Saturday, 17 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Tabdeeli Ke Daway Aur Governor Raj

Tabdeeli Ke Daway Aur Governor Raj

گورنرراج پربھنگڑے ڈال کرلڈوکھانے والوں کی زبان سے باربارگزرے تیرہ سالہ راج کاذکرسناتواپنے شمشیریوسفزئی یادآگئے۔ شمشیریوسفزئی کاشمارہمارے ان دوستوں میں ہوتاہے جوکپتان کے کھلاڑیوں کی طرح ہروقت انقلاب پرسوارہوکرتبدیلی کا مکا لہرارہے ہوتے ہیں۔ یہ ہزارہ کے ایک بڑے ہسپتال میں سب انجینئرہیں۔ انہیں بھی پی ٹی آئی کی طرح نقشے بناتے تیرہ سال گزرچکے ہیں لیکن ان تیرہ سالوں میں یہ بھی اپنے روشن مستقبل کیلئے نقشے بنانے سے آگے نہیں بڑھے۔

کپتان کے کھلاڑیوں اوراپنے اس پڑھے لکھے اناڑی کودیکھ کریوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے یہ تیرہ سال والوں نے آگے نہ بڑھنے اورکچھ نہ کرنے کی کوئی قسم کھائی ہو۔ ویسے ایسوں کی قسمیں توڑنے کے لئے پھرگورنرراج والے نہ چھوڑے جائیں توکیاان کے سرتوڑے جائیں؟ جمہوریت کے ہاتھوں جمہوریت کاجنازہ اٹھنے کادکھ کس کونہیں؟ جمہوری عمل اورسفرمیں گورنرراج کے طریقہ علاج کوواللہ ہم بھی اچھی نظرسے نہیں دیکھتے لیکن خیبرپختونخواکے بادشاہ گرجس ڈگرپرچل نکلے تھے ان کوجگانے کے لئے گورنرراج کانفاذقرض سے فرض کے درجے پرپہنچ چکاتھاکیونکہ جولوگ حدکراس کرنے لگیں انہیں دائرے میں واپس لانے کیلئے پھرایساایک جھٹکادیناضروری ہوتاہے۔

آج نہیں توکل۔ پی ٹی آئی کوایک جھٹکالگنالازم تھاسووہ لگ گیا۔ اب اس پرمگرمچھ کے آنسوبہانے کاکوئی فائدہ نہیں۔ پشتو میں ایک کہاوت ہے۔ وی چاچا، پخپلہ، گلہ مہ کوہ د بلہ، یعنی جب مصیبت اپنے ہی ہاتھوں مول لی ہے تو پھر دوسروں سے گلہ کیا؟ ہمارے بڑے بچپن میں ہمیں بندرکی ایک کہانی سنایاکرتے تھے کہ ایک بندرکہیں ماچس سے کھیلتے ہوئے پی ٹی آئی والوں کی طرح خود کو آگ لگا بیٹھا۔ جونہی اس کے جسم سے شعلے بلند ہونے لگے تو وہ چیخنے چلانے لگا۔ قریب موجود دوسرے بندروں نے شور سنا تو پوچھا۔ کس نے؟ کس نے؟ یعنی آگ کس نے لگائی؟

شعلوں میں گھرے بندرنے جواب دیا۔ خود نے، اس پر دوسرے بندروں نے کہا۔ اب کسی سے گلہ نہ کرنا۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی چیخ و پکار دیکھ کروہ بندربارباریادآرہاہے۔ جو جماعت تقریباًتیرہ برس سے اس صوبے میں اقتدار کے مزے لیتی رہی، جس نے تبدیلی کے نام پر عوام سے بڑے بڑے وعدے کئے، جس نے اپنی سیاسی مقبولیت کو اپنی کامیابیوں کا سب سے بڑا ثبوت قرار دیا۔ آج اسے اپنے ہاتھوں سے خودکولگائی گئی آگ میں جھلس کراسی بندرجیسی صورت حال کا سامنا ہے۔ ایسے میں کیا اس ساری صورت حال کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کرخودکو بری الذمہ قراردینامناسب ہے؟ نہیں ہرگزنہیں۔

ماناکہ گورنرراج اچھی شئے نہیں لیکن جب آگ ہی خودلگائی اوربھڑکائی ہے توپھردوسروں سے گلہ کیا؟ تیرہ سال کاعرصہ کچھ کم نہیں، خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کا اقتدار کوئی چند ماہ یا ایک آدھ سال کی کہانی نہیں، یہ ایک طویل سیاسی دور ہے جس میں کسی بھی جماعت کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد، اداروں کو مضبوط بنانے، عوامی مسائل حل کرنے اور صوبے کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔ تیرہ سال ایک ایسی مدت ہے جس میں کوئی بھی صوبے کی تعلیمی، معاشی، انتظامی اور سماجی صورت حال میں نمایاں تبدیلی لاسکتاہے۔

اگر اس عرصے کے سات آٹھ سال بھی خلوص نیت، سنجیدہ منصوبہ بندی اور حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کے لئے وقف کئے جاتے تو آج صوبے کے سیاسی حالات شائدنہیں یقینناًمختلف ہوتے۔ تحریک انصاف نے تبدیلی کے نام پر عوام سے ووٹ لئے، نوجوانوں کو روشن مستقبل کی امید دلائی، میرٹ اور شفافیت کے نعرے لگائے، کرپشن خاتمے کے دعوے کئے اور عوام کو یقین دلایا کہ ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی لیکن طویل اقتدار کے بعد جب کھوداپہاڑتونکلاچوہا۔ عوام اب یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان وعدوں کے ساتھ عملی طور پر کیا ہوا؟ کیا بیروزگاری کے مسائل اس انداز میں حل ہوئے کہ جس سے عام نوجوان کو مستقبل کے بارے میں اطمینان حاصل ہواہو؟

کیا سرکاری اداروں کی کارکردگی میں ایسی بہتری آئی جس سے عام شہری کو ریلیف ملاہو؟ کیا صوبے کے وسائل کو عوام کی خوشحالی کیلئے اس انداز میں استعمال کیا گیا کہ ترقی کے اثرات ہر طبقے تک پہنچ گئے ہوں؟ یقیناً کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت اس کے مثبت اقدامات اور کامیابیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتالیکن چند منصوبوں یا سیاسی دعوؤں کی بنیاد پر تیرہ سالہ دوراقتدار کادفاع بھی ہرگزنہیں کیاجاسکتا۔

اصل پیمانہ یہ ہے کہ عوام کی زندگیوں میں کتنی بہتری آئی اور حکومت اپنے وعدوں پر کس حد تک پوری اتری۔ حکومت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے برس اقتدار میں رہی بلکہ یہ ہے کہ ان برسوں میں اس نے عوام کے لئے کیا کیا؟ گورنر راج کے قانونی جواز اور سیاسی ضرورت پر بحث اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ طویل اقتدار کے بعد کسی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینابھی ناگزیر ہوجاتا ہے۔ اگر گورنر راج کے نفاذ پر بعض حلقوں میں اطمینان یا خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے تو تحریک انصاف کی قیادت کو یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان جذبات کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں۔ اگرایک ایسے صوبے جس کوابھی تک پی ٹی آئی کاگڑھ سمجھاجارہاہے وہاں کے لوگ آج حکومت کے خاتمے کو اپنے مسائل سے نجات کی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں تو اس سیاسی کیفیت کو محض مخالفین کی سازش قرار دے کر نظراندازنہیں کیا جا سکتا۔

عوام سیاسی جماعتوں سے امیدیں وابستہ کرکے جب انہیں اقتدار میں لاتے ہیں توپھر ان کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیتے رہتے ہیں۔ خیبرپختونخواکے عوام نے اگرمسلسل تین بارپی ٹی آئی کواقتدارمیں لایاتووہ پھراس کی کارکردگی سے کیسے بے خبراورناواقف ہوں گے؟ جب وعدوں اور عملی نتائج کے درمیان فاصلہ بڑھ جائے توپھر مایوسی جنم لیتی ہے یہی مایوسی وقت کے ساتھ سیاسی بے زاری میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ تحریک انصاف کو اپنے حامیوں کی تعداد گننے کے ساتھ ان لوگوں کی شکایات بھی سننی چاہیئں جو ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔

سیاست صرف اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنے کا نام نہیں بلکہ ان شہریوں کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری بھی ہے جواقتدارکے دائرے اوراحاطے میں آتے ہوں۔ سیاسی جماعت کے لئے اقتدار سے محرومی ایک عارضی نقصان ہو سکتاہے لیکن عوام کے اعتماد میں کمی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی تلافی کے لئے پھر طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ تحریک انصاف کی سیاست میں مخالفین پر الزامات، سیاسی سازشوں کے دعوے اور اپنے مؤقف کے دفاع میں جارحانہ اندازہمیشہ نمایاں رہاہے لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی قیادت اپنے تیرہ سالہ دور اقتدار کا غیرجانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے بھی تیار ہے؟

گورنرراج پرمگرمچھ کے آنسوتوہم بھی بہالیں گے، دن رات روروکرآنکھیں ہم بھی سرخ کرلیں گے، وفاق پرطغنہ زنی اورسینہ کوبی والاکام بھی ہم سے ہوجائے گالیکن وہ تیرہ سال جواچھی بھلی جمہوریت کوکھاگئے، جن کی وجہ سے جمہوریت کاجنازہ نکلا۔ ان تیرہ سالوں پرآنسوکون بہائے گا؟ گزراایک دن بھی واپس نہیں آتا۔ یہ ایک دن یاکوئی ایک سال نہیں پورے تیرہ سال ہیں۔ آخران پربھی توکچھ رونادھونابنتاہے۔ کپتان کے کھلاڑی گورنرراج کے ساتھ ان تیرہ سالوں کیلئے بھی سینہ کوبی اورکچھ آنسوبہائیں تاکہ جمہوریت کی روح کوبھی کچھ آرام مل سکے۔