Saturday, 10 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Talaba Ka Ehtejaj Aur France Ke Asal Masail

Talaba Ka Ehtejaj Aur France Ke Asal Masail

فرانس کی سڑکوں پر آج کل جو دکھائی دے رہا ہے اِسے صرف طلبا کااحتجاج کہہ کر نظرانداز کرنا شاید ایک بڑی غلطی ہوگی کیونکہ اسکولوں سے شروع ہونے والی یہ بے چینی اب ایک وسیع ترسماجی اضطراب کی شکل اختیار کرچکی ہے ہزاروں نوجوانوں کے ساتھ اساتذہ، والدین اور مزدور تنظیمیں بھی سڑکوں پر ہیں مطالبات میں تعلیمی اِداروں کے لیے زیادہ وسائل، اساتذہ کی کمی کا خاتمہ، خستہ حال اسکولوں کی مرمت اور کلاسوں میں بڑھتے ہجوم کا مسئلہ نمایاں ہے مگر نوجوان صرف تعلیمی شکایات لیکرہی نہیں آئے بلکہ اُن کے احتجاج کی ایک بڑی وجہ مستقبل کی بے یقینی ہے جسے وہ اپنے سامنے دھندلا ہوتا دیکھ رہے ہیں بظاہر مسئلہ حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کا ہے مگر مطالبات کے پیچھے ایک اور بڑا سوال یہ موجود ہے کہ کیا فرانس اپنے نوجوانوں کوایک قابلِ اعتمادمستقبل دینے میں ناکام ہورہاہے؟ فرانس طویل عرصے سے ایک مضبوط فلاحی ریاست کی علامت رہا ہے لیکن اب قومی قرض جو جی ڈی پی کے 119 فیصدسے تجاوز کرچکاہے معاشی ترقی کوسُست کررہا ہے ملک کو بجٹ خسارے، مہنگائی، قوتِ خرید میں کمی، روزگار، رہائش اور صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہلوتوں کے دباؤ کا سامنا ہے حکومت کے لیے بجٹ خسارہ کم کرناایک مشکل امتحان بن چکا ہے2027 کے بجٹ میں اربوں یوروکی بچت تجاویز نے بھی عوامی اور سیاسی مزاحمت پیداکی ہے نوجوان طبقے کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ روزگارکہاں ہے، مناسب گھر کیسے ملے گا اور کیا ریاست اِن کے مستقبل کو وہ تحفظ دے سکے گی جس کا عشروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے؟ احتجاج ستمبر میں اسکولوں کے باہر طلبہ کی رکاوٹوں سے شروع ہواجو چند ہی ہفتوں میں ملک گیر صورت اختیار کرگیا چھ اکتوبر کواڑھائی لاکھ سے زیادہ افراد نے مختلف شہروں میں مظاہروں میں شرکت کی کئی مقامات پر پولیس اورمظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں اِ س دوران ہزاروں افراد گرفتاراوردرجنوں زخمی بھی ہوئے جس سے حکومت کے لیے صورتحال پیچیدہ ہوئی پُرامن طلبہ احتجاج اب امن و امان اور ریاستی اختیار کی بحث میں تبدیل ہورہا ہے۔

موجودہ طلبا احتجاج دراصل فرانس کے اندر بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی کی علامت ہے اگر حکومت اِسے محض امن و امان کا مسئلہ سمجھ کر طاقت سے دبانے کی کوشش کرتی ہے تو ممکن ہے احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو اور اِ س کا رُخ حکومت مخالف سیاست کی طرف ہوجائے۔ صورتحال اِس لیے بھی اہم ہے کہ فرانس میں اگلے سال اٹھارہ اپریل اور دومئی کو صدارتی ووٹنگ متوقع ہے موجودہ صدرایمانوئل میکروں اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد دوبارہ اُمیدوار نہیں بن سکتے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لوپین آئندہ صدرمنتخب ہو سکتی ہے کیونکہ فرانس کی مختلف سیاسی جماعتوں کے اُمیدوارمیرین لوپین سے ممکنہ مقابلے کے لیے متحد ہونے میں پس وپیش کا شکار ہیں اِس لیے انتہائی دائیں بازو کو اقتدار تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کوئی موئثر متبادل سامنے آنے کا امکان کم ہے فرانس ایک نئے دورمیں داخل ہونے والا ہے مہنگائی، روزگار، رہائش اور عوامی خدمات کے ساتھ مہاجرت سے جُڑے امیگریشن مسائل، قومی شناخت، سلامتی اور جرائم پہلے ہی انتخابی سیاست کے بڑے موضوعات ہیں دائیں بازوکی سیاسی قوتیں خاص طورپر امیگریشن کے مسئلے کو زیادہ شدت سے اُٹھا رہی ہیں ایسے میں نوجوانوں کا احتجاج انتخابی ماحول کو مزید گرماسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ فرانس میں ہونے والی بے چینی مسلمانوں کی جانب سے فرانس پر قبضے کی کوشش ہے یہ بیان ایک الگ اور خطرناک بحث کو جنم دیتا ہے کسی ملک کے پیچیدہ معاشی، تعلیمی اور سماجی بحران کو ایک مذہب یا پوری مذہبی برادری سے جوڑ نا مسئلے کو سمجھنے کی بجائے مزید اُلجھانے کے مترادف ہے اِس کا یہ مطلب نہیں کہ فرانس کو مہاجرت کے مسئلے پر بات کرنے کی ضرورت نہیں فرانس کو یقینی طورپر یہ طے کرنا ہوگاکہ وہ کتنے تارکینِ وطن کو قبول کر سکتا ہے اِن کے انضمام کا طریقہ کارکیا ہوگا، قومی سلامتی کیسے یقینی بنائی جائے گی اور ریاستی وسائل پر پڑنے والے دباؤ کوکس طرح منظم کیا جائے گافرانس امیگریشن اور قومی شناخت کے درپیش سوالات پربحث کرے لیکن بحث اور تعصب میں فرق ہوتا ہے کسی پالیسی پر تنقید اور کسی مذہب یاپوری کمیونٹی کو موردِ الزام ٹھہرانا ایک بات نہیں اگر ہر معاشی ناکامی، ہر سماجی بے چینی اور ہر سیاسی بحران کا ذمہ دار تارکینِ وطن یا مسلمانوں کو قرار دیا جائے تو فرانس کے حقیقی مسائل یعنی معیشت، تعلیم، روزگار، رہائش اور ریاستی خدمات نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے۔ عالمی رہنماؤں کے الفاظ عام لوگوں کے الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اُن کا ہر جملہ سرحدوں سے نکل کر معاشروں کے ذہنوں تک پہنچتا ہے اِس لیے عالمی قیادت پر ذمہ داری بھی زیادہ ہے اختلافات کو بیان کرنا سیاسی حق ہو سکتا ہے لیکن مذہبی اور نسلی تقسیم کو بڑھانے والے الفاظ امن کی کوئی خدمت نہیں کرتے فرانس کو اپنے مسائل کا حل ضرورتلاش کرنا ہوگا لیکن اُسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے مستقبل کی سیاست خوف کے گرد تعمیر کرے گا یا اصلاحات سے مثبت تبدیلیاں لائے گااگر نوجوانوں کو بہتر تعلیم، روزگار، رہائش اور سماجی تحفظ ملتا ہے تو بہت سے وہ سوال خود کمزور پڑ سکتے ہیں جو آج شناخت اور مہاجرت کی سیاست کو تقویت دیتے ہیں۔

فرانس کو اپنے مستقبل کے بارے بڑے سوال کاجواب تلاش کرناہے حکومت موجودہ احتجاج کو اگر صرف بائیں بازو کی سیاست، شرپسندی یا امن و امان کا مسئلہ قرار دیکر آگے بڑھتی ہے تو ممکن ہے کہ موجودہ حقیقی شکایات مزید گہری ہو جائیں دوسری طرف اگر احتجاج میں تشدد، سرکاری املاک کو نقصان یا پولیس پر حملے ہوتے ہیں تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی عمل داری قائم رکھے جمہوریت میں احتجاج کا حق لیتے ہوئے قانون کی پابندی لازمی ہے فرانس کیا معاشی مشکلات، مہاجرت، قومی شناخت اور سماجی عدم مساوات کے درمیان ایک نیا توازن پیداکرسکے گا؟ 2027 کاصدارتی انتخاب شاید اِس سوال کا فیصلہ کردے۔ دنیا پہلے ہی جنگوں، نفرتوں اور تقسیم سے تھکی ہوئی ہے ایسے میں عالمی رہنماؤں کو الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کرنی چاہیے جس احتیاط سے ریاستیں فیصلے کرتی ہیں معاشرے تعصب سے نہیں اعتماد سے مضبوط ہوتے ہیں تقسیم سے نہیں مکالمے سے آگے بڑھتے ہیں فرانس ہویا دنیا کا کوئی اور ملک، امن کا راستہ ایک دوسرے کوشکست دینے سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے سے نکلتا ہے۔