کئی کنال پرمشتمل وہ میدان کافی حدتک بھر چکا تھا لیکن دور دراز سے آنے والے لوگوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری تھا۔ جنازے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا کہ اچانک رونے، چیخنے اور چلانے کا ایسا شور اٹھا کہ جس نے دلوں کوچیر کے رکھ دیا۔ ہرآنکھ اشک باراوروہاں موجودسب کے چہرے غم سے نڈھال تھے۔ اس دن فضا میں ایک ایسی اداسی تیر رہی تھی جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اسی ہجوم میں قاری ضیاء القاسمی بھی کچھ دور کھڑے تھے جوتابوت کو دیکھتے ہی معصوم بچوں کی طرح ہچکیاں لیتے ہوئے کہنے لگے جوزوی صاحب دیارغیر سے آنے والے یہ تابوت مجھ سے دیکھے نہیں جاتے۔
یہ صرف ایک جملہ یاایک شخص کا دکھ اوردردنہیں تھایہ اس پورے معاشرے کا دکھ اورغم ہے جو اپنے جگرکے گوشوں کو روزگار کی تلاش میں سمندر پار بھیجتاہے اور پھرانہی جگرگوشوں وپیاروں کے تابوت ایئرپورٹ سے وصول کرتا ہے۔ پھگوڑہ کے رہائشی شاہد بھی انہی بدنصیبوں میں سے ایک تھے۔ پردیس میں محنت مزدوری کے لئے جانے والے شاہدپردیس میں ہی اچانک دنیا سے رخصت ہوگئے۔ جوانی کی عمر، زندگی کے خواب، گھر والوں کی امیدیں اور بچوں کے مستقبل کے منصوبے۔ سب کچھ ایک لمحے میں موت کے سامنے بے معنی ہوکررہ گئے۔ جس شخص کے گھر والے اس کے ہاتھوں میں موبائل، گھڑی، کپڑے اور بچوں کے کھلونے دیکھنے کے منتظر تھے وہ خود تابوت میں لاش بن کرواپس آگئے۔ یہ سات سمندرپارسے آنے والانہ کوئی پہلاتابوت ہے اورنہ آخری۔
حالیہ عرصے میں بیرون ممالک سے مزدوروں کے پے درپے جتنے تابوت پاکستان میں آئے انہیں دیکھ کردل پھٹنے لگتاہے۔ اس سے بڑا المیہ اورغم بھی کوئی ہوسکتا ہے؟ اس ملک میں لاکھوں گھر ایسے ہیں جہاں کسی بیٹے، بھائی یا شوہر کے پردیس جانے کے بعد گھر کی نظریں ہر وقت دروازے پر لگی رہتی ہیں۔ ماں کو انتظار ہوتا ہے کہ بیٹا کب واپس آئے گا۔ بیوی سوچتی ہے کہ شوہر کب بچوں کو گلے لگائے گا۔ بچے کیلنڈر پر دن گنتے ہیں کہ بابا کب آئیں گے۔ کبھی فون پر آواز آتی ہے، کبھی ویڈیو کال پر چہرہ دکھائی دیتا ہے اور کبھی کسی تہوار پر گھر واپسی کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
گھر والے یہ نہیں چاہتے کہ ان کا پیارا ہمیشہ پردیس میں رہے۔ وہ تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ سلامت رہے، محنت کرے، کچھ کمائے اور ایک دن اپنے گھر واپس لوٹ آئے لیکن بعض گھروں میں یہ انتظار اچانک ختم ہوجاتا ہے۔ دروازے پر دستک ہوتی ہے مگر باہر کھڑا شخص اپنا نہیں ہوتا۔ فون بجتا ہے تو دوسری طرف کسی اجنبی کی آواز ہوتی ہے اور پھر معلوم ہوتا ہے کہ جس بیٹے کے ہاتھوں میں کبھی سامان کے بھرے ہوئے سوٹ کیس دیکھنے کی خواہش تھی اس کا تابوت پہنچنے والا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب گھر کی دیواریں بھی جیسے ماتم کرنے لگتی ہیں۔
ماں کے لئے بیٹے کی موت کا غم ویسے ہی ناقابل برداشت ہے مگر جب بیٹا اس کی آنکھوں سے ہزاروں میل دوردیار غیر میں مرے تو اس دکھ کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اکثراوقات کئی بدقسمت مائیں سفری مشکلات اورمسائل کے باعث پردیس میں مرنے والے اپنے بیٹے کا آخری چہرہ بھی نہیں دیکھ پاتی، میلوں دورہونے کی وجہ سے زندگی کے آخری لمحوں میں اس کے پاس نہیں ہوتی، ماں نہ اس کا ہاتھ تھام سکتی ہے اورنہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر سکتی ہے۔ وہ جگرگوشہ اوردل کاٹکڑااپنوں سے دورسفرآخرت پرروانہ ہوجاتاہے اوراس کے پاس اپناکوئی نہیں ہوتا۔ اپنوں کے پاس تووہ پھرکبھی نہیں آتالیکن اس کاایک تابوت آجاتا ہے۔
وہ تابوت صرف ایک لاش نہیں لاتا۔ وہ اپنے اندر ایک خاندان کے ٹوٹے ہوئے خواب، بچوں کا چھینا ہوا بچپن، ماں کی اجڑی ہوئی گود اور ایک عورت کی پوری زندگی کا دکھ لے کر آتا ہے۔ شاہد کے جنازے میں بھی ایسے ہی مناظرتھے۔ اپنے تھے یا بیگانے سب دھاڑیں مارکررو رہے تھے۔ کسی کی آنکھ خشک نہیں تھی۔ کوئی گریبان کھول کر رو رہا تھا، کوئی خاموشی سے آنسو بہا رہا تھا۔ شائداس لئے کہ موت نے وہاں موجود ہر شخص کو اس کے اپنے کسی پیارے کی یاد دلا دی تھی۔
شاہد کا جنازہ اٹھا، لوگ اسے کندھا دے کر قبرستان لے گئے اور پھر وہ مٹی کے سپرد ہوگئے۔ شاہدکے دوستوں اوریاروں نے توان کی قبرپرپھول نچھاورکرکے اپناغم کچھ ہلکاکیالیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر کب تک ہماری مائیں اپنے بیٹوں کو روزگار کے لئے پردیس بھیج کریہ تابوت وصول کرتی رہیں گی؟ آخر کب تک ہمارے نوجوان اپنے بچوں اور والدین سے دور رہ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور رہیں گے؟ آخر کب تک ہمارے ایئرپورٹس سے خوشی کے سامان کے ساتھ آنے والوں سے زیادہ غم کے تابوت بھی باہرنکلتے آئیں گے؟ آخر کب تک ایک باپ اپنے بیٹے کو یہ کہہ کر رخصت کرے گا کہ بیٹا، محنت کرنا اور کچھ کما کر واپس آنا اور پھر برسوں بعدوہی غریب اورمجبورباپ اپنے اس بیٹے کی میت وصول کرے گا؟
یہ سوال صرف شاہد کے خاندان کا نہیں یہ پاکستان کے ہر اس گھر کا سوال ہے جس کا کوئی فرد معاشی مجبوری کے باعث پردیس میں ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کے بیرون ملک جانے پر اعتراض نہیں۔ دنیا بھر میں لوگ بہتر مواقع اوراچھے روزگارکے لئے دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ بیرون ممالک روزگار حاصل کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ محنت، ہنر اور بہتر مستقبل کی تلاش ہرانسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ کیا کسی انسان کو اپنے گھر سے ہزاروں میل دور جانے پر صرف اس لئے مجبور ہونا چاہیے کہ اسے اپنے ہی ملک میں باعزت روزگار نہیں مل سکا؟
یہ سوال حکومتوں سے بھی ہے، معاشرے سے بھی اور ہم سب سے بھی۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی روزگار کی تلاش میں در بدر پھرتی ہے۔ ہنرمند نوجوان اپنے مستقبل کے لئے بیرون ملک جانے کو واحد راستہ سمجھتے ہیں۔ مزدور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے سمندر پار چلا جاتا ہے۔ خاندان قرض لے کر کسی نوجوان کو باہر بھیجتا ہے اور پھر اس کی کمائی سے گھر کے چولہے جلتے ہیں۔ یہی نوجوان جب باہر جاتے ہیں تو پورے خاندان کی امید بن جاتے ہیں۔ مگر جب یہی امید تابوت بن کر واپس آئے تو صرف ایک شخص نہیں مرتابلکہ پوراایک خاندان اندر سے مر جاتا ہے۔
شاہد کے معصوم بچوں کو شائدابھی موت کی پوری حقیقت کا اندازہ نہ ہو۔ وہ شائدیہ سمجھ رہے ہوں کہ ابو کہیں گئے ہیں اور واپس نہیں آئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انہیں احساس ہوگا کہ جس شخص کے انتظار میں وہ دروازے کی طرف دیکھا کرتے تھے وہ اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔ شاہد کی بوڑھی ماں اورشریک حیات؟ وہ شائدعمر بھر اس دن کو یاد کرتی رہیں گی جب انہوں نے جگرکے ٹوٹے کو پردیس بھیجا تھا۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ جس جگرگوشے کو وہ دعاؤں کے حصار میں رخصت کر رہی تھیں، ایک دن وہی تابوت میں واپس آئے گا۔ انسان دنیا کے بہت سے غم بھلا دیتا ہے۔ وقت بڑے سے بڑے زخم پر بھی مرہم رکھ دیتا ہے مگر اپنوں کا غم، خاص طور پر جوان شوہراور اولاد کا غم۔ یہ ایک ایسا زخم ہے جو عمر بھرپھرتازہ رہتا ہے۔
پردیس میں مرنے والے کی جدائی توپھرایک الگ ہی اذیت ہے۔ خدا کسی ماں کو اس کا بیٹا پردیس کے تابوت میں واپس نہ دکھائے۔ پردیس جانے والوں کے لئے دعائیں بہت ہیں مگر اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اپنے وطن میں رہنے کے لئے بھی ایک باعزت راستہ دیا جائے ورنہ جنازے آتے رہیں گے، تابوت اٹھتے رہیں گے، مائیں روتی رہیں گی، بچے باپ کو پکارتے رہیں گے اور ہم ہر بار یہی سوال دہراتے رہیں گے کہ باہرسے آنے والے تابوت کایہ سلسلہ آخرکب بند ہوگا؟