Monday, 17 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Qissa Kuch Awail e Umar Ke Qisson Aur 14 August Ke Awards Ka

Qissa Kuch Awail e Umar Ke Qisson Aur 14 August Ke Awards Ka

گزشتہ ہفتے کا آغاز ہوتے ہی پیر کی شام سے میرے لئے فکر مندی کے مراحل شروع ہوگئے۔ رات 8بجے کے قریب علم ہوا کہ ہمارے گھر میں بجلی کی عدم موجودگی کی وجہ لوڈشیڈنگ نہیں تھی۔ نہ ہی اس کا سبب اسلام آباد میں بجلی کی ترسیل کا نظام تھا۔ کوئی شخص ہمارے گھر کے باہر نصب نیٹ میٹر کی تاریں کاٹ کر لے گیاتھا۔ بجلی فراہم کرنا اس کے بعد آئیسکو کی ذمے داری نہ رہی۔ مجھے ہنگامی حالات میں تقریباََ بند ہوئی ایک دکان سے کاریگر بلانا پڑا۔ پسینے میں شرابور اس کے ساتھ تین سے زیادہ گھنٹے کھڑا رہا۔ نہایت لگن اور توجہ کے با وجود وہ بارہ بجنے سے چند لمحے قبل آدھے گھر کی بجلی بحال کرسکا۔ کامل نظام بحال کرنے میں منگل کی دوپہر 4 گھنٹوں تک ایک بار پھر بغیر بجلی کے رہنا پڑا۔

ذاتی پریشانیوں کے بارے میں اخبار ہی میں نہیں بلکہ دوستوں کے ساتھ ذکر سے بھی گریز کو ترجیح دیتا ہوں۔ نیٹ میٹرنگ سے گھروں تک بجلی لے جانے والی تاروں کی چوری میرے لئے مگر نئی بات تھی۔ اس کے بارے میں لکھنے کو مجبور ہوگیا۔ کالم چھپ گیا تو سوشل میڈیائی تلنگوں نے حسب عادت نہایت رعونت سے یاددلانا شروع کردیا کہ عام آدمی ایسے اذیت ناک تجربات سے دن میں کئی بار گزرتا ہے۔ میں نے صحافی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذاتی دُکھوں کا ڈھول بجانے کے لئے اخبار کو استعمال کیا۔

تلنگوں کے نفرت بھرے تبصروں کے باوجود 13اگست 2026ء کی صبح چھپے کالم کو قارئین کی کثیر تعداد نے نہایت شفقت سے پڑھا۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر آپ کے قارئین کی تعداد بیان کردی جاتی ہے۔ میں جان بوجھ کر تعداد کا ذکر نہیں کروں گا۔ محض یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہوں کہ حالیہ تین مہینوں میں جو کالم لکھے ہیں انہیں پڑھنے والوں کی کل تعداد سے بھی کہیں زیادہ اس ایک کالم کو پڑھا گیا۔

قارئین کی متاثر کن تعداد کے علاوہ اس کالم پر کمنٹ کرتے ہوئے اَن گنت افراد نے اپنے ساتھ بجلی کے تار چوری ہوجانے کے حوالے سے تلخ تجربات کابھی تفصیلی ذکر کیا۔ قارئین کی معقول تعداد اس رائے کا اظہار کرتی رہی کہ نیٹ میٹر کے ذریعے گھروں تک بجلی لے جانے والے تار محض منشیات کے عادی افراد ہی کاٹنے کے عادی نہیں۔ کراچی اور لاہور میں کئی گھروں سے تارہی نہیں میٹر ہی اکھاڑ لئے جاتے ہیں۔ میٹر چوری کرنے والے اس کے بعد آپ سے فون کے ذریعے رقم کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس کی ادائیگی کے بعد آپ کے گھر کے قریب ترین جگہوں کی نشاندہی کردی جاتی ہے جہاں زمین کھود کر چوری ہوئے میٹر کو بازیاب کیا جاسکتا ہے۔

ایسی وارداتیں نشے کی خوراک کے لئے بے قرار ہوئے فرد کے بس میں نہیں۔ پڑھے لکھے نوجوان منظم گروہ کی صورت ہی ان کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ مذکورہ کالم کی بدولت جو داستانیں سننے کو ملیں وہ ہوشربا تھیں۔ انہیں پڑھتے ہوئے میں شرمندہ ہوا۔ خود کو رپورٹر کہلوانے سے گھن آئی۔ یہ سوچتے ہوئے خود کی ملامت کرتا رہا کہ پیچیدہ سیاسی اور عالمی امور پر بقراطوں کی طرح تجزیاتی کالم لکھنے والا یہ قلم گھسیٹ عام افراد کے روزمرہ مسائل سے ناقابل معافی حد تک ناآشنا ہے۔ تلافی اب اسی صورت ممکن ہے کہ میں اس کالم میں دانشوری جھاڑنے کے بجائے روزمرہ مسائل کے بارے میں تواتر سے لکھاکروں۔

بطور رپورٹر اور صحافی اپنی کوتاہیوں کا ادراک ہوا تو 14اگست کی شام میرے کئی ساتھیوں کے لئے ایوان صدر سے تمغوں کا اعلان ہوا۔ ساتھیوں کے نام منظر عام پر آنا شروع ہوئے تو اعزاز سے محروم رہے کئی ساتھی تمغوں کے حقدار پائے دوستوں کی مذمت میں مصروف ہوگئے۔ شاید مجھے اشتعال دلانے کے لئے چند افراد نے واٹس ایپ کے ذریعے مجھے بھی یاد دلایا کہ میں تواتر سے اس کالم میں دعویٰ کرتا رہتا ہوں کہ 1975ء سے میں نے صحافت کے سوا کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ اگر میرا دعویٰ درست ہے تو کسی بھی حکومت نے مجھے آج تک صدارتی انعام کے قابل کیوں نہیں سمجھا۔

جعلی انکساری سے مجھے نفرت ہے۔ نہایت دیانتداری سے بیان کررہا ہوں کہ مجھے ایسے اعزاز کی تمنا کبھی نہیں ر ہی۔ یہ لکھنے کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ 14اگست کو اعزاز کے مستحق جن دوستوں کی فہرست کا اعلان ہوا ہے وہ اس قابل نہیں تھے۔ ان میں سے چند نام میری نگاہ میں اس کے ہر حوالے سے واجب بنیادوں پر مستحق تھے۔ دیگر کے اوصاف انہیں یا ان کے کام کو ذاتی طورپر نہ جانتے ہوئے بیان کرنہیں سکتا۔ اعزاز کے لئے نظرانداز ہوئے دوستوں سے التجا ہے کہ جس انداز میں اعزاز کے مستحق تصور ہوئے افراد کے میرٹ پر سوال اٹھائے جارہے ہیں وہ "انگور کھٹے ہیں " والا تاثر ہی اجاگر کرتے ہیں۔ صحافت کی ساکھ اور وقار گزشتہ کئی برسوں سے پاتال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ خدارا اس کی تھوڑی توقیر برقرار رکھنے کے لئے اپنا دل بڑا رکھیں۔

یہ عرض کرنے کے بعد آپ کو راز کی ایک بات بتانا ہے جو مضحکہ خیز حد تک بچگانہ محسوس ہوگی۔ میری اوائل عمری سے وابستہ کہانی ہے۔ اسے سن لینے کے بعد کسی اور کانہیں میرا ہی مذاق اڑایاجاسکتا ہے۔ یہ عرض کرنے کے بعد آپ کو بتانا ہے کہ سکول کے دنوں سے ریڈیو پاکستان لاہور اور اس کے پچھواڑے میں واقع پی ٹی وی سٹوڈیوز سے شناسائی شروع ہوئی تو مجھے ڈراموں اور فلموں کو پیشہ ورانہ انداز میں سمجھنے کی دھن سوار ہوگئی۔ میٹرک کا امتحان دیا تو نتیجے کا انتظار کرتے ہوئے سینمائوں میں دکھائی ہر فلم کو "پہلی ٹکٹ پہلا شو" کے جنون کے ساتھ دیکھتا۔

فلم دیکھنے کے بعد دوستوں کی محفل میں اس انداز میں تبصرہ کرتا جیسے مجھ سے بڑا فلمی نقاد دنیا میں موجود نہیں ہے۔ ریڈیو پاکستان لاہور کی کینٹین اور پی ٹی وی کے سٹوڈیوز میں نامی گرامی صدا کار اور اداکار جس انداز میں فلموں پر تبصرے کرتے ان کا غور سے مشاہدہ کرتا۔ اس کے بعد فلمی اخبارات اور رسالے بھی نہایت توجہ سے پڑھتا۔ اس کے علاوہ انگریزی کی کلاسیکی فلمیں دیکھے بغیران پر لکھے مضامین امریکی سنٹر کی لائبریری میں چند کتابوں کی مدد سے نہایت غور سے پڑھے۔ اپنے ہم عصروں میں ان کی وجہ سے معتبر فلمی نقاد تسلیم کیا جانے لگا۔

اس دوران غالباََ 1970ء میں "بازی" نامی فلم کی نمائش ہوئی۔ اس کا پہلا شو فقط اس لئے نہیں دیکھا کہ ندیم اور محمد علی اس فلم کے نمایاں اداکار تھے۔ میرے لئے اس فلم کی کشش نشو کے نام نے پیدا کی جواس دور کے دوسپراسٹار کے ساتھ اس فلم میں پہلی بار نمودار ہورہی تھی۔ فلم دیکھنے والے میرے ہم عمر دوستوں کو فلم پسند آئی مگر نشو کے کام سے متاثر نہ ہوئے۔ نہایت مفکرانہ انداز میں ان سے میں اختلاف کرتا رہا۔ مصر رہا کہ دوسپر سٹارز کے ساتھ پہلی بار کام کرتے ہوئے نشو نے کمال جرأت سے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ ایک کامیاب اداکارہ ثابت ہوگی۔ میرے ہم عمر دوستوں نے فرض کرلیا کہ نشو کا شاید میں کسی اور وجہ سے فین ہوگیا ہوں۔ میرا مذاق اڑاتے رہے۔ نشو مگر فلموں میں چل نکلیں۔ خوب نام کمایا۔

دو یا تین برس بعد مگر وہ مشہور کامیڈین رنگیلا کی بنائی ایک فلم میں نمودار ہوئی۔ رنگیلا اس فلم میں اس کا دیوانہ دکھایا گیا تھا۔ اس کے خوابوں کے حوالے سے نشو پرایک مشہور گانا بھی فلمایا گیا۔ جس میں وہ رنگیلا کو "سب تو سوہنیاں ہائے وے من موہنیاں، " والا گیت سناتی ہے۔ اس رول میں نشو کو دیکھ کر مجھے افسوس ہوا۔ اپنے ہم عصردوستوں کے سامنے دل میں موجود خفت کے باوجود اعتماد سے بتاتا رہا کہ ایک غیر ہیرو دِکھتے کامیڈین کے لئے ایسا گانا فلماتے ہوئے نشو نے اس وقت کی مشہور اور کامیاب مانی ایکٹریس ہوتے ہوئے بھی درحقیقت بڑے پن اور خوداعتمادی کا مظاہرہ کیا ہے۔

عرصہ ہوا اوائل عمری کی یہ کہانی بھول چکا تھا۔ نشو کے نام سے غافل ہوئے بھی تین دہائیاں گزر چکی ہیں۔ 14اگست کی شام مگر اس کا نام ٹی وی سکرین پر دیکھا تو یاد آگیا۔ یہ سوچ کر خوش ہورہا ہوں کہ اوائل عمری میں نشو کی پہلی فلم دیکھ کر ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ فلمی دنیا میں نام بنائے گی اور عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد درست ثابت ہوا۔ کوئی مانے یانہ مانے میں تو نشو کو 14اگست کے دن اعلان ہوئے انعام کا مستحق ٹھہرانے پر اصرارکروں گا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.