Saturday, 19 September 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Sarkari Hospitals, Akhri Sahara

Sarkari Hospitals, Akhri Sahara

نجی ہاسپیٹل کی چمک اپنی جگہ مگر سچ یہ ہے کہ مشکل کی ہرگھڑی میں عوام کی اصل امید انہی سرکاری ہسپتالوں سے وابستہ ہوتی ہے جنہیں برابھلاکہتے ہوئے ہم نہیں تھکتے۔ چار سال پہلے کی بات ہے ہماراایک شیرخوار بھتیجا پیدائش کے ساتھ ہی آکسیجن کی کمی اور سانس کے مسئلے کا شکارہواجس کی وجہ سے اس کی حالت تسلی بخش نہیں تھی۔ اس لئے بہتر علاج کی امیدپرہم اسے ایبٹ آباد کے ایک بڑے نامی گرامی چلڈرن ہسپتال میں داخل کرگئے۔

ہسپتال کے اخراجات بھاری تھے لیکن ہمیں امید تھی کہ جدید سہولیات، ماہر ڈاکٹرزاور اچھے انتظامات بچے کو زندگی کی طرف واپس لے آئیں گے۔ جب تک بچے کی سانس چلتی رہی وہاں اخراجات بھی نوٹ ہوتے رہے مگرپھر جب ڈاکٹروں کو محسوس ہوا کہ بچے کوجوسہولیات درکار ہیں وہ یہاں نہیں۔ ہمیں کہا گیا کہ بچے کو فوراً ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل کریں کیونکہ وہاں وہ سہولیات دستیاب ہیں جوہمارے پاس یہاں نہیں۔ وہ لمحہ ہمارے لئے محض ایک طبی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایساسبق تھاجس نے ہماری بہت سی خوش فہمیاں اورغلط گمانیاں ایک لمحے میں دورکردیں۔

جس نجی ہسپتال کو ہم بہتر، جدید اور محفوظ سمجھ کر گئے تھے آخرکاراسی نے ہمیں ایک سرکاری ہسپتال کا راستہ دکھادیا۔ تب اندازہ ہوا کہ سرکاری ہسپتال صرف غریب شخص کی مجبوری نہیں بلکہ مشکل وقت میں یہ ہر طبقے کے انسان کا سہارابھی ہیں۔ ہم عام حالات میں سرکاری ہسپتالوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ رش، لمبی قطاریں، انتظامی کمزوریاں، صفائی، ادویات اور سہولیات کی کمی جیسے مسائل میں ہمارے گلے اورشکوے بجابھی ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب گھر کا کوئی فرد شدید بیمار پڑ جائے، جب ایمرجنسی دروازے پر کھڑی ہو اور جب علاج کے اخراجات انسان کی استطاعت سے باہر ہونے لگیں تو پھر ہماری نظریں انہی سرکاری ہسپتالوں کی طرف اٹھتی ہیں۔ کیونکہ یہی سرکاری ہسپتال ہی ہمارے لئے پہلی امیدکے ساتھ آخری سہارابھی ہیں۔

ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آبادکاشمارانہی سرکاری ہسپتالوں میں ہوتاہے جوآج بھی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے لئے امیدکی پہلی کرن اورزندگی کاآخری سہاراہے۔ تقریباًدوہزاربیڈزپر مشتمل یہ ہسپتال نہ صرف ہزارہ بلکہ ملک کاایک بڑاسرکاری اورتدریسی ہسپتال ہے۔ یہاں ہزارہ سمیت کشمیر، گلگت اورصوبے کے دیگراضلاع اورعلاقوں سے بھی لوگ علاج کیلئے آتے ہیں۔ یہاں ایمرجنسی، انتہائی نگہداشت، آپریشن تھیٹرز، ریڈیالوجی، لیبارٹری، بلڈ بینک سمیت میڈیکل کی تقریباًتمام سہولیات موجود ہیں۔

کوئی سرکاری ادارہ مسائل سے پاک نہیں یقیناً یہاں بھی مسائل ہوں گے مگرپچھلے چندسالوں میں اس ہسپتال نے صحت کے میدان میں جوانقلابی اقدامات اٹھائے ہیں وہ نہ صرف قابل تعریف بلکہ باعث فخربھی ہیں۔ نفسانفسی کے اس دورمیں ایوب میڈیکل کمپلیکس کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل اوران کی ٹیم نے وہ چراغ جلائے ہیں جن کی روشنی آنے والے وقتوں میں بہت دورتک پھیلے گی۔ ڈاکٹرعابدجمیل جوملک کے ایک معروف ومشہورانکالوجسٹ سپیشلسٹ ہیں اورصحت کے اداروں میں انتظامی امورکااچھاخاصاتجربہ اورساکھ رکھتے ہیں کو 2024 میں ایبٹ آبادکمپلیکس کے بورڈآف گورنرزکی سربراہی سونپی گئی۔

ان کے دور میں آئی بی پی کو مزید منظم اور مؤثر بنانے، شام و رات کے اوقات میں ڈاکٹروں کی موجودگی ودستیابی کویقینی بنانے، ایمرجنسی آپریشن تھیٹر کو چوبیس گھنٹے فعال رکھنے، نیورو سرجری کی آپ گریڈیشن، نئی سی ٹی سکین مشین کی انسٹالمنٹ، کارڈیک اوٹی کی تعمیر اور دیگر شعبوں میں بہتری لانے کے لئے بلاکسی شک وشبہ کے خاطرخواہ اقدامات کئے گئے ہیں کیونکہ اس ہسپتال کے میڈیامنیجرسیف اللہ راجپوت جن کاصحافت سے تعلق رہاہے ہمارے ایک اچھے دوست ہیں جن سے وقتاًفوقتاًہسپتال کے بارے میں بات ہوتی رہتی ہے۔ درحقیقت سرکاری ہسپتالوں کی اصل کامیابی کسی خوبصورت عمارت یا بڑی مشین کا نام نہیں۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ جب ایک عام آدمی اپنے مریض کو لے کر ہسپتال پہنچے تو اسے علاج کے لئے پھردر در نہ پھرنا پڑے۔ ڈاکٹرعابدجمیل نے اپنی محنت، دیانت اورمثالی قیادت سے ایبٹ آبادکمپلیکس کوجدیدسہولیات سے آراستہ کرکے یہ ثابت کردیاہے کہ ایک اچھا ڈاکٹر اپنے مریض کا علاج کرتا ہے لیکن ایک اچھا منتظم اور درد دل رکھنے والا رہنماء پورے ہسپتال کانظام اورنقشہ بدل دیتاہے۔ سرکاری ہسپتالوں اوراداروں کو صرف بجٹ نہیں بلکہ سمت بھی چاہیے۔ انہیں صرف مشینیں نہیں چلانے والے ماہر لوگ بھی چاہئیں اور سب سے بڑھ کرڈاکٹرعابدجمیل کی طرح ایسے لوگ چاہئیں جو سرکاری ہسپتالوں کو محض ایک ملازمت یا عہدہ نہیں بلکہ عوام کی ایک امانت کے طورپردیکھیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اگر سرکاری ہسپتالوں کو ڈاکٹر عابد جمیل اور اے ٹی ایچ کے بورڈ آف گورنرز کے ارکان جیسے لوگ میسر آجائیں توہمارے یہ سارے سرکاری ادارے دنیا کے لئے مثال بن سکتے ہیں کیونکہ ہسپتال ہویاکوئی اورسرکاری ادارہ یہ صرف بجٹ سے نہیں بنتااصل ادارے توانسان اپنی محنت اوردیانت سے بناتے ہیں۔ ایک دیانت دار اور قابل قیادت محدود وسائل میں بھی سمت درست کرسکتی ہے جبکہ کمزور انتظامیہ بڑے بجٹ کو بھی غیر مؤثر بنا سکتی ہے۔

ہمیں سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں اپنی سوچ بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہر خرابی کو بنیاد بنا کر پورے نظام کو ناکام قرار دینادرست نہیں اور خامیوں سے صرف نظر کرنا بھی مناسب نہیں۔ ہمیں دونوں باتیں ایک ساتھ ماننی ہوں گی۔ سرکاری ہسپتالوں میں مسائل موجود ہیں لیکن انہی ہسپتالوں کی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ اگر حکومتیں سرکاری ہسپتالوں کو سیاسی اعلانات کے بجائے مستقل پالیسی، مناسب فنڈنگ، جدید ٹیکنالوجی، میرٹ پر تقرریوں، شفاف انتظام، ماہر قیادت اور مسلسل نگرانی دیں تو یہی ادارے عوام کے لئے حقیقی سہارا بن سکتے ہیں۔ ہمیں اس دن کا انتظار نہیں کرنا چاہیے جب ہمارے اپنے گھر کا کوئی فرد ایمرجنسی میں ہو اور ہمیں معلوم ہو کہ نجی ہسپتال کی فیس ہماری پہنچ سے باہر ہے۔ اس دن ہمیں یاد آئے کہ شہر کا وہ سرکاری ہسپتال جسے ہم برسوں سے تنقید کا نشانہ بناتے رہے دراصل ہماری سب سے بڑی اجتماعی ضرورت تھا۔

چار سال پہلے ہمارے لئے ایوب میڈیکل کمپلیکس محض ایک سرکاری ہسپتال نہیں رہا تھا۔ وہ اس وقت ایک ایسی امید بن کر سامنے آیا تھا جس کی قیمت شائدکسی نجی ہسپتال کے بل سے نہیں لگائی جاسکتی۔ اس لئے سرکاری ہسپتالوں کو نظرانداز نہیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بیماری امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتی، حادثہ کسی کا معاشی پس منظر نہیں پوچھتا اور ایمرجنسی یہ نہیں دیکھتی کہ مریض کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ ایسے میں ریاست کا مضبوط سرکاری ہسپتال دراصل صرف ایک عمارت نہیں ہوتابلکہ وہ اس یقین کا نام ہوتا ہے کہ مشکل کی آخری گھڑی میں بھی کوئی دروازہ ایسا موجود ہے جہاں عام آدمی امید لے کر پہنچ سکتا ہے۔ ہم نجی شعبے کی مخالفت نہیں کر رہے۔

نجی ہسپتال بھی صحت کے نظام کا اہم حصہ ہیں اور بہت سے ادارے بہترین طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں لیکن ایک ریاستی نظامِ صحت کی بنیاد مضبوط سرکاری ہسپتالوں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ سرکاری ہسپتالوں میں جدید مشینری، تربیت یافتہ عملہ، ادویات، تشخیصی سہولیات، ایمرجنسی سروسز، آئی سی یو، کینسر اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کی سہولیات بہتر ہوں گی تو اس کا فائدہ صرف ایک مریض کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ملے گا۔ اسی لئے سرکاری ہسپتالوں کو صرف عمارتیں نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ریاست کی اجتماعی ذمہ داری اور عوام کی مشترکہ ملکیت ہیں۔