سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا دوستیاں دشمنیاں وقت اور حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں دل نہیں ہوتا کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے سیاست کسی فہم و فکر اور اصول سے ماورا ہوتی ہے البتہ یہ ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ جسے فہم و فکر اور اصول قرار دیا جارہا ہے وہ واقعی فہم و فکر اور اصول ہی ہیں یا پھر "شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں" کے مصداق صورتحال ہے؟
ہم اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ مروجہ سیاست اپنے پہلے دن (یہ پہلا دن بٹوارے سے شمار کیجے یا اس سے قبل سے) سے ہی تعصبات تنگ نظری اور میں نہ مانوں سے عبارت ہے۔ کبھی متحدہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ لیجے زیادہ وقت نہ ہوتو بٹوارے کے بعد کے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اوراق الٹ لیجے اور آج کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے چار اور نگاہیں دوڑا لیجے جو جواب ملے گا اس سے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ ہم ایسے ہی کب سے ہیں؟ جواب سادہ مگر تلخ ہے، کیونکہ جواب کی کھوج کا آغاز جہاں سے بھی کیجے گا کنپٹیاں اور ماتھا پسینے سے بھر جائے گا۔ معاف کیجے گا تمہید قدرے طویل ہوگئی عرض یہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ ہمارے ہاں کی مروجہ سیاست میں جو نفرت تعصب عدم برداشت اور مخالف کیلئے گولے ابلتی دہانہ برانڈ توپیں وافر ہیں یہ ہمارے پُرکھوں کی "محنتوں" کا ثمر ہیں اُن پرکھوں کی جنہوں نے نفرت و تعصبات بوئے کاٹے اور تناول فرمائے فقط یہی نہیں بلکہ فرقہ وارانہ بُعد اور سلاطین کی اطاعت سے بھری تاریخ کو ایمانِ کامل کے طور آگے بڑھایا۔
ہم آج بھی پُرکھوں کے فیض کے ثمرات کا گلے پڑا ڈھول پیٹے چلے جارہے ہیں ویسے اس سے سوا کریں بھی تو کیا کریں۔ مرحوم پروفیسر غلام محمد قاصر کے بقول "ہمیں تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا"۔ مطلب واضح ہے نفرتیں بوکر گلاب نہیں اُگتے بٹوارے کے پہلے دن سے نفرتیں بوتی مخلوق محبتوں کے گلاب بانٹے بھی تو کیسے۔ ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں نفرتوں اور عدم برداشت کی جو دھول اڑ رہی ہے اسے اڑانے میں نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہماری اسکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا بڑا بلکہ بہت بڑا حصہ ہے۔ اس کی ڈالی ہوئی باریک و عیاں وارداتوں نے ایسا "جل تھل" کیا ہے کہ سمجھ ہی نہیں آتا بات کہاں سے شروع کی جائے اور تمام کہاں۔
رہی سہی کسر سستی ریاستی حب الوطنی کے پرچون فروشوں نے پوری کردی۔ یہ پرچون فروش آپ کو ہر جگہ ملیں گے دکانداری میں یہ اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ خدا کو بھی بیچ کھاتے ہیں بندہ کیا چیز ہے ان کے سامنے۔ خیر لمبی چوڑی بحث کیا اٹھانی ہم قریبی ماہ و سال کی تاریخ کے اوراق الٹ کر چھان پھٹک کرلیتے ہیں۔ یاد کیجے اُس ففتھ جنریشن وار والے لشکر کو جو مثبت خبریں گھڑنے اور ایک شخص کو نجات دہندہ منوانے کیلئے منظم کیا گیا تھا اس لشکرکے ظاہری بانی کچھ عرصہ قبل ہی ریٹائرڈ ہوئے ہیں جن دنوں یہ ففتھ جنریشن وار لشکر ترتیب دیا جارہا تھا۔ ہم نے انہی سطور میں عرض کیا تھا کہ یہ تجربہ ماضی کے تجربات کی طرح "سائنسدانوں" کے گلے پڑ جائے گا وہی ہوا جسکا خدشہ ظاہر کیا تھا لیکن کیا صرف یہی تجربہ ہمارے ذہین و فطین اور ہرفن مولا "سائنسدانوں" کے گلے پڑا؟ جی نہیں اسکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی لیباٹری میں جتنے تجربے ہوئے سارے ہی ملک قوم اور اسٹیبلشمنٹ کے گلے ہی پڑے صاف سیدھی بات تو یہ ہے کہ اب تک گلے ہی پڑے ہوئے ہیں۔
ہم نے (یہاں ہم سے مراد ہم اور آپ نہیں بلکہ مالکانِ "اصل" ہیں) ان تجربات کی ناکامی سے کبھی سبق نہیں سیکھا نہ ہی اس زعم سے شعوری طور پر نجات حاصل کرنے کی کوشش کی کہ "ہم سب جانتے ہیں اور بس ہم ہی جانتے ہیں"۔ ہمارے ہمزاد فقیر راحموں کہتے ہیں شاہ جی یہ ہم سب جانتے ہیں ایک بیماری ہے سرطان کی طرح کی خوفناک بیماری"۔ بات تو فقیر راحموں کی درست ہے لیکن مانے گا کون کوئی نہیں اور وہ تو بالکل بھی نہیں جن کا خیال ہے کہ وہ سب جانتے ہیں، ہمارا دوسرا مسئلہ لولی لنگڑی طبقاتی جمہوریت ہے اس طبقاتی جمہوریت کے کوچے میں جمہور کو تلاش کرنے یا آوازیں لگانے کی ضرورت بالکل نہیں کیونکہ جمہور عوام کو کہتے ہیں جبکہ طبقاتی جمہوریت رعایا پالتی ہے عوام اسے وارے نہیں کھاتے۔
طبقاتی جمہوریت کی پٹاری میں بہت سا بلکہ ہمہ قسم کا مرچ مصالحہ وافر مقدار میں ہوتا ہے اور ماہرینِ طبقاتی جمہورہت وقت کی ضرورت یا یوں کہہ لیجے نظام کے دہن کا ذائقہ بدلنے کیلئے ترکیبیں بدلتے رہتے ہیں۔ بہرحال تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم اور آپ طبقاتی جمہوریت کی رعایا ہیں کل بھی تھے آج بھی ہیں اور کب تک رعایا رہیں گے فی الوقت کچھ کہنا مشکل ہے۔ ویسے یہ سادہ سی بات ہمیں سمجھ لینی چاہئے کہ رعایا ریاست پالتی ہے رعایا کو ریاست نہیں پالتی ریاست کے اور بہت بکھیڑے ہوتے ہیں ان بکھیڑوں کے اپنے اللے تللے اور خرچے مرچے۔ ہمارے اساتذہ میں سے ایک استاد محترم مرحوم فضل ادیب کہا کرتے تھے ریاست کسی کی سگی نہیں ہوتی 1970 کی دہائی میں جب وہ یہ بات کہتے تھے تو ہم جیسے شاگرد حیران ہوا کرتے تھے لیکن اب کوئی حیرانی ہے نا پریشانی بلکہ ہم استاد محترم کا ارشاد ترجمہ و تفسیر کے ساتھ بخوبی سمجھنے لگے ہیں۔
آپ آج کے کالم کی بُنت پر بالکل حیران نہ ہوں چار اور سے جو محسوس ہوتا آرہا ہے وہی عرض کیا ہے آپ دیکھ لیجے ہمارے یہاں نفرتیں تعصبات تنگ نظری اور کورچشمی والی دکانوں پر ہمہ وقت خریداروں کا کیا ہجوم رہتا ہے۔ فقیر راحموں کہتا ہے آجکل گلاب مہنگے اور محبت و ایثار خاسے کی چیزیں ہیں اس لئے نفرت و عداوت بیچنے والے پرچون فروشوں کی دکانوں پر رش رہتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ مہنگائی نے لوگوں کی جس طرح مت ماررکھی ہے ایسے میں لوگ سستی چیزیں ہی خریدتے ہیں، فقیرراحموں کے اس خیال سے ہم ہرگز ہرگز متفق نہیں مگر عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔
بہرطور سچ یہی ہے کہ پُرکھوں کے کیئے دھرے میں ہم نے بھی نسل در نسل حصہ بقدرے جُثہ ڈالتے رہنے میں کسر کوئی نہیں چھوڑی آپ یوں کہہ لیجے کہ اصل میں ہم محبت و نفرت میں انتہا پسند واقع ہوئے ہیں معاف کیجئے گا قارین محترم خبریں اور موضوعات اس سے سوا بھی تھے بس جو لکھا گیا وہ یہی ہے جو بالائی سطور میں عرض کیا اب چلتے چلتے ارشد ملتانی مرحوم کا ایک شعر
رکھا نہیں غربت نے کسی اِک کا بھرم بھی
میخانہ بھی ویراں ہے کلیسا بھی حرم بھی