Wednesday, 02 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Nadeem Saeed

Nadeem Saeed

کل ایک طویل سفر کرکے ندیم سعید سے اس کی والدہ کی وفات پر تعزیت کرنے گیا۔ ندیم سعید اور میرا صحافتی سفر تقریباََ ملتا جلتا ہے۔ ہمارا اسٹار بھی ایک ہے۔ ہماری بعض باتوں اور شخصیت میں اتنی زیادہ مشہابہت ہے کہ بعض دفعہ حیران ہوتا ہوں۔ مزاج اور لائکنگ ڈس لائکنگ تک تقریباََ ملتی جلتی ہے۔

میں نے 1996 میں ڈان ملتان خالد شیخ صاحب اور عبدالستار قمر صاحب کے زیر سایہ ساتھ جوائن کیا تو وہ ڈیرہ غازی خان میں ڈان میں پہلے ہی کام کررہا تھا۔

ہم دونوں کو ڈان لاہور میں ڈان ڈیسک کے انچارج عمران اکرم صاحب جن کا تعلق رحیم یار خان سے تھا نے بہت سپورٹ کیا۔ ہمیں رپورٹر بنانے میں عمران صاحب کا بڑا ہاتھ تھا۔ امجد محمود صاحب بھی میرے ساتھ بڑی شفقت کرتے تھے۔ وہ آج کل ڈان لاہور میں لیڈ رپورٹر ہیں۔

جمشید رضوانی نے ہم دونوں کو ملتان صحافت میں قدم جمانے میں بڑی مدد کی۔ پہلے مجھے اور پھر ندیم سعید کو مدد دی۔ ملتان میں بڑے دوست بنائے۔۔ جو بڑے کام آئے اور آج تک آتے ہیں۔

مجھے 1998 میں چیف ایڈیٹر ڈان کراچی احمد علی خان صاحب نے لاہور ڈان ایڈیٹر طاہر مزرا کی سخت مخالفت کے باوجود اسلام آباد ٹرانسفر کیا تو انہوں نے کہا تھا اس شرط پر جانے دوں گا اگر آپ کوئی اپنے جیسا رپورٹر یہاں دے کر جائیں۔

میرے ذہن میں فوراََ ندیم سعید کا نام آیا۔ شکر ہے ندیم نے بھی سستی کا مظاہرہ نہیں کیا کہ بھلا کون اب ڈیرہ کی محفلیں اور دوست چھوڑ کر ملتان جائے۔

ملتان میں ندیم نے بہت محنت کی، پہلے بی بی سی نے اسے ہائر کیا تو پھر وہ لندن چلا گیا۔ میں بھی ان دنوں لندن میں دی نیوز کا رپورٹر تھا۔

وہ وہیں بی بی سی میں رک گیا تو میں میر شکیل الرحمن صاحب کی تین سال ورک پرمٹ (دی نیوز لندن رپورٹنگ) کی پیشکش کے باوجود واپس اسلام آباد لوٹ آیا کہ میرے لیے پاکستان، اپنا گائوں، اپنے عزیز یار دوست اور بہن بھائیوں سے دور رہنا مشکل تھا۔ مجھے اپنا صحافتی مستقبل پاکستان میں ہی نظر آتا تھا۔

لندن میں ندیم نے مشکلات دیکھیں۔ اعلی رپورٹنگ کی۔ ہمت نہیں ہاری۔ بی بی سی لندن سے ہوتا ہوا آج وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے میڈیا/ویب سائیٹ کا سربراہ ہے اور ڈالروں میں تنخواہ لیتا ہے۔

دل کا بادشاہ ہے۔ وہ Leo ہونے کے ناطے اپنے سب پیاروں کو خوش دیکھنا چاہتا ہے لہذا عمر بھر اپنے پیاروں کو خوش کرنے میں ہی لگا رہا۔ اب وہ پیارے خوش ہوئے یا نہیں وہ الگ کہانی ہے۔

وہ لندن میں رہ کر لندنر نہ بن سکا نہ ہی نیویارک میں وہ نیویارکر بن سکا۔ اس کا دل

اور دماغ یہیں ڈیرے اور ملتان میں ہی رہے۔

ماں سے اس کا بہت قریبی تعلق تھا۔ تعلق تو سب کا بچوں کا اپنی اپنی مائوں سے ہوتا تھا لیکن اس کا اپنا الگ سے تھا اور پچھلے ماہ وہ ماں کو کھو بیٹھا۔

ماں کو ملتان میں خوبصورت گھر بنوا کر دیا کہ وہ اپنے بچوں ساتھ اکٹھی رہے۔ ماں کو ہر ماہ ڈالرز بھیجتا کہ اماں کھل کر خرچ کیا کرو۔

میں نے ندیم کو کہا تم سے زیادہ تمہاری بیگم صاحبہ ارتقا کا کریڈٹ ہے جس نے کبھی تمہیں اپنی ماں بہن بھائیوں کو سپورٹ کرنے یا ساتھ دینے سے نہیں روکا۔ ہمارے ہاں تو اگر آپ اپنے بھائی بہنوں پر ایک روپیہ خرچ کر دیں تو بیگمات رولا ڈال دتیی ہیں تم اپنے بچوں کا حق مار رہے ہو۔

ماں کی وفات نے اسے اندر سے توڑ دیا ہے۔

میں ندیم سے اس کی ماں کی وفات پر تعزیت کرنے گیا۔ تعزیت کیا تھی بس ایک دوسرے کے پرانے دکھ، پرانے دن اور اپنے اپنے پیارے یاد کئے۔ کئی دفعہ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے تو کئی دفعہ میری آنکھیں گیلی ہوئیں۔

گائوں میں کسی کے گھر کوئی فوت ہوجائے تو پورا گائوں اس میت کے آگے بیٹھ کر رو رہا ہوتا ہے۔ میں بچہ تھا تو سمجھتا تھا سب کو مرنے والا کا دکھ ہے۔ پھر بڑے عرصے کے بعد کہیں پڑھا کہ دراصل پورا گائوں قبرستان میں دفن اپنے اپنے پیاروں کو رو رہا ہوتا ہے۔ وہ میت دیکھ کر آپ کے اپنے پیاروں کا دکھ لوٹ آتا ہے۔ آپ کو بھی درد محسوس ہوتا ہے کہ اس گھر کے لوگ اس وقت کس درد کی کیفیت سے گزر رہے ہیں جس سے کبھی آپ گزرے تھے یا آج تک گزر رہے ہیں۔

وہی ہم دونوں کرتے رہے۔۔ وہ اپنی ماں کی کہانیاں سناتا رہا اور میں اپنی کی~ سب مائوں کی کہانیاں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں۔۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.