Tuesday, 01 September 2026
  1.  Home
  2. 92 News
  3. Qadir Khan Yousafzai
  4. Iran Par Musallat Jang Ka Chay Mahi Tazvirati Jaiza

Iran Par Musallat Jang Ka Chay Mahi Tazvirati Jaiza

اٹھائیس فروری 2026 کو جب امریکہ اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اور کاری ضرب لگانے کا آغاز کیا، تو واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں میں یہ خام خیالی رقص کر رہی تھی کہ محض چند روز کی بمباری اور مخصوص اہداف کا نشانہ ایرانی قیادت کا شیرازہ بکھیر دے گا۔ اعلیٰ سطحی قیادت کا خاتمہ، جوہری تنصیبات کی تباہی اور عسکری ڈھانچے کا انہدام اس مہم کے بنیادی مقاصد تھے۔ لیکن چھ ماہ گزرنے کے بعد، وہ تنازع جو ایک محدود "ڈیکیپیٹیشن" (قیادت کے سر قلم کرنے) کے دعوے سے شروع ہوا تھا، اب ایک ایسی ہولناک، طویل اور اعصاب شکن معاشی و تزویراتی جنگِ خندق میں تبدیل ہو چکا ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کا جغرافیہ، عالمی بحری تجارت کا بہاؤ اور طاقت کے توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس جنگ نے یہ تلخ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ محض جدید ترین ٹیکنالوجی اور بے پناہ عسکری قوت کے بل بوتے پر اب کسی ریاست کو مکمل طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

آج یہ جنگ خلیج فارس کی فضاؤں سے نکل کر معاشی ناکہ بندیوں، بحری گزرگاہوں کو ہتھیار بنانے اور امریکی ٹریژری کی ثانوی پابندیوں کے کٹھن میدان میں لڑی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں خلیجی ممالک بالآخر امریکی چھتری سے نکل کر اپنا خودمختار دفاعی بلاک تشکیل دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

گزشتہ چھ ماہ میں خطے نے بارود، خون اور بربادی کا ایک لرزہ خیز رقص دیکھا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران اور اس کے اتحادیوں پر 3580 سے زائد فضائی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ جوابی حملوں میں 2053 سے زائد بار اسرائیلی اور امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس بربریت کی سب سے بھاری قیمت لبنان کے عوام نے چکائی ہے جہاں خوفزدہ حزب اللہ کے قبل از وقت حملوں کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی لبنان پر چڑھائی کی، جس کے نتیجے میں 4350 لبنانی شہید اور ساڑھے بارہ ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ ایک وقت میں اسرائیل نے بیس فیصد لبنانی سرزمین پر قبضہ کر لیا تھا جو اب سمٹ کر چھ فیصد تک رہ گیا ہے۔

ایران میں بھی ساڑھے تین ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ اس کے ہائپرسونک میزائلوں نے اسرائیل میں 60 افراد اور خطے میں 18 امریکی فوجیوں کی جان لی۔ امریکہ اور اسرائیل نے جب دیکھا کہ جوہری تنصیبات (نتنز، فردو) کی تباہی سے نظام نہیں گرا، تو انہوں نے تبریز کے پیٹرو کیمیکل پلانٹس اور تہران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تاکہ عوام کو بغاوت پر اکسایا جا سکے۔

تاہم، اس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے زیرِ زمین "میزائل شہروں" سے سجیل اور خیبر شکن جیسے ٹھوس ایندھن والے میزائلوں اور 2500 کلومیٹر مار کرنے والے سومار کروز میزائلوں کی ایسی بارش کی جس نے امریکی انٹرسیپٹرز کے ذخیرے کو تیزی سے سکیڑ دیا۔

تہران میں مرکزی کمان کے بحران نے ایران کے "محورِ مزاحمت" کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔ شام، عراق، یمن اور لبنان تک پھیلا یہ منظم نیٹ ورک اب بقا کی انفرادی اور غیر مربوط جنگ لڑ رہا ہے۔ یمن میں حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے یہ کہہ کر خود کو براہِ راست جنگ سے نکالنے کی کوشش کی کہ "ایران اپنا دفاع خود کر سکتا ہے"، لیکن سعودی عرب کی جانب سے خطرات کے پیشِ نظر 20 جولائی کو اس کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ یمنی وزیرِ دفاع طاہر العقیلی نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دارالحکومت صنعا کی جانب پیش قدمی کا اشارہ دے کر حوثیوں کے لیے نیا داخلی محاذ کھول دیا ہے۔ عراق میں بھی خودمختار ملیشیاؤں نے بغیر کسی مرکزی کنٹرول کے امریکی تنصیبات پر حملے کرکے بغداد حکومت کو براہِ راست واشنگٹن کے عتاب کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔

اس دو طرفہ جنگ کا سب سے ہولناک عالمی اثر آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں نکلا ہے جس نے عالمی سپلائی چین کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ 2 مارچ کو ایران کی جانب سے اس 33 کلومیٹر تنگ آبی گزرگاہ کی بندش کے بعد، جہاں سے دنیا کا 38 فیصد تیل گزرتا تھا، بحری ٹریفک میں 95 فیصد تک کی تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔

کویت کی بندرگاہوں پر آمدورفت 85 فیصد اور متحدہ عرب امارات کی 68 فیصد تک گر چکی ہے، جبکہ سعودی عرب اپنے ریڈ سی پائپ لائن نیٹ ورک کی بدولت اس بحران سے نسبتاً محفوظ رہا۔ تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل کو چھونے کے بعد، عالمی کساد بازاری کو روکنے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے 400 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں پھینکا۔ اس عمل میں امریکہ کو اپنا اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) اپنی گنجائش کے محض 41 فیصد تک خالی کرنا پڑا، جو نومبر 1982 کے بعد کی کم ترین اور خطرناک ترین سطح ہے۔ ہرمز کی بندش سے سیمی کنڈکٹرز کی صنعت، جو ہیلیم گیس پر انحصار کرتی ہے، شدید بحران کی زد میں ہے۔

تیل کی برآمدات 1.8 ملین بیرل سے گر کر بمشکل پانچ لاکھ بیرل روزانہ رہ گئی ہیں اور ایران 90 فیصد افراطِ زر کے ساتھ ایک بدترین معاشی تباہی سے گزر رہا ہے۔ کاغذ پر یہ اعداد و شمار کسی بھی ریاست کے مکمل انہدام کی نوید معلوم ہوتے ہیں۔ اگست میں ٹریژری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ کے "آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ" کے تحت ایران کی ایوی ایشن، شپنگ اور ڈیجیٹل کرنسی پر کڑی پابندیاں تو لگیں، مگر واشنگٹن نے عالمی کساد بازاری کے خوف سے چین کے ان بڑے مالیاتی اداروں پر ہاتھ نہیں ڈالا جو ایرانی تیل کے خاموش خریدار ہیں۔ ایران نے اس امریکی کمزوری کو بھانپ لیا ہے۔

طاقت کے اس بے دریغ استعمال نے دراصل خود امریکی عسکری غلبے کی قلعی کھول دی ہے۔ امریکہ اپنے "تھاڈ" (THAAD) دفاعی نظام کا 80 فیصد اور "پیٹریاٹ" انٹرسیپٹرز کا نصف حصہ اس تنازع میں پھونک چکا ہے جسے دوبارہ بنانے میں دفاعی صنعت کو کم از کم تین سال درکار ہوں گے۔ بحری بیڑے "یو ایس ایس ابراہم لنکن" کے عملے کی ذہنی حالت بگڑ چکی ہے اور واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے جاپان سے "یو ایس ایس جارج واشنگٹن" کو بلا کر انڈو پیسیفک میں طاقت کا ایک خطرناک خلا پیدا کر دیا ہے، اندرونِ ملک ٹرمپ کی مقبولیت 33 فیصد پر آ چکی ہے۔ چھ ماہ طویل جنگ کا حتمی نتیجہ یہ ہے کہ خطے میں امریکی بالادستی کا سورج غروب ہو رہا ہے اور دنیا اب ایک نئی، کثیرالقطبی اور خودمختار علاقائی صف بندی کے طلوع ہونے کا تماشا دیکھ رہی ہے۔