Saturday, 24 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Governor Raj Par Awam Khamosh Kyun?

Governor Raj Par Awam Khamosh Kyun?

اسرارجہانگیری ہمارے بزرگ ہیں، ان کے ساتھ ہمارامحبت اورعقیدت کاتعلق ہے، یہ ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آبادمیں اسسٹنٹ انجینئررہے، زندگی کابڑاحصہ انہوں نے کمپلیکس ہسپتال کودیا۔ چنددن پہلے یہ مدت ملازمت مکمل کرکے جب اپنے عہدے سے ریٹائرہوئے تو ہمارے دوست قاصرخان نے دیگرساتھیوں کے ساتھ ملکران کے اعزازمیں ایک الوداعی تقریب کاانعقادکیاجس میں ہمیں بھی خصوصی دعوت دی گئی، اس تقریب میں کمپلیکس کے درجنوں ملازمین شریک ہوئے۔ تقریب کے اختتام پرایک عجیب نظارہ دیکھنے کوملا۔

اسرارجہانگیری کی ریٹائرمنٹ پرقاری نواز، ندیم خان، عارف سلطان اورسجادسمیت اس کے ڈیپارٹمنٹ کے بڑے بڑے بابے بچوں کی طرح دھاڑیں مارکرروتے رہے۔ یہ ایک شخص کی ملازمت سے جانے پرپیچھے رونے اورتڑپنے والوں کامنظرہے، اب ذرہ ایک پوری حکومت کے جانے کانظارہ کرلیں۔ وفاق نے قیام امن میں ناکامی پرخیبرپختونخوامیں ایمرجنسی اورگورنرراج کانفاذکیا، اس اقدام سے پی ٹی آئی کی پوری حکومت گئی لیکن اس حکومت کے پیچھے نہ کوئی رویا، نہ چیخااورنہ چلایا۔

یہ سوال ہم نے اپنے محترم عابدخان جدون سے کیاکہ ایک بندہ نوکری سے جارہاہے اس کے پیچھے رونابھی ہے اوردھونابھی لیکن دوسری طرف پوری حکومت کے جانے پرہرطرف خاموشی ہی خاموشی ہے۔ اس کی کیاوجہ ہے؟ پتہ ہے عابدجدون نے کیاجواب دیا۔ کہنے لگے دنیاکام کرنے والوں کے پیچھے روتی ہے، نکموں کے پیچھے کوئی آنسوضائع نہیں کرتا۔ ایسوں کے جانے پرتو لوگ مٹھائیاں تقسیم کرکے بھنگڑے ڈالتے ہیں۔ گورنر راج پر عوام کی خاموشی میں سبق بھی ہے اور عبرت بھی۔ کاش کوئی سمجھے۔ روزکے احتجاج، مظاہروں، دھرنوں اور لانگ مارچ کو سیاست سمجھنے والوں کو اب جان لینا چاہیے کہ عوام کے نزدیک دھمکیوں، للکاروں اورخالی خولی نعروں کی کوئی اہمیت اورحیثیت نہیں۔

عوام کو امن، ترقی، خوشحالی اور دو وقت کی باعزت روٹی چاہیے۔ عوام کی ترجیحات میں احتجاجی سیاست نہیں بلکہ ان کی کتاب میں صرف پیٹ کی آگ بجھانا، بچوں کا مستقبل سنوارنا اور گھر میں سکون سے زندگی گزارنادرج ہے۔ ایک بھوکے سے کسی نے پوچھا کہ دو جمع دو کتنے ہوتے ہیں؟ اس نے جواب دیاچار روٹیاں بظاہر یہ لطیفہ ہے مگرانصاف وشعورکی نظرسے اگردیکھاجائے توعوام کی زندگی کا پورا فلسفہ ان چاررٹیوں میں پوشیدہ ہے۔ جس گھر میں آٹا ختم ہو، بجلی کا بل ادا کرنے کے پیسے نہ ہوں، بچے فیس نہ ہونے کے باعث سکول سے چھٹی کرنے پر مجبور ہوں، بیمار والدین علاج کے لئے ترس رہے ہوں توسوچنے کی بات ہے ایسے غریب کوسیاسی احتجاجوں اور اقتدار کی کشمکش سے کیا سروکار؟

عوام کو تقریریں نہیں روٹی، دھمکیاں نہیں امن اور سیاسی تماشے نہیں خوشحالی چاہیے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست کا مطلب چند جذباتی تقریروں، مخالفین کے خلاف سخت زبان اور سوشل میڈیا مہمات تک محدود ہو کررہ گیا ہے حالانکہ عوام کے دل جیتنے کا راستہ ان کے مسائل حل کرنے سے ہی گزرتا ہے۔ محض یہ دعویٰ کافی نہیں کہ ہم عوام کے نمائندے اور حقوق کے محافظ ہیں۔ اس کا ثبوت عوام کی زندگیوں میں بھی نظر آنا چاہیے۔

تحریک انصاف نے عوام کوصرف مایوس نہیں بلکہ بہت مایوس کیا۔ احتجاج، دھرنے، لانگ مارچ، جلسے اور سیاسی مخالفین کو للکارنا اس جماعت کی حکمت عملی کااہم حصہ رہے ہیں۔ اس طرز سیاست کے ہزاروں نہیں لاکھوں حامی اوران کے پاس دلائل کے انباربھی ہوں گے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ان سرگرمیوں سے عام آدمی کی زندگی میں کتنی تبدیلی آئی؟ خیبرپختونخوا میں تقریباًتیرہ برس تک اقتدار اور حکمرانی کے تسلسل کے بعد عوام کوکم ازکم یہ پوچھنے کا حق توہے کہ انہیں اس عرصے میں کیا ملا؟ کیا ان کے معاشی مسائل حل ہوئے؟ کیا تعلیم، صحت، روزگار اور امن و امان کی سہولتیں بہتر ہوئیں؟

کیا تبدیلی کے وعدے عام شہری کی زندگی میں محسوس ہوئے؟ یہ سوالات سیاسی مخالفت نہیں بلکہ جمہوری احتساب کا تقاضا ہیں۔ کپتان کے کھلاڑی مانیں یانہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ برسوں حکومت کرنے والی جماعت کوایک نہ ایک دن اپنی کارکردگی کاحساب تو دینا پڑتا ہے۔ حکومت میں رہ کر مسائل حل کرنا بھی سیاست ہے اور اپوزیشن میں رہ کر جواب طلب کرنا بھی سیاست لیکن اگر سیاست کا سارا زور احتجاج، سڑکیں بند کرنے، مخالفین کو ڈرانے، دھمکانے اور اقتدار حاصل کرنے پر صرف ہو جائے تو عوام کے بنیادی مسائل پھر کون حل کرے گا؟ کیا عوام سیاسی جماعتوں کو صرف اس لئے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ہر چند ماہ بعدانہیں کسی نئے احتجاج یا لانگ مارچ کی خبر سنائیں گے؟

گورنر راج کے معاملے پر خیبرپختونخوا میں عوامی ردعمل سیاسی جماعتوں کے لئے غوروفکر کااہم موقع ہے۔ اگر کسی جماعت کو توقع ہو کہ اس کے ہر سیاسی مسئلے پر عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے تو اسے عوام کی ترجیحات بھی سمجھنی چاہئیں۔ عوام کو اپنے ساتھ جوڑنے کا مؤثر طریقہ ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا ہے، روزگار، معیاری تعلیم، بہتر علاج اور جان و مال کا تحفظ حکومت کی کارکردگی کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے برعکس مسلسل مشکلات کا شکار عوام محض جذباتی تقریروں سے مطمئن نہیں ہو سکتے۔ مانا کہ احتجاج جمہوری حق ہے اور عوامی مسائل کے لئے پرامن احتجاج کی اہمیت بھی اپنی جگہ لیکن یہ بھی سب کومانناچاہئیے کہ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانا بھی جمہوریت کاہی ایک حصہ ہے۔

تحریک انصاف سمیت ہماری دیگرسیاسی جماعتوں کا المیہ ہی یہ ہے کہ اقتدار میں یہ اپنی کارکردگی پر سوالات کو سیاسی مخالفت سمجھتی ہیں جبکہ اقتدار سے باہر احتجاج کو عوامی انقلاب قرار دیتی ہیں۔ ہر جماعت جلسوں کے ہجوم کو مقبولیت کا ثبوت سمجھتی ہے مگر عوام کے روزمرہ مسائل حل کرنے میں وہی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ رویہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت سب کو اپنے طرز سیاست کا جائزہ لینا چاہیے۔ سیاست دانوں کو سمجھنا ہوگا کہ عوام ان کے سیاسی اختلافات کے ذمہ دار نہیں۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ کون کس سے ہاتھ نہیں ملاتا یا کس کے خلاف آخری حد تک جانے کا اعلان کرتا ہے۔

عوام کا معاملہ بجلی کے بل، آٹے کی قیمت، بچوں کی تعلیم، روزگار، علاج اور امن و امان ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں ان مسائل کو نظرانداز کرکے اقتدار کی جنگ لڑتی رہیں گی تو عوام کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوتا جائے گا۔ خیبرپختونخوا کی صورتحال تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کے لئے ایک وارننگ ہے کہ وہ اپنی سیاست کا رخ عوامی مسائل کی طرف موڑیں۔ عوام کو مسلسل سڑکوں پر رکھنے سے زیادہ ضروری ان کے گھروں میں خوشحالی لانا ہے۔ اگر کسی کو اب بھی عوام کی ترجیحات پر شک ہے تو اسے خیبرپختونخوا کی صورتحال اور گورنر راج پرعوامی ردعمل اور احتجاجی سیاست کے نتائج کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

فیصلے نعروں یا خاموشی سے نہیں، زمینی حقائق اور عوامی مسائل کی روشنی میں ہونے چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو مقبولیت کا اندازہ جلسوں کے ہجوم سے نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں آنے والی بہتری سے لگانا ہوگا۔ یاد رکھیں سیاست سلطان راہی کے ڈائیلاگ بولنے، مخالفین کو للکارنے اور احتجاج کی دھمکیاں دینے کا نام نہیں۔ سیاست مخلوق خدا کی خدمت سے شروع ہو کر اسی خدمت پر ختم ہوتی ہے۔ جو یہ حقیقت سمجھ لے ان کافائدہ نہیں توپھرکپتان کے کھلاڑیوں کی طرح گورنرراج پرمگرمچھ کے آنسوبہانے پڑیں گے۔