Tuesday, 13 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Yemeni Jang Aur Taqat Ka Badalta Tawazun

Yemeni Jang Aur Taqat Ka Badalta Tawazun

مشرقِ وسطیٰ ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں یمن کی جنگ محض ایک ملک کی خانہ جنگی نہیں رہی بلکہ اِس کے اثرات سعودی عرب کی سلامتی، خلیجی ممالک کے باہمی تعلقات، عالمی تجارت اور بڑی طاقتوں کی حکمتِ عملی تک وسیع ہوچکے ہیں۔ سعودیہ پر بڑھتے حملوں اور ریاض کی جوابی کاروائیوں نے تنازعے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے اِس کشمکش میں پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی تعاون، ایرانی کردار، متحدہ عرب امارات کے مفادات اور امریکی صدر ٹرمپ کے ممکنہ کردار کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دس اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الا قوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے جبکہ گیارہ اکتوبر کو ہوائی اڈے کے ایک اور حصے کو نشانہ بنایا گیا۔ اِن واقعات نے فضائی سفر، توانائی کی تنصیبات اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھائے ہیں تاہم فضائی کمپنیوں کے وسیع پیمانے پر آپریشن معطل کرنے یا مستقل طور پر سعودی فضائی حدود سے گریز بارے ابھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا البتہ خطے میں کسی حدتک خوف کی فضا بن رہی ہے۔

حوثی حملوں کا مقصد بظاہر سعودی عرب کو صرف فوجی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی دباؤ بھی بڑھانا ہے۔ ہوائی اڈے، تیل تنصیبات اور اہم تجارتی راستے معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اِن مقامات پر حملوں کا خطرہ مستقل فضائی بیمہ کو مہنگا کرسکتا ہے، پروازوں کے راستے تبدیل کرنا پڑسکتے ہیں، نیز سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے لیے یہ صورتحال اِس لیے اہم ہے کہ وہ سیاحت، تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے زریعے اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے کی تگ و دو میں ہے۔

سعودی عرب نے حوثی حملوں کے جواب میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمات میں فضائی کاروائیاں کی ہیں، پانچ اکتوبر سے شروع ہونے والی نئی فوجی مُہم میں سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب کے قریب بعض اہم مقامات دوبارہ حاصل کرلیے ہیں موخا اور آبنائے باب المندب کے اطراف کامیابیوں کی اطلاعات دیں آنے والی خبروں اور حوثیوں کے دعوؤں میں کچھ تضاد ہے لہذا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ باب المندب مکمل طور پر حوثیوں سے واگزار کرایا جاچکا ہے لیکن یہ درست ہے کہ یمن کی سرکاری فوج کی پوزیشن بہترہے اور وہ حوثیوں پر حاوی ہے۔

باب المندب یمن اور افریقہ کے درمیان واقع ایک آبی گزرگاہ ہونے کے ساتھ عالمی تجارت کی اہم شریان ہے اِس کے زریعے بحیرہ احمر، نہر سویز اور بحیرہ روم تک بحری آمدورفت ہوتی ہے اگر حوثی اِس راستے کو مستقل طور پر خطرے میں ڈالے رکھتے ہیں تو اِس کے اثرات سعودی عرب سے کہیں آگے یورپ، ایشیا اور عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں اِس لیے سعودی فضائی حملوں کا ایک بنیادی مقصد یمنی علاقوں کے ساتھ ایک اہم ترین بحری راستے کو محفوظ بنانا ہے تاہم فضائی برتری حاصل کرنا اور زمین پر مستقل کنٹرول قائم رکھنا دو مختلف باتیں ہیں۔ یمن کی تاریخ بتاتی ہے کہ پہاڑی جغرافیہ، مقامی قبائلی وفاداریاں اور مختلف مسلح گروہوں کے باہمی اختلافات فوجی مُہم کو طویل کرسکتے ہیں لہذا حوثیوں کو پسپا کرنے کے لیے یمنی حکومت کو بیرونی فضائی مددکے ساتھ سیاسی استحکام اور قابلِ اعتماد انتظامی ڈھانچے کی بھی ضرورت ہوگی۔

سات اگست 2026 کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ میں طے پانے والا مکہ دفاعی معاہدہ عملی آزمائش کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پانچ اکتوبر کو تینوں ملکوں نے مشترکہ دفاعی وعدوں کو فعال کرنے اور سعودی عرب کو درکار فوجی وسائل اور صلاحتیں فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ معاہدے کی بنیادی روح یہ ہے کہ کسی ایک رُکن پر حملے کو تینوں کی سلامتی سے متعلق معاملا سمجھا جائے۔ ترکیہ نے سعودی عرب کو دفاعی سازوسامان، تکنیکی معاونت اور دیگر دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ پاکستان نے بھی مشترکہ دفاعی وعدوں پر عملدرآمد کی حمایت کی ہے۔ ترکیہ کی جانب سے دفاعی اور تکنیکی تعاون کی تصدیق ہوچکی جبکہ پاکستان کی عملی شرکت بھی راز نہیں رہی لہذا یہ کہنا درست ہوگا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف براہ راست زمینی جنگ میں تینوں فریق شامل ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ معاملا خاص طور پر کافی حساس ہے، سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات جبکہ ایران ہمسایہ ملک ہے اسلام آباد کی کوشش ہوگی کہ سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے درمیان توازن رکھے۔ ترکیہ بھی نیٹو کا رُکن ہے وہ خطے میں اپنا سیاسی اور دفاعی کردار بڑھانے میں خاص طور پر دلچسپی رکھتا ہے اگر یہ تعاون موئثر ثابت ہوا تو خلیجی سلامتی کے معاملات میں مقامی اور علاقائی طاقتوں کا کردار بڑھے گا۔ ایران کو حوثیوں کے حوالے سے غیر جانبدار ناظر کہنا ٹھیک نہیں کیونکہ تہران نے طویل عرصے سے حوثی تحریک کی سیاسی اور فوجی معاونت کی ہے یہ سچ ہے کہ ایرانی حمایت نے حوثیوں کی علاقائی قوت بڑھا کر اُنھیں سعودی عرب کے لیے خطرہ بننے کے قابل بنایا۔ ایران کے لیے حوثی ایسے علاقائی شراکت دار ہیں جو سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے اور بحیرہ احمر میں عالمی تجارت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اگر ترکیہ اور پاکستان کی شمولیت سے جنگ وسیع ہوتی ہے تو تہران کے لیے بھی اخراجات اور خطرات بڑھیں گے۔ ایرانی قیادت کو جلد یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ حوثیوں کی حمایت کو محدود رکھے تاکہ علاقائی تصادم براہ راست بڑے ممالک کی جنگ نہ بنے۔

متحدہ عرب امارت کی پوزیشن قدرے پچیدہ ہے، ماضی میں اُس نے یمنی مسلح گروہوں کی تربیت اور معاونت کی جن میں اِس لیے امارات کو مکمل طور پر غیر جانبدار کہنا درست نہیں تاہم اِس کی موجودہ پالیسی کو سعودی عرب کے ہر اقدام کی غیر مشروط حمایت سمجھنا غلطی ہوگا۔ ابوظہبی کے اپنے سیاسی، بحری اور معاشی مفادات ہیں اور یمن کے مستقبل کے بارے میں اِسکے بعض مقامی اتحادیوں کے مقاصد سعودی حکومت سے مختلف ہیں۔ اُسے اسرائیلی اغراض و مقاصد کی تکمیل میں مصروف کردار کہا جاسکتا ہے جو سعودیہ پر دباؤ بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

امریکی صدر ٹرمپ کا ممکنہ کردار پر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، واشنگٹن نے ہمیشہ سعودی عرب کی سلامتی اور بحری راستوں کے تحفظ کو مقدم سمجھا ہے لیکن براہ راست جنگ میں شمولیت کے اپنے سیاسی اور فوجی مسائل ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے حوثیوں کے خلاف مدد کی درخواست پر غور کرنے کے اِشارے کو باقاعدہ جنگ میں شمولیت کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ امریکہ کیا سعودی عرب کو دفاعی نظام، انٹیلی جنس اور فوجی منصوبہ بندی کی مدد تک محدود رہتا ہے یا کسی بڑے حملے میں شریک ہوتا ہے؟ اگر امریکہ براہ راست جنگ میں شامل ہوتا ہے تو حوثیوں پر فوجی دباؤ بڑھے گا لیکن اِس کے ساتھ ایران کے ردِ عمل اور پورے خطے میں تصادم کا خطرہ پیداہو سکتا ہے اِس کے برعکس اگر علاقائی اتحادیوں کو دفاعی مدد دے کر سفارتی حل کی کوشش کرتا ہے تو جنگ کو محدود رکھنے کا امکان رہے گا۔

یمن کا مسئلہ صرف میزائلوں، فضائی حملوں اور علاقائی اتحادوں سے حل نہیں ہوگا البتہ اِس طرح حوثیوں کی فوجی صلاحیت کوکم کرنا ممکن ہے مگر یمن کے سیاسی مستقبل، اقتدار میں شمولیت، معاشی بحالی اور عوامی ضروریات کو نظر انداز کرنے سے پائیدار امن نہیں ہو سکتا۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے لیے اصل کامیابی صرف حوثیوں کو پسپا کرنا نہیں بلکہ ایسا علاقائی نظام تشکیل دینا ہوگی جس میں سعودی سلامتی محفوظ اور ایران کے ساتھ تصادم کا خدشہ نہ رہے تاکہ یمنی زمین بیرونی طاقتوں کی رقابت کامیدان نہ بنے۔

مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے لیکن طاقت کا نیا توازن کسی طور بھی امن کی ضمانت نہیں ہوگا البتہ مکہ دفاعی معاہدہ، دفاع کے ساتھ سفارت کاری کا زریعہ بنے تو یہ خطے میں استحکام کاباعث بن سکتا ہے لیکن اگر اِسے علاقائی محاز آرائی کی علامت بنایا گیا تو یمنی جنگ ایسے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کی قیمت عرب دنیا کے ساتھ پوری عالمی معیشت کو ادا کرنا پڑے گی۔