Saturday, 10 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Aman e Watan

Aman e Watan

عصرِ رواں کے دگرگوں اور متحرک عالمی منظرنامے میں ریاستوں کا بقا و ارتقاء اب محض عسکری برتری، جغرافیائی حدود کی پاسبانی یا سرحدی مورچہ بندیوں کا محتاج نہیں رہا، بلکہ یہ داخلی و خارجی متغیرات کے اس گنجلک اور پیچیدہ جال میں پیوست ہو چکا ہے جہاں عسکری قوت، سیاسی بصیرت، معاشی لچک اور سماجی آہنگ کی لکیریں باہم مدغم ہو جاتی ہیں۔ اس تناظر میں غیر روایتی جنگی حربوں اور دہشت گردی کے مہیب محرکات نے ریاستی نظمِ انصرام کو بنیادوں تک ہلا ڈالا ہے۔ اب بارود کی بو اور تخریب کاری کے نیٹ ورکس صرف دفاعی تنصیبات تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان کا موذی دائرہِ کار معاشی شریانوں، شہری زندگی اور اجتماعی نفسیات کو مفلوج کرنے تک پھیل چکا ہے۔

کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کے سنگلاخ خطوں میں رونما ہونے والے روح فرسا سانحات اس تلخ زمینی حقیقت کے غماز ہیں کہ ہم ایک ایسے کثیرالجہتی ہائبرڈ جنگی ماحول کی زد میں ہیں جہاں ہر شہری، ہر سماجی کارکن اور ہر معاشی سرگرمی کو براہِ راست ہدف بنایا جا رہا ہے۔ یہ حوادث نہ صرف قیمتی جانوں کا زیاں ہیں بلکہ ریاستی رٹ اور عوامی اعتماد پر ایسے کاری زخم لگاتے ہیں جو انسدادِ دہشت گردی کے روایتی فریم ورک سے ماورا ہو کر ایک جامع، مربوط اور جدید قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں۔

​اس ہمہ گیر بحران کی تہہ میں تخریب کاروں نے اب محض فزیکل یا عسکری اہداف پر اکتفا کرنا ترک کرکے ریاست کے معاشی اعصاب اور ترقیاتی پیکروں کو نشانہ بنانے کو اپنی محاذ آرائی کا محور بنا لیا ہے۔ دکی اور دیگر علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کے کیمپوں پر شب خون اور مزدوروں کا اغوا محض امن و عامہ کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے اقتصادی استحکام اور طویل مدتی ترقیاتی عمل کو اندرونی طور پر سبوتاژ کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ جب تعمیراتی ادارے اور پسینہ بہانے والا مزدور طبقہ غیر محفوظ ہو جائے، تو اس کا تباہ کن اثر ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پر پڑتا ہے۔

اسی طرح، معصوم بچوں اور خواتین کا بہیمانہ قتل اس تاریک حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ دہشت گردی اب تمام اخلاقی اور انسانی اقدار سے تہی داماں ہو چکی ہے۔ اس پس منظر میں شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو چند روایتی مالی امدادی چیکوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ ریاست پر لازم ہے کہ وہ ان کے اہل خانہ کی مستقل کفالت، بچوں کی تعلیم اور پائیدار سماجی تحفظ کے لیے ایک مستحکم ادارہ جاتی نظام وضع کرے تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ اس دیس کے امن پر جانیں نچھاور کرنے والوں کے گھرانے کبھی بے بسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے جائیں گے۔

​علاقائی سطح پر اگرچہ یہ امر مسلّم ہے کہ پاکستان کی داخلی سلامتی کو درپیش چیلنجز میں افغان سرزمین پر پناہ لینے والے عناصر کا کردار نمایاں رہا ہے، تاہم اس سفارتی محاذ پر بھی جذباتیت اور الزام تراشی سے بالاتر ہو کر شواہد پر مبنی پیشہ ورانہ سفارت کاری کا دامن تھامنا ہوگا۔ سرحدیں اب محض سیمنٹ اور کنکریٹ کی لکیریں نہیں بلکہ متحرک سکیورٹی زون ہیں جن کی مؤثر نگرانی انٹیلی جنس کے اشتراک، بائیومیٹرک نظام اور جدید سرحدی نظم و نسق کے بغیر ناممکن ہے۔ بیرونی تخریب کاری اور جاسوسی نیٹ ورکس کے خلاف ریاستی مؤقف کو بھی مضبوط فرانزک شواہد کی بنیاد پر دنیا کے ایوانوں میں مؤثر انداز میں پیش کرنا ہوگا۔ تاہم سفارتی دروازے کھلے رکھنے کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر گورننس کے نقائص، قانون کے نفاذ کی کوتاہیوں، غیر قانونی مالیاتی ذرائع، حوالہ ہنڈی اور مقامی سہولت کاری کے گہرے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا وقت کی سب سے بڑی پکار ہے، کیونکہ فکری سرچشموں اور مالی معاونت کی رگوں کا قلع قمع کیے بغیر دہشت گردی کو مستقل شکست نہیں دی جا سکتی۔

​اس معاصر اور پیچیدہ منظرنامے میں فیصلہ کن میدان دراصل سماجی استحکام، سیاسی مکالمے اور فکری یکجہتی کا میدان ہے۔ دہشت گردی کی طینت ہی اس اصول پر استوار ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کے لسانی، مذہبی اور سیاسی شگافوں کا استحصال کرے اور ریاست و عوام کے رشتوں میں بے اعتمادی کی دراڑیں ڈال دے۔ اس ہمہ جہت جنگ کو کسی ایک ادارے یا محکمے کی انفرادی ذمے داری سمجھنا ایک تاریخی بھول ہوگی۔ پارلیمان، عدلیہ، انتظامیہ، عسکری ادارے، میڈیا، جامعات، مذہبی اکابرین اور سول سوسائٹی کے تمام ستونوں کو ایک قومی پرچم تلے متحد ہو کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں اختلافِ رائے تو ایک صحت مند جمہوری حق رہے، مگر انتہا پسندانہ نظریات کے لیے معاشرے میں کسی قسم کی فکری یا اخلاقی گنجائش باقی نہ رہے۔

جب تک ریاست کے تمام اجزاء مربوط قومی لائحہ عمل کے تحت ہم آہنگ نہیں ہوتے اور جب تک شہری کو جان و مال اور بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کا یقین حاصل نہیں ہوتا، تب تک عسکری فتوحات عارضی ہی رہیں گی۔ کوہاٹ سے لے کر ڈیرہ بگٹی تک کے یہ ہولناک سانحات ہمیں اس فکری نوید سے روشناس کراتے ہیں کہ عسکری قوت کی برتری کو نچلی سطح تک فعال حکمرانی، قانون کی حکمرانی اور معاشی انصاف میں تبدیل کیا جائے، کیونکہ پائیدار امن کبھی بندوق کے دھوئیں سے طلوع نہیں ہوتا، بلکہ یہ محض انصاف، باہمی اعتماد اور اجتماعی شعور کی تابناک روشنی کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔