ہم بڑے عجب لوگ ہیں (یہاں ہم سے مراد برصغیر پاک وہند کے جملہ مسلمان ہیں) زندگی کے عام معاملات سے علاقائی و بین الاقوامی معاملات و مسائل تک کو اپنے اپنے ذاتی خاندانی عقیدے کی آنکھ سے دیکھتے سمجھتے اور سمجھاتے ہیں۔ ہمارا شعور یہ ہے کہ حملہ آور نجات دہندہ اور دھرتی زادے (مقامی ہیرو) چور ڈاکو ہوتے ہیں۔ لولی لنگڑی جمہوریت اور ساجھے داری کے چھابے الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے مسیحا قرار پاتے ہیں۔ افغانستان میں لڑی گئی سوویت امریکا جنگ میں پاکستان کی گردن پھنسانے والا فوجی آمر مردِ حق کہلاتا ہے۔ ہم سورجوں کو پھانسی چڑھاتے چاندنیوں کو سڑک پر ماردیتے ہیں ایک فوجی آمر کو تو ہم نے سیکولر صوفی بنا سمجھ لیا تھا۔
ہم عجیب و غریب لوگ ہیں ہمارا اپنا سچ اور اپنا جھوٹ ہوتا ہے اپنا مسلمان اور اپنا کافر ہم عدالتی انصاف سے زیادہ سٹریٹ جسٹس پر یقین رکھتے ہیں۔ کسی کو برباد کرنے میں ہم اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ اس پر توہین مذہب و مقدسات کا مقدمہ درج کروادیتے ہیں۔ ایک وقت تھا ہم سیکوڑی اسٹیبلشمنٹ کے گیت گاتے بتاتے تھے کہ اگر یہ (سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ) نہ ہوتی تو سیاستدان ملک کو بیچ کھاتے۔ ہم وہ سب کرتے ہیں جن کے بارے میں عصری شعور کا حامل کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا ان سب باتوں گھاتوں دوغلے اور تھڑ دلے پن کے باوجود ہمیں یہ زعم ہے کہ ہم کوئی " محبوب برانڈ " کی مخلوق ہیں آسمانوں سے اتاری گئی۔
لیکن ہم اصل میں کیا ہیں کچھ ہیں بھی یا نہیں؟ یہ ایک سوال ہے درودیوار پہ رقص کرتا ہوا۔ ہمارے خیال میں ایک فرقے کا افغان جہاد شعائر اسلامی تھا اور جس نے اس کی مخالفت کی وہ قابلِ گردن زدنی تھا۔ ہم سوویت یونین و امریکا کی افغان جنگ کو مکتب خلافت کی آنکھوں سے دیکھتے رہے محض افغان جہاد و فساد نہیں ہم ہر چیز اور معاملے کو فرقہ وارانہ عینک سے دیکھتے ہیں، یہاں تک کہ ہم دوسرے ممالک سے تعلقات کو عقیدوں کے ترازوں میں تول کر پیش کرتے ہیں حالانکہ ممالک کے تعلقات سیاسی و معاشی مفادات پر استوار ہوتے ہیں۔
ممالک سے تعلقات ہی کیا اب تو ہم ذاتی تعلق اور رشتہ داری بھی عقیدے کی بنیاد پر بناتے ہیں۔ آخرت کے سودے بیچتی مخلوق ہمارے یہاں دنیا کماتی ہے اور اس مخلوق کی محبت میں ہم اپنی دنیا برباد کرتے چلے جارہے ہیں۔ ہم اندھی شخصیت پرستی کا نظریہ سمجھ کر پوجنے کے پشتینی مرض میں مبتلا ہیں۔ مارشل لاء لگنے پر ہمارے ہاں ہی مٹھائیاں تقسیم ہوتی رہی ہیں۔ ہمیں وہ لوگ ہیں جنکی تاریخ کرائے کی ہے کرائے کی تاریخ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے یعنی حملہ آور ہیرو اور دھرتی زادے غدار، ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کا حوصلہ نہیں کرپاتے لیکن دوسرے کی آنکھوں میں جوتوں سمت گھس جانا چاہتے ہیں۔ ہماری دور کی نظر ٹھیک اور قریب کی بہت کمزور ہے اسی لئے چار اور کے فاقہ مست دیکھ نہیں پاتے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں صرف انصاف ہی طبقاتی بنیادوں پر نہیں ملتا بلکہ سارا کاروبار اور تام جھام بھی طبقاتی ہے۔
ہماری تاریخ کیا ہے "کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا" ہم تعلیم و تدریس بیچتے ہیں صحت سے کھلواڑ کرتے ہیں تخلیق و تحقیق سے بھاگتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک ایک محلے میں پانچ سے سات مسجدیں ہیں ملک بھر میں لاکھوں مدارس لیکن سینے پہ ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ سماج اخلاق حسنہ سے محروم کیوں ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے ملازمت پیشہ ذہنیت کے لشکر تیار کرتے ہیں یہی ادارے اعلیٰ اوصاف کے حامل انسان کیوں پیدا نہیں کرتے۔ ہم سیاست دانوں کو چور سمجھنے کہنے کے مرض میں مبتلا ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانک کر خوداحتسابی کی ہے۔ ہم سے ننگی گالیاں دلوا لو فتوے اور غداری کی اسناد جاری کروا لیجے یہی ہمارا من بھاتا کھابا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف ہم صدقہ زکوة خمس و خیرات اور عطیات دینے میں پیش پیش رہتے ہیں تو دوسری منافع خوری اور چوربازاری کے ساتھ دونمبر مال بنانے میں بھی پیش پیش ہی رہتے ہیں۔
معاف کیجے گا بالائی سطور میں چار اور کا کڑوا سچ لکھا ہے۔ کالم بھاری بھرکم ہوگیا جن خرابیوں کا ذکر کیا اس کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ ایک دوسرے پر یا کسی طبقے و محکمے پر ان خرابیوں کی ذمہ داری ڈالنے کی بجائے ہمیں اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ ان میں ہمارا حصہ بقدرے جُثہ کتنا تھا اور ہے مثلاً کیا مہنگائی فقط پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے بڑھتے چلے جانے کی مرہونِ منت ہے یا اس میں منافع خوری کی سوچ کا بھی حصہ ہے؟
سوالوں پر غور ضرور کیجے گا کیونکہ ان کے جوابات سے ہم رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں جوکہ ازبس ضروری ہے۔ ہمارے چاراور جو کچھ ہے سب ہمارا ہے کج ہوں یا خوبی نفرتیں ہیں یا محبتیں ہمیں دوسروں کو بدلنے کے شوق تیاگ کر خود کو بدلنا ہوگا خود کو بدل پائیں گے تو ایک ترقی پسند سماج تعمیر کرسکیں گے ہائے مگر اس کا کیا کریں ہم پیدا پاکستان میں ہوتے ہیں، جینا مغرب میں چاہتے ہیں اور دفن مکہ و مدینہ میں ہونا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم جو ہیں وہی کیوں نہیں رہنا چاہتے آخر اس میں خرابی کیا ہے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ سیکورٹی اسٹیٹ کو دولے شاہی چوہے وارے کھاتے ہیں عوام نہیں باتیں اور بھی بہت ہیں تلخ بھی ہیں شیریں بھی قصے بھی ہیں کہانیاں بھی لیکن ہماری ضرورتیں ان سے سوا ہیں۔
اچھا چلیں میں آپ کے سامنے دوسوال رکھتا ہوں، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں جاری دہشت گردی کو سوویت یونین امریکا جنگ (جہاد افغانستان) سے الگ کرکے دیکھا جاسکتا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ حوثی سعودی تنازع رواں صدی کے دوسرے عشرے میں علی عبداللہ الصالح کی جگہ منصور ہادی کو یمن کا صدر نصب کروانے سے شروع نہیں ہوا تھا؟
آپ ان دونوں سوالوں کا جواب تلاش کرتے وقت اگر فرقہ پرستی کی عینک اتار کر تحقیق اور غوروفکر کی زحمت کریں گے تو شافی جواب مل جائے گا ورنہ ظالم اپنا اپنا اور مظلوم بھی اپنا اپنا والا گردن توڑ بخار تو ہے ہی بہر طور مجھے امید ہے کہ میری اس دستک پر آپ اپنے ذہنوں کے بند دروازے کھولیں گے سوالوں کا جواب تلاش کریں گے ممکن ہوتو مجھے اپنے جوابات سے آگاہ ضرور کیجے گا۔