کچھ دن پہلے ایک دوست سے ملاقات ہوئی، یہ پشاورسائیڈکے ہیں اورہزارہ میں اپناکاروبارکرتے ہیں، یہاں ان کی کئی دکانیں ہیں۔ باتوں باتوں میں اس نے ہمارے مشترکہ دوست نوراللہ کے بارے میں پوچھا۔ نوراللہ یہ ہمارے اچھے دوست اوریہ ایک سرکاری ادارے میں کلاس فورکی سیٹ پراپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کی نہ کوئی دکان ہے اورنہ کوئی سرمایہ۔ پچاس ساٹھ ہزاراس کی تنخواہ ہوگی جوآج کے دورمیں کوئی خاص نہیں کیونکہ بڑھتی مہنگائی کے باعث اخراجات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ہزاروں کیا؟ اب لاکھوں میں بھی گزارہ مشکل سے ہوتاہے۔
خیرنوراللہ کانام سن کرمیں نے دوست کوکہاکہ وہ توعمرہ پرچلے گئے ہیں۔ یہ سن کروہ ایک منٹ کے لئے رکے پھرگویاہوئے۔ نوراللہ خوش قسمت تھے کہ ان کا بلاواآگیا۔ وہاں اپنی مرضی سے کوئی نہیں جاسکتا، وہی جاتے ہیں جن کوبلاواآتاہے۔ بلاوے کی بات ہوئی تومجھے اپنے ممتازلالایادآگئے۔ یہ میرے سانڈوہیں۔ دوہزارپانچ کے قیامت خیززلزلہ کے بعدیہ بچوں سمیت راولپنڈی میں شفٹ ہوئے ہیں اوراب وہیں رہتے ہیں۔ پہلے یہ ماربل اورچپس کاکام کرتے تھے پھرپراپرٹی کاکام شروع کیاوہ بھی نہ چلاتوایک چھوٹی سی دکان ڈالی لیکن وہ بھی نہ چل سکی۔
مطلب گاؤں سے ہجرت کے بعدپنڈی میں حالات ان کے اس طرح سیٹل نہیں ہوئے۔ ہماری طرح یہ بھی وقت کودھکہ دے کرٹائم گزاررہے ہیں۔ پندرہ بیس دن پہلے مجھے اچانک شام کوممتازلالاکی کال آئی، اس نے کہاکہ آپ کواس لئے فون کیاکہ ہم کل عمرے کے لئے جارہے ہیں۔ ممتازلالا، اہلیہ اوربہو، تین افرادکااچانک عمرے پرجانا۔ میں کافی دیرتک سوچتارہاکہ یہ کیاہے؟ سوچوں کے اسی کھیل میں مجھے اپنے تاجردوست کی وہ بات یادآگئی کہ، وہ خوش قسمت تھے کہ ان کا بلاواآگیا، واقعی بلانے کی دیر ہے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ عمرہ اورحج صرف مالدار لوگوں کے لئے ہے لیکن ایساہرگزنہیں۔
مانا کہ انسان اپنی طرف سے وسائل جمع کرتا ہے، منصوبے بناتا ہے، رقم بچاتا ہے لیکن آخری فیصلہ کہیں اور سے ہوتا ہے۔ کبھی برسوں کی جمع پونجی کے باوجود سفر نہیں ہوپاتا اور کبھی محدود وسائل رکھنے والا شخص بھی اس سفر پر روانہ ہوجاتا ہے۔ ایک نہیں ہزاربارہم اپنی ان گناہ گارآنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ وہاں سے جن کابلاواآتاہے وہ پھرسالوں، مہینوں اورہفتوں نہیں بلکہ ممتازلالااورنوراللہ کی طرح دنوں اورگھنٹوں میں وہاں پہنچ جاتاہے۔ حرم کی طرف جانے والا ہر مسافر اپنے ساتھ صرف سامان نہیں لے کر جاتابلکہ وہ اپنے ساتھ دعاؤں کی ایک لمبی فہرست، گناہوں کا بوجھ، دل کی حسرتیں، اپنوں کی امیدیں اور نہ جانے کتنے لوگوں کے پیغامات لے کر جاتا ہے۔
حج اورعمرہ کرنے والے کہتے ہیں کہ خانہ کعبہ اورگنبدحضریٰ پرجب پہلی بارنظرپڑتی ہے توانسان اپنے رب اوراس کے محبوب کے عشق میں اس طرح کھوجاتاہے کہ اس وقت اسے پھراپناآپ بھی یادنہیں رہتا۔ سوچتاہوں ہمارے جیسے خالی ہاتھ اورخالی دامن والے گناہ گارجب رب کے فضل وکرم سے وہاں پہنچتے ہوں گے تو شائدکہ وہ خانہ کعبہ کو پہلی مرتبہ دیکھتے ہوئے اپنی آنکھوں پر یقین نہ کرتے ہوں۔ شائد ان کی زبان پر الفاظ کم پڑ جاتے ہوں اور آنکھیں خود بولنے لگتی ہوں۔ شائد حجر اسود کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں اپنی زندگیوں کے وہ سارے لمحے یاد آتے ہوں گے جن میں انہوں نے تنگ دستی، پریشانی اور مشکلات کے باوجود اللہ پر بھروسہ کیا۔
شائد طواف کے دوران انہیں احساس ہو کہ جس رب کے سامنے دنیا کے بادشاہ اور غریب سب ایک ہی لباس میں کھڑے ہوتے ہیں اسی رب نے آج انہیں بھی اپنے در پر بلا لیا ہے۔ خانہکعبے کا طواف اور گنبدخضریٰ کی زیارت یہ ہر مسلمان کے دل کی وہ آرزو ہے جس کے لئے آنکھیں برسوں منتظر رہتی ہیں۔ اس دنیامیں کچھ خواہشیں انسان اپنی محنت، دولت اور وسائل سے پوری کرتا ہے مگر کچھ خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جن کے لئے صرف وسائل کافی نہیں ہوتے۔ ان کیلئے نصیب کا دروازہ کھلنااوربلاوے کاآناضروری ہے۔ اس لئے حج اورعمرہ یہ بڑے کرم والے فیصلے ہیں۔ یہ ہرکسی کے حق میں نہیں ہوتے۔
حرمین شریفین کی حاضری صرف مال و دولت کا معاملہ نہیں۔ دنیاوی حساب کتاب سے دیکھا جائے تو بہت سے لوگ مالی استطاعت رکھتے ہیں پر زندگیاں گزر جاتی ہیں مگرانہیں حرمین شریفین کی زیارت نصیب نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس بظاہرکچھ نہیں ہوتا۔ روزمرہ کے معاملات بھی ان کے مشکل سے چلتے ہیں مگران کے لئے اچانک ایسے راستے کھلتے ہیں کہ وہ لمحوں میں مکہ اورمدینہ پہنچ جاتے ہیں۔ ممتازلالااورنوراللہ کتنے خوش قسمت ہیں کہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجودرب نے انہیں لمحوں میں اپنے پاس بلالیا۔ وہ شہر جن کا نام آتے ہی دل کی دھڑکنیں بدل جاتی ہے۔
خانہ کعبہ کاطواف، گنبد خضریٰ وبیت اللہ کادیداراورمحبوب خداپر سلام یہ وہ کیفیات ہیں جنہیں الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا شائدممکن ہی نہیں۔ انسان دنیا میں بہت سے خوبصورت مناظر دیکھتا ہے لیکن خانہ کعبہ اورگنبدخضریٰ کے مناظرانسان کی آنکھ سے زیادہ دل دیکھتا ہے۔ اس پاک مٹی سے واپس آنے والے کہتے ہیں کہحرمِ مکی کی فضا میں ایک خاص نورانیت محسوس ہوتی ہے۔ لبوں پر دعائیں، آنکھوں میں نمی اور دل میں اپنے رب سے ملاقات کی آرزو انسان کو دنیا کی فکروں سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ حجر اسود، ملتزم اور مقامِ ابراہیمؑ جیسے مقدس مقامات ایمان کی تاریخ کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
وہاں کھڑے ہو کر انسان اپنے گناہوں کی معافی، اپنے پیاروں کی سلامتی اور پوری امت مسلمہ کے لئے خیر و برکت کی دعا کرتا ہے۔ پھر جب نگاہ مدینہ منورہ کی طرف اٹھتی ہے اور گنبد خضریٰ کا سبز و نورانی منظر سامنے آتا ہے تو دل محبت رسولِ اکرم ﷺ سے لبریز ہو جاتا ہے۔ یہ وہ شہر مقدس ہے جہاں ہم سب اوراللہ کے پیارے محبوب حضور نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہیں۔ جہاں صحابہ کرامؓ نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کیں اور جہاں اسلامی تاریخ کے بے شمار روشن باب رقم ہوئے۔ گنبد خضریٰ کا دیدار عاشقان رسول ﷺ کے لئے محض ایک منظر نہیں بلکہ محبت، عقیدت اور نسبت کا احساس ہے۔ درحقیقت شہرنبی کی پرسکون فضا، مسجد نبوی ﷺ کی روحانی کیفیت اور گنبد خضریٰ کی دلکش جھلک دل کو ایسی کیفیت سے آشنا کرتی ہے جسے الفاظ پوری طرح بیان نہیں کر سکتے۔
انسان بے اختیار درود و سلام پڑھتا ہے اور دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش یہ لمحہ کبھی ختم نہ ہو۔ وہاں کی یاد دل میں بس جائے تو دنیا کی مصروفیات کے باوجود روح بار بار اسی مقدس شہر کی طرف متوجہ ہوتی رہتی ہے۔ ہم نے یہ ایمانی مناظراپنی آنکھوں سے دیکھے نہیں لیکن جب دیکھنے والے بیان کرتے ہیں توآنکھیں اشکوؤں میں ڈوب جاتی ہیں۔ رب سے دعاہے کہ مکہ اورمدینہ سے ہمیں بھی بلاواآئے تاکہ ان ترستی آنکھوں اوربے قراردل کوخانہ کعبہ اورروضہ رسول ﷺکادیدار نصیب ہوجائے۔