Wednesday, 28 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arbaz Raza Bhutta
  4. Israel Mein Intikhabat

Israel Mein Intikhabat

اسرائیل میں اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات نے ایک بار پھر جمہوریت، حقِ رائے دہی اور سیاسی اختیار سے متعلق بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف تقریباً 73 لاکھ اسرائیلی شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، دوسری طرف لاکھوں فلسطینی ایسے ہیں جن کی سرحدوں، نقل و حرکت، روزمرہ زندگی اور قانونی حیثیت پر اسی حکومت کے فیصلوں کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، مگر انہیں اس حکومت کے انتخاب میں براہِ راست حصہ لینے کا حق حاصل نہیں۔ یہی اس انتخاب کا سب سے اہم اور قابلِ غور پہلو ہے کہ فیصلے کرنے کا اختیار ایک طرف ہے، جبکہ ان فیصلوں کے نتائج بھگتنے والے لاکھوں افراد دوسری طرف کھڑے ہیں۔

اسرائیل کا انتخابی نظام پاکستان سمیت کئی دوسرے ممالک سے مختلف ہے۔ وہاں ووٹر کسی انفرادی امیدوار کے بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ اسرائیلی پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، 120 ارکان پر مشتمل ہے اور جماعتوں کو قومی سطح پر حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں۔ تاہم پارلیمان میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے کسی جماعت کو کم از کم 3.25 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس حد سے کم ووٹ لینے والی جماعت پارلیمانی نشستوں سے محروم رہتی ہے۔

اس نظام میں اب تک کوئی جماعت تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی سیاست میں 61 نشستوں کا ہندسہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کنیسٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی جماعت یا سیاسی اتحاد کو کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا حکومت بنانے کی ضمانت نہیں، کیونکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کون سی جماعتیں مل کر اکثریت قائم کر سکتی ہیں۔ حکومت سازی کے لیے مقررہ مدت میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہونے کی صورت میں ملک کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔

تاہم اس انتخاب کو صرف جماعتوں کی نشستوں اور حکومت سازی کے حساب کتاب تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے کا حق کن لوگوں کو حاصل ہے اور کن لوگوں کو اس سیاسی عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔ اسرائیل کے یہودی شہریوں کے ساتھ اسرائیلی شہریت رکھنے والے فلسطینی شہری بھی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں آباد اسرائیلی شہریوں کو بھی کنیسٹ کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے برعکس غزہ کے فلسطینی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینی ان انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ مشرقی یروشلم کے بیشتر فلسطینی باشندوں کو بھی کنیسٹ کے انتخابات میں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں، اگرچہ ان میں سے بعض بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتِ حال جمہوریت کے دائرہ کار پر ایک اہم سوال اٹھاتی ہے۔ جب کسی حکومت کے فیصلے ان لوگوں کی زندگیوں کو بھی براہِ راست متاثر کرتے ہوں جو اس حکومت کے انتخاب میں شریک نہیں ہو سکتے، تو سیاسی نمائندگی اور جواب دہی کے درمیان ایک واضح خلا پیدا ہوتا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے یہ محض انتخابی نظام کا تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ان کی روزمرہ زندگی، نقل و حرکت، سلامتی اور مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے لیے سیاسی منظرنامہ بھی پہلے سے مختلف ہے۔ سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید نے مشترکہ سیاسی فہرست کے ذریعے نیتن یاہو مخالف ووٹوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ بھی الگ سیاسی جماعت کے ساتھ میدان میں ہیں۔ ان رہنماؤں کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد نیتن یاہو کی طویل سیاسی بالادستی کو چیلنج کرنا اور حکومت سازی کے لیے ایک متبادل اتحاد تشکیل دینا ہے۔

پارلیمانی حساب کتاب کے حوالے سے نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے لیے اکثریت حاصل کرنے کا امکان اہم رہا ہے۔ تاہم سیاسی اتحادوں کی تشکیل، انتخابی مہم کے دوران ووٹروں کے رجحانات میں تبدیلی اور مختلف جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے حتمی نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی پیشگی اندازے کو قطعی فیصلہ سمجھنے کے بجائے اصل انتخابی نتائج اور بعد ازاں ہونے والی سیاسی صف بندی کو اہمیت دینا ضروری ہے۔

اسرائیلی انتخابی مہم میں کئی بنیادی مسائل نمایاں رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر حکومت کی کارکردگی کا سوال ہے۔ حکومت کے ناقدین اس دن پیش آنے والی سکیورٹی ناکامیوں کی آزادانہ اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ معاملہ محض فوجی یا انٹیلی جنس ناکامی تک محدود نہیں بلکہ سیاسی قیادت کی جواب دہی سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

دوسرا اہم مسئلہ فوجی بھرتی اور الٹرا آرتھوڈاکس یہودی برادری کو حاصل استثنا ہے۔ اسرائیل میں طویل عرصے سے بعض مذہبی حلقوں کو مذہبی تعلیم جاری رکھنے کی بنیاد پر فوجی خدمت سے استثنا دینے کا معاملہ سیاسی تنازع کا سبب رہا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ جب ملک کی بڑی تعداد فوجی خدمت انجام دیتی ہے تو ایک مخصوص طبقے کو استثنا دینے سے باقی شہریوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ دوسری طرف اس استثنا کا خاتمہ یا اس میں تبدیلی مذہبی جماعتوں کے لیے ایک حساس معاملہ ہے۔

یہ مسئلہ براہِ راست حکومت سازی کی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے۔ نیتن یاہو کی حکومتیں الٹرا آرتھوڈاکس جماعتوں کی حمایت پر انحصار کرتی رہی ہیں، جس کے باعث فوجی بھرتی کے معاملے پر سخت فیصلے کرنا سیاسی طور پر مشکل رہا ہے۔ بینیٹ، لاپید اور آئزنکوٹ جیسے رہنما اس موجودہ بندوبست کو تبدیل کرنے کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کے لیے یہ فیصلہ اہم ہوگا کہ وہ مذہبی جماعتوں کے مطالبات اور فوجی خدمت میں مساوی ذمہ داری کے اصول کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔

تیسرا بڑا مسئلہ عدلیہ اور حکومت کے اختیارات کا ہے۔ نیتن یاہو کی جانب سے عدالتی نظام، بالخصوص سپریم کورٹ کے اختیارات میں تبدیلی کی کوششوں نے اسرائیلی معاشرے میں شدید سیاسی تقسیم پیدا کی۔ حکومت کے مخالفین ان اقدامات کو عدالتی آزادی اور جمہوری اداروں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ان کے حامی عدالتی اختیارات کو محدود کرنے کو منتخب حکومت کے اختیار کی بحالی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس تنازع نے اسرائیل میں جمہوریت، آئینی توازن اور ریاستی اداروں کی حدود سے متعلق بحث کو مزید شدت دی ہے۔

چوتھا اہم مسئلہ جنگ اور قومی سلامتی کا ہے۔ غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور لبنان سے متعلق پالیسیوں نے اسرائیلی سیاست کو مسلسل متاثر کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا ایک حصہ سلامتی، استحکام اور مستقبل میں حملوں کے خطرے کو کم کرنے کا خواہاں ہے، دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے درمیان اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ فوجی طاقت، جنگ بندی، مذاکرات اور علاقائی تعلقات کے حوالے سے کون سا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان معاملات میں سخت مؤقف رکھنے والے حلقوں کا اثر اسرائیلی انتخابی سیاست میں نمایاں ہے، اس لیے حکومت کی تبدیلی کو لازماً پالیسی کی بنیادی تبدیلی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

پانچواں مسئلہ معیشت اور مہنگائی کا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتیں، اجرتوں پر دباؤ اور دفاعی اخراجات میں اضافہ عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ طویل جنگوں اور سکیورٹی کی صورتِ حال کے باعث ریاستی وسائل کی تقسیم بھی اہم سیاسی سوال بن چکی ہے۔ ووٹرز کے لیے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ کون سی جماعت قومی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی کے اخراجات، معاشی استحکام اور سماجی مسائل سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہے۔

تاہم ان تمام مسائل کے باوجود یہ توقع رکھنا کہ نیتن یاہو مخالف جماعتوں کی حکومت قائم ہونے سے فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسی یکسر تبدیل ہو جائے گی، شاید حقیقت پسندانہ نہ ہو۔ اسرائیلی سیاست میں دائیں بازو کے رجحانات مضبوط ہیں اور اپوزیشن کے کئی اہم رہنما بھی سلامتی اور فلسطینی مسئلے پر سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ نفتالی بینیٹ خود دائیں بازو کی سیاست سے تعلق رکھتے ہیں اور نیتن یاہو کے متبادل کے طور پر اپنی انتظامی صلاحیت اور عملی طرزِ سیاست کو نمایاں کرتے ہیں۔ یائر لاپید کی توجہ نسبتاً زیادہ ادارہ جاتی اصلاحات اور سیکولر معاملات پر رہی ہے، لیکن اس فرق کو فلسطینی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے انتخابی نتائج کے شور میں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسرائیل میں سیاسی تبدیلی کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ فلسطینیوں کے حقوق، غزہ کی صورتِ حال یا مقبوضہ علاقوں کے مستقبل کے بارے میں ریاستی پالیسی بھی بنیادی طور پر تبدیل ہو جائے گی۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، اتحاد ٹوٹ سکتے ہیں اور نئے سیاسی چہرے سامنے آ سکتے ہیں، لیکن جب تک پالیسی کی بنیاد اور سیاسی ترجیحات میں تبدیلی نہیں آتی، عام فلسطینیوں کی زندگیوں میں نمایاں بہتری کی امید محدود رہتی ہے۔

انتخابات کے بعد اصل مرحلہ حکومت سازی کا ہوگا۔ جماعتوں کو اپنی نشستوں کے مطابق اتحادی تلاش کرنا ہوں گے، سیاسی مطالبات پر سمجھوتے کرنا ہوں گے اور 61 ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ اس عمل میں مذہبی جماعتوں، دائیں بازو کے اتحادوں اور نیتن یاہو مخالف قوتوں کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی بھی فریق مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا تو سیاسی بحران مزید طول پکڑ سکتا ہے اور نئے انتخابات کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

اسرائیل کے یہ انتخابات محض ایک حکومت کے انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ اس جمہوری نظام کی حدود کو سمجھنے کا موقع بھی ہیں جس میں شہریوں کا ایک مخصوص طبقہ ریاستی قیادت کے انتخاب میں حصہ لیتا ہے، جبکہ اسی قیادت کے فیصلوں سے متاثر ہونے والے لاکھوں فلسطینی اس عمل سے باہر رہتے ہیں۔ انتخابی کامیابی، پارلیمانی اکثریت اور حکومت سازی اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جمہوریت کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ اقتدار کس جماعت کو ملتا ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ اقتدار میں آنے والی حکومت اپنے فیصلوں کے نتائج بھگتنے والے لوگوں کے حقوق، آزادیوں اور مستقبل کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔

بالآخر اسرائیل میں حکومت کوئی بھی بنائے، ایک بنیادی حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی: ووٹ ڈالنے والے لاکھوں شہری اپنی سیاسی قیادت کا انتخاب کریں گے، مگر ان کے فیصلوں کے اثرات سے دوچار ہونے والے لاکھوں فلسطینی اس انتخاب میں اپنی آواز شامل نہیں کر سکیں گے۔ یہی اس انتخاب کا سب سے بڑا تضاد ہے اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب صرف انتخابی نتائج سے نہیں بلکہ آنے والی حکومت کی پالیسیوں اور عملی اقدامات سے ملے گا۔

About Arbaz Raza Bhutta

Arbaz Raza Bhutta

Arbaz Raza (known as Arbaz Raza Bhutta) is a student, journalist, and columnist. He currently works with Suno News, Dunya News, and The News International, and has previously written for Urdu Point, Daily Urdu Columns, Hamari Web, and other national newspapers. Follow him on Twitter @ArbazReza01.