تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ قوموں کے زوال اور جغرافیوں کے مٹنے کی داستانیں راتوں رات نہیں لکھی جاتیں۔ یہ ایک طویل، خاموش اور انتہائی اذیت ناک عمل ہوتا ہے۔ آج کل مقبوضہ مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض زمین کے چند ٹکڑوں کی بندر بانٹ کا شاخسانہ نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کی شناخت، تاریخ اور مستقبل کو زندہ درگور کرنے کا ایک ایسا منظم ریاستی منصوبہ ہے جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرمندہ رہ جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب ہم یروشلم سے متصل ای ون (E1) علاقے کی طرف دیکھتے ہیں، تو وہاں کھڑی کی جانے والی ہر نئی دیوار، ہر نیا بلاک، آزاد فلسطینی ریاست کے تابوت میں ایک نئی کیل کے مترادف نظر آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، لیکن بین الاقوامی سفارت کاری میں جس بے حسی اور منافقت کا مظاہرہ آج کل کیا جا رہا ہے، اس نے اس محاورے کو بھی مات دے دی ہے۔
اگست 2026 میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت 15 ممالک اور یورپی کمیشن کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے ای ون بستی کے منصوبے کے خلاف جاری ہونے والا سخت مشترکہ بیان بظاہر تو عالمی ضمیر کے جاگنے کی ایک نوید معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اس کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ دراصل اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ عالمی برادری مشرق وسطیٰ میں "دو ریاستی حل" کو بچانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ یہ مشترکہ بیان اور اس میں چھپے انتباہات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اسرائیل کی موجودہ دائیں بازو کی قیادت، بالخصوص وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے اقدامات محض روایتی دباؤ کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ ان کا حتمی ہدف فلسطینی اتھارٹی کا مکمل خاتمہ اور مغربی کنارے کو ایک ایسی کٹی پھٹی جغرافیائی جیل میں تبدیل کرنا ہے جہاں سے ریاست کا کوئی بھی تصور ابھر ہی نہ سکے۔
اس ساری کہانی کے تانے بانے سمجھنے کے لیے ای ون (East 1) علاقے کی جغرافیائی اور سیاسی حساسیت کا ادراک ناگزیر ہے۔ یہ مقبوضہ مغربی کنارے کا وہ تزویراتی علاقہ ہے جو مشرقی یروشلم اور غیر قانونی اسرائیلی بستی معالیہ ادومیم کے عین درمیان واقع ہے۔ اگر اسرائیلی حکومت اپنے اگست 2025 کے منصوبے کے تحت یہاں مزید رہائشی اکائیوں کی تعمیر میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو مغربی کنارہ شمال اور جنوب کے اعتبار سے دو حصوں میں کٹ جائے گا۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا جغرافیائی تسلسل ہمیشہ کے لیے دم توڑ جائے گا اور مشرقی یروشلم، جسے فلسطینی اپنے خوابوں کی تعبیر اور دارالحکومت مانتے ہیں، بقیہ مغربی کنارے سے مکمل طور پر کٹ کر رہ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی حلقوں میں ای ون منصوبے کو ایک عرصے سے وہ "ریڈ لائن" سمجھا جاتا ہے جس کے پار صرف تباہی ہے۔ 2005 میں کنڈولیزا رائس اور 2012 میں براک اوباما انتظامیہ نے بھی اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، لیکن آج سموٹریچ کا اسرائیل کسی بھی بین الاقوامی دباؤ کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔
اس سفارتی محاذ آرائی کے پس پردہ ایک اور خوفناک جنگ لڑی جا رہی ہے اور وہ ہے معاشی استحصال کی جنگ۔ نامور تھنک ٹینکس جیسے کہ 'الشبکہ' اور 'واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ' کے اعداد و شمار دل دہلا دینے والے ہیں۔ 1994 کے پیرس پروٹوکول کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسرائیلی حکومت نے اکتوبر 2023 کے بعد سے فلسطینیوں کے ٹیکس محاصل کی فراہمی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ محاصل، جو فلسطینی اتھارٹی کی کل آمدنی کا 60 فیصد بنتے ہیں، بے دردی سے روکے جا رہے ہیں۔ فروری 2026 تک روکے گئے اربوں ڈالر کے فنڈز اور محض غزہ کے نام پر کی گئی کٹوتیوں نے فلسطینی معیشت کو دیوالیہ پن کی کھائی میں دھکیل دیا ہے۔ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کے لالے پڑے ہیں اور بے روزگاری کی شرح 32 فیصد کی خوفناک حد کو چھو رہی ہے۔ رہی سہی کسر ایک لاکھ سے زائد فلسطینی مزدوروں کے لیبر پرمٹس کی منسوخی نے پوری کر دی ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، اسرائیلی وزیر خزانہ کی جانب سے فلسطینی بینکوں کے ساتھ لین دین پر اسرائیلی بینکوں کو حاصل استثنیٰ کو ختم کرنے کی دھمکیاں دراصل فلسطینی معیشت کے لیے ایک ایسی موت کا پروانہ ہیں، جس کے بعد مغربی کنارے میں معمول کی زندگی کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو جائے گا۔
آبادیاتی خدوخال کو زبردستی تبدیل کرنے کا گھناؤنا کھیل بھی پوری شدت سے جاری ہے۔ ای ون بستی کے علاقے میں مقیم تقریباً 3,700 فلسطینیوں، بالخصوص جہالین بدو قبیلے کی خان الاحمر جیسے دیہاتوں سے جبری بے دخلی معمول بن چکی ہے۔ سال 2026 میں ماہانہ 160 فلسطینیوں کا بے گھر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی قوانین، روم سٹیٹیوٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی دہائیاں نقار خانے میں طوطی کی آواز سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ لوگ جو 1948 اور پھر 1990 کی دہائی میں پہلے ہی ہجرت کا عذاب جھیل چکے ہیں، آج پھر ایک نئی دربدری کے دہانے پر کھڑے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
"دی ایلڈرز" جیسے موقر اداروں کی رپورٹس اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ جرمنی کا موقف دراصل یورپی یونین کی متفقہ پالیسی کے راستے کی سب سے بڑی دیوار ہے۔ یورپی یونین کا وہ سٹرکچرل نقص، جس کے تحت 'ایسوسی ایشن ایگریمنٹ' کو معطل کرنے یا کوئی بھی موثر فیصلہ لینے کے لیے 27 رکن ممالک کا مکمل اتفاق یا پھر کم از کم جرمنی جیسی بڑی آبادی والے ملک کی حمایت درکار ہوتی ہے، آج فلسطینیوں کے لیے ایک المیہ بن چکا ہے۔ جرمنی کی جانب سے اس "خاموش سفارت کاری" پر اصرار نے اسرائیل کو وہ استثنیٰ فراہم کر دیا ہے جس کی آڑ میں بستیوں کی تعمیر اور انسانی حقوق کی پامالیاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔
15 ممالک کا بیان، گو کہ ایک سفارتی سنگ میل سہی، مگر تاریخ کے اس کڑے موڑ پر محض لفظی مذمتیں اور سفارتی احتجاج مگرمچھ کے آنسوؤں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ جب تک ان بیانات کو ٹھوس عملی، تجارتی اور معاشی پابندیوں کی شکل نہیں دی جاتی اور جب تک کارپوریٹ اداروں کو غیر قانونی بستیوں میں سرمایہ کاری کرنے پر کڑے احتساب کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، اس وقت تک ای ون منصوبے کے بلڈوزر نہیں رکیں گے۔ اگر آج اس سرخ لکیر کو مٹنے دیا گیا، تو یہ محض مشرق وسطیٰ کے نقشے پر ایک اور فلسطینی گاؤں کے مٹنے کی داستان نہیں ہوگی، بلکہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بننے والے بین الاقوامی قانونی اور اخلاقی ڈھانچے کے منہ پر وہ طمانچہ ہوگا جس کی گونج آنے والی کئی دہائیوں تک پوری دنیا میں سنائی دیتی رہے گی۔