبہ کرنا شروع ہوگیا۔ ایسے کالم تواتر سے چھپ جانے کے تقریباََ تین ماہ بعد میں ایک سفارتکار کے ہاں دعوت میں مدعو تھا۔ وہاں رقص کا اہتمام بھی تھا۔ "آتش" ایک خوبرو یورپی خاتون کے ساتھ ڈانس کرنے میں محو تھا تو میرے کاندھے کو تھپک کر ہال میں داخل ہوئے مارک لائل گرانٹ نے مجھے روکا۔ خاتون سے مجھے اس نے الگ کرنے کی معذرت کی اور مجھے ہال سے باہر نکال کر لان کے ایک تاریک کونے میں کھڑا ہوگیا۔
وہاں پہنچتے ہی اس نے نہایت غصے سے بے تکلفانہ زبان استعمال کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ میں اسلام آباد "جیسے خوب صورت اور منظم شہر کو" اسلام آباد کی سی ڈی اے کے افسروں سے آزاد کروانے کی "حماقت" میں کیوں الجھ گیا ہوں۔ نام نہاد باخبر صحافی ہوتے ہوئے کیا میں اب تک یہ جان نہیں پایا کہ اس شہر کے لینڈ مافیا کے چند بڑے نام قومی اسمبلی میں اسلام آباد کے لئے منتخب مقامی حکومت کے لئے چلائی مہم کی سرپرستی کررہے ہیں۔ "اسلام آباد اگر سی ڈی اے سے آزاد ہوگیا تو لینڈ مافیا کے لوگ اس کی زمینوں پر قبضہ کرکے اس شہر کی فطری خوب صورتی تباہ کردیں گے"۔
مارک کے ساتھ معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے میں نے بھی تلخ مگر بے تکلف الفاظ میں اسے آگاہ کیا کہ بااختیار مقامی حکومتوں سے محبت میں نے برطانیہ میں قیام کے دوران پالی ہے۔ برطانیہ پارلیمانی جمہوریت کی ماں تصور ہوتا ہے۔ لندن اور مانچسٹر جیسے شہر مگر پارلیمان نہیں مقامی حکومتیں چلاتی ہیں اور ان کے میئر بسااوقات وزیر اعظم سے بھی زیادہ مقبول ہوجاتے ہیں۔ "برطانیہ اور تمہارے ملک میں بہت فرق ہے" مارک کا رعونت بھرا جواب تھا اور میں نے اسے متعصب نسل پرست پکارا جو پاکستانی عوام کو مقامی حکومتیں منتخب کرنے کے قابل نہیں سمجھتا۔
ہماری گفتگو کے دوران ہوئی تلخی کی وجہ سے میری اور مارک کی کئی مہینوں تک کامل دوری رہی۔ بالآخر ایک اور سفارتی تقریب میں اس نے ازخود مجھے ہیلو کہہ کر دوستی بحال کرلی۔ اسلام آباد کو سی ڈی اے کے افسروں کا غلام رکھنے کے لئے مارک کا اصرار لیکن آج بھی نہیں بھولا ہے۔ یہ فیصلہ اگرچہ آج تک نہیں کرپایا کہ ایسا سوچتے ہوئے وہ محض گورا نسل پرست تھا یا واقعتا اسلام آباد میں ضلعی حکومت کا قیام اس کی دانست میں اس شہر کی تباہی اور بدصورتی کا حتمی سبب ہوسکتا تھا۔