Saturday, 10 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Qaum Ki Qeemat Par Siasi Jeet Ki Tamanna

Qaum Ki Qeemat Par Siasi Jeet Ki Tamanna

مفتی ریاض عثمانی بڑے زندہ دل انسان ہیں، یہ بھائیوں کے بھائی اوردوستوں کے دوست ہیں، ان کاتعلق ہمارے آبائی ضلع بٹگرام سے ہے۔ روزی روٹی کی تلاش میں ہماری طرح یہ بھی ایک عرصے سے کبھی عرش پر، کبھی فرش پر، کبھی دربدراورکبھی تیرے درکے مراحل سے گزررہے ہیں پرگزرگزرواپس ایبٹ آبادہی آجاتے ہیں۔ دینی مسائل وتعلیمات کے سلسلے میں تولوگ ان سے رہنمائی لیتے رہتے ہیں لیکن سیاسی، سماجی اورمعاشی حالات پران سے رہنمائی لینے والوں کی تعدادبھی کچھ کم نہیں، یہ الگ بات کہ ہمیں کچھ رہنمائی دینے کے بجائے یہ ہمیشہ ہماری اوٹ پٹانگ باتیں اورتجزیے سن کرقہقے لگاتے ہیں۔

دودن پہلے چائے کی میزپرشرف دیدارنصیب ہواتومفتی صاحب ملک کے موجودہ حالات، پی ٹی آئی اور حکومتی رویوں پربڑے مایوس نظرآئے۔ فرمانے لگے۔ جوزوی صاحب ملک اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ معاشی مشکلات، عوام کی بڑھتی ہوئی پریشانیاں اور مستقبل کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال ایسے مسائل ہیں جن پر سنجیدگی، تدبر اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں وزعماؤکے طرزعمل کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملک کو درپیش چیلنجز ان کے لئے کوئی اہمیت ہی نہ رکھتے ہوں۔

ایک عام پاکستانی بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس وقت ملک کسی نئے بحران، سیاسی محاذ آرائی یا تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتالیکن اقتدار کے ایوانوں سے لے کر سیاسی لانگ مارچ و جلسوں تک ہر طرف ایک ہی منظر دکھائی دے رہاہے کہ اپنی بات پر اصرار، اپنی ضد پر قائم رہنے کا عزم اور مخالف کو کسی بھی قیمت پر نیچا دکھانے کی خواہش۔ یہ بیماری اس وقت اس قدرعام ہے کہ اللہ کی پناہ۔ جوزوی صاحب کیا ہمارے سیاسی رہنماؤں کو واقعی حالات کی سنگینی کا احساس نہیں یا پھر اقتدار اور سیاسی برتری کی خواہش نے ان کی ترجیحات کو اس قدر بدل دیا ہے کہ قومی مفاد پس منظر میں چلا جارہاہے؟

کپتان کے کھلاڑیوں اورحکومتی ترجمانوں کے ہاں شائدکہ مفتی صاحب جیسے لوگوں کی باتوں میں کوئی وزن نہ ہولیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہمارے حکمران ہیں یا تحریک انصاف والوں جیسے سیاستدان۔ سب اپنے مؤقف اورباتوں کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ حکومت اپنی پالیسیوں اور فیصلوں پر ڈٹی ہوئی نظر آرہی ہے تودوسری طرف تحریک انصاف بھی اپنے مطالبات اور سیاسی حکمت عملی سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے لیکن جب یہی اختلاف انا، ضد اور ہٹ دھرمی میں تبدیل ہو جائے توپھراس کے نتائج صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قوم کو ان کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ اختلاف کو دشمنی بنا لینا ہے۔ جمہوری معاشروں میں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے مخالف ضرور ہوتے ہیں مگر ریاست اور عوام کے بنیادی مفادات پر انہیں ایک دوسرے کا حریف نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی کپتان کے لئے ایک نہیں ہزارباراحتجاج کرے لیکن لاؤلشکرکولے کراسلام آبادپریلغارکرنے سے پہلے ملک وقوم کے حالات کوبھی ضروردیکھے۔ احتجاج ہرروزنہیں ہواکرتے یہ کونساطریقہ اورکہاں کی سیاست ہے کہ آپ ہردوسرے دن ملک مفلوج کرنے نکلیں۔ پورے صوبے میں ان کی حکومت ہے انہیں خودسوچناچاہئیے کہ احتجاج کے علاوہ انہوں نے صوبے میں کیاکیا؟

آج ایک عام شہری کو مہنگائی، روزگار، بجلی اور گیس کے بلوں، کاروباری مشکلات اور بچوں کے مستقبل کی فکر ہے مگرہمارے حکمران چاہے وہ صوبائی ہیں یاپھرقومی ان مسائل سے آزادوبے نیازہیں۔ ایک غریب باپ یہ سوچتا ہے کہ گھر کا خرچ کیسے پورا ہوگا، ایک نوجوان روزگار کی تلاش میں پریشان ہے اور ایک کاروباری شخص غیر یقینی حالات میں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پا رہا۔ ان حالات میں اگر قومی سیاست کا محور صرف اقتدار کی جنگ، سیاسی مقدمات، جلسے جلوس، جوابی بیانات اور ایک دوسرے کو شکست دینے کی تدبیریں بن جائیں تو عوام کے دلوں میں مایوسی پیدا ہوناپھر فطری بات ہے۔

کیا عوام نے اپنے نمائندے اس لئے منتخب کئے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں یا اس لئے کہ وہ ان کے مسائل حل کریں؟ کیا سیاسی قیادت کی ذمہ داری صرف حکومت حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا ہے یا ملک کو بحرانوں سے نکالنا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب آج ہر سیاسی رہنماء کو اپنے ضمیر سے پوچھنا چاہیے۔ ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ قومی مفاد میں پیچھے ہٹ جانا ہمیشہ شکست نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک قدم پیچھے ہٹنے سے تصادم کے کئی راستے بند ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنا ملک کو ایک بڑے نقصان سے بچا لیتا ہے۔

ہمارے سیاسی رہنماؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کسی ایک جماعت، ایک خاندان، ایک شخصیت یا ایک حکومت کا نام نہیں۔ یہ کروڑوں لوگوں کی امیدوں، قربانیوں اور مستقبل کا نام ہے۔ حکومت کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دے، سیاسی درجہ حرارت کم کرے اور اختلاف رکھنے والوں کے لئے بھی جمہوری گنجائش پیدا کرے۔ اسی طرح اپوزیشن باالخصوص تحریک انصاف کی کامیابی صرف احتجاج کی شدت یا حکومت کو دباؤ میں لانے سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ناپی جائے گی کہ اس نے قومی مسائل کے حل کے لئے کتنی سنجیدہ، ذمہ دار اور قابل عمل اقدامات اٹھائی، پھرپی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے کپتان کی رہائی کیلئے کیاکیا؟ والاسوال کوئی پوچھے یانہ لیکن یہ سوال ہرکوئی ضرور پوچھے گاکہ صوبے کے عوام کے لئے آپ نے تیرہ چودہ سالوں میں کیاکیا؟

اپناتومشورہ یہ ہے کہحکومت اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں فوری طور پر اپنی اپنی انا کے حصار سے باہر نکلیں۔ آپ کے معاملات اوراختلافات ختم کرنے کیلئے واضح اور سنجیدہ ماحول پیدا کیا جائے، کپتان کے علاج معالجے اورمقدمات سمیت تحریک انصاف کے دیگرمسائل پران کے جائز تحفظات سنے جائیں، آئینی حدود کا احترام کیا جائے اور ایسے قابل عمل نکات پر اتفاق کیا جائے جن سے سیاسی کشیدگی کم ہو۔ مذاکرات کو کمزوری اور مفاہمت کو شکست سمجھنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔ اختلافات کا حل طاقت کے مظاہرے، تلخ بیانات اور مسلسل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے، باہمی احترام اور آئینی طریقہ کار میں پوشیدہ ہے۔

مولانافضل الرحمن نے حکومت اورتحریک انصاف کے درمیان مفاہمت کیلئے جوکوششیں شروع کردی ہیں خداکرے کہ مولانااس میں کامیاب ہوں کیونکہ سیاسی محاذآرائی میں کسی کی ہاراورجیت ہویانہ لیکن دونوں صورتوں میں ملک وقوم کا نقصان ضرورہوتا ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ اگر ملک وقوم کے مفاد میں کسی کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑے تواسے ایک نہیں دو قدم پیچھے ہٹ جانا چاہیے کیونکہ جب بات و مفادملک وقوم کاہوتووہاں پھرضدواناکونہیں دیکھناچاہئیے۔ ہمارے نزدیک اصل کامیابی کسی سیاسی جماعت یاحکومت کی فتح نہیں بلکہ ملک وقوم کی کامیابی ہے۔ یادرکھیں جس سیاست میں ملک ہار جائے اس سیاست میں جیت پھرکسی کی نہیں ہوتی۔