جماعت اسلامی کے ساتھ پرینک ہوگیا ہے۔ حکومت نے 20 ستمبر کو لانگ مارچ سے باز رکھنے کیلئے چھوٹی گاڑی والوں کو پٹرول کی مد میں سو روپے کمی کا پیکج دیا۔ کل جب پٹرول پمپ والوں سے اخبار والوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا، ہمیں تو حکومت نے کچھ نہیں بتایا، ہم کیسے اپنی جیب سے لوگوں کو فی لٹر سو روپے رعایت دے دیں۔ دوسری طرف اطلاع ہے کہ رجسٹریشن کا عمل ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔ رجسٹریشن کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ سستا پٹرول کسے ملے گا، کسے نہیں اور رجسٹریشن کی شرطیں بھی طلسم ہوشربا سے کم نہیں۔ گاڑی کب لی، کتنی پرانی ہے، "صحت" کیسی ہے، اپنی ہے یا کسی اور کی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ مطلب اور خلاصہ یہ کہ رعایت نہیں ملے گی۔
جماعت والے اس "پرینک" سے ناراض ہیں۔ کل ہی جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا بیان آیا ہے کہ 20 کو لانگ مارچ ہر صورت ہوگا۔ کنٹینر کیسے ہٹانے ہیں، ہم جانتے ہیں۔ 20 تاریخ کو بیچ میں بس ایک دن کل کا رہ گیا، دیکھئے کیا ہوتا ہے۔
ویسے جماعت اسلامی کو اس پرینک سے ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت پچھلے پانچ برس سے، لگ بھگ روزانہ کے حساب سے قوم کے ساتھ پرینک کئے جا رہی ہے۔ قوم ناراض ہوئی؟ ظاہر ہے کہ نہیں ہوئی اور اگر قوم ناراض نہیں ہے تو آپ کیوں ہو گئے؟
اور بات مزے کی یہ بھی ہے کہ حکومت خود اپنے آپ سے بھی پرینک کرنے سے نہیں جھجکتی۔ یاد ہوگا، چند ماہ پہلے حکومت نے سادگی اور بچت مہم کا اعلان کیا تھا، بتایا تھا کہ وہ غیر ضروری سرکاری اخراجات کو ختم یا کم کرے گی۔
اس اعلان کے بعد حکومت نے اپنے سرکاری اور غیر ضروری اخراجات میں لگ بھگ 50 فیصد کا اضافہ کر دیا۔ مزید اضافہ پچھلے ہفتے کیا جب قطعی "لاضروری" بلٹ پروف گاڑیوں کیلئے ساڑھے 6 ارب روپے کی منظوری دے دی۔
جماعت نے یہ بھی خوب کہی کہ ہم کنٹینر ہٹانا خوب جانتے ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ جماعت اکیلی نہیں، ہر پارٹی کنٹینر ہٹانا جانتی ہے۔ کسی بھی پارٹی کا، کوئی ایک بھی جلوس بتا دیجئے جس کے راستے میں ہزاروں کنٹینر نہ لگائے گئے ہوں اور وہ سارے کنٹینر ہٹا کر منزل مقصود تک نہ پہنچی ہو۔
اور اصل بات یہ ہے کہ یہ بات حکومت بھی جانتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ کنٹینر ہٹانا اب کچھ مشکل نہیں رہا اور مزید اصل بات یہ ہے کہ کنٹینر لگانے کا مقصد جلوس روکنا ہوتا بھی نہیں ہے۔ کنٹینر دو مقاصد کے تحت لگائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کنٹینروں کے ہزاروں ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو روزمرہ کی آمدنی سے محروم کرکے اذیت دی جا سکے۔ آپ کو پتہ ہے، اذیت کسی دوسرے کو دی جائے تو کتنا مزہ آتا ہے۔ رومن تھیٹروں اور اکھاڑوں میں یہ مزا لینے کیلئے ہزاروں لاکھوں مرد و زن آیا کرتے تھے۔
دوسرا مقصد تجارتی سرگرمیوں کا زور کم کرنا ہوتا ہے۔ سب کو پتہ ہے ملک میں تجارت کتنا زور پکڑ گئی ہے۔ پندرہ بیس دن پہلے ہی ہزاروں کنٹینر پکڑ کر اس "بے قابو" تجارتی سرگرمی کو قابو میں لایا جاتا ہے۔ ایک مقصد اس علاقے کے عوام کو لمبے چکر لگوانا ہوتا ہے۔ وہ جہاں جاتے ہیں، راستے بند ملتے ہیں۔ جو دفتر جانے کیلئے صبح سویرے نکلتا ہے، وہ شام کو میلوں میل لمبے راستوں سے بھٹکتا ہوا شام کو پھر گھر پہنچ جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے ہی کہا جاتا ہے کہ صبح کے بھولے شام کو گھر آ جائیں تو انہیں بھولے نہیں کہتے۔
***
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو تھیٹر لگانے کا اتنا ہی شوق تھا تو پہلے بتا دیتے، ہم الحمرا تھیٹر کی بکنگ کرا دیتے۔
محترمہ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ آفریدی صاحب دیوار گیر تھیٹر کے کلاکار نہیں ہیں، وہ اوپن ائیر تھیٹر کے فنکار ہیں۔ اب تو زمانہ بدل گیا ہے، بہت پہلے، اپنے سکول کے دنوں میں ہم جب سکول سے گھر واپس آتے تو راستے میں دو یا تین اوپن ایئر تھیٹر کلاکاروں سے واسطہ پڑتا۔ کسی کے پاس نیولا اور سانپ ہوتا، کسی کے پاس گرگٹ کی وہ قسم جسے سانڈا بھی کہتے ہیں، کسی کے پاس بندر اور بکری، کوئی جادو کے تماشے دکھاتا۔ سہیل آفریدی کے پاس کیا ہے، نیولا، سانپ؟ بندر، سانڈا، بکری یا اور کچھ، ابھی واضح نہیں۔ لاہور میں ان سے نیولا سانپ دکھانے کا مطالبہ کیا گیا تو وہ اچھل کر پولیس وین میں بیٹھ گئے اور ام اغوا ہوگئی ہے کا نعرہ لگا کر بندر نیولے والے مطالبے سے توجہ ہٹا دی۔
انگریزی میں سانڈا کو سآرا SAARA کہتے ہیں۔
بہرکیف، پنجاب حکومت کیلئے اہم بات یہ ہے کہ لاہور میں تو کلاکار کو خاطر خواہ تعداد میں تماشائی نہیں مل سکے البتہ وزیرآباد، گوجرانوالہ، گجرات، لالہ موسیٰ میں لوگوں کی تعداد خاطر خواہ تھی۔ یہ سب لوگ پنجاب اور وفاق دونوں حکومتوں سے ناراض تھے۔ حکومت کو تحقیقاتی کمشن بٹھانا چاہئے کہ اس سے ناراض لوگوں کی تعداد بڑھتی کیوں جا رہی ہے؟ اربن ایئر کلاکار 27، کو اسلام آباد میں بڑا تھیٹر لگانے والا ہے۔ دیکھئے کتنے لوگ آتے ہیں؟ حکومتی رپورٹ ہے کہ شرکا بڑی تعداد میں ہتھیار اور شیل لے کر آ رہے ہیں خدا خیر کرے۔