Thursday, 03 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Aag Ka Darya

Aag Ka Darya

میں بڑا خوش قسمت ہوں کہ مجھے پرانی کتابوں والے دوست بہت ملے۔ نئی میں خود ڈھونڈ لیتا ہوں۔ ایک سے بڑھ کر ایک۔ کبھی کبھار مجھے لگتا ہے میں بھی کتابی مافیا کی طرح آپریٹ کرتا ہوں۔ اپنا ایک ایک بندہ ہر اہم شہر میں رکھا ہوا ہے جو اتوار بازار سے پرانی بکس ڈھونڈ کر دے۔

لندن میں پرانی انگریزی بکس کے لیے صفدر بھائی سے بہتر سیکریٹ ایجنٹ کون ہوسکتا ہے۔ ان جیسی کتاب سینس شاید میرے اندر بھی نہیں ہے حالانکہ اپنے حلیے اور گفتگو سے وہ پورے ایکٹر لگتے ہیں۔ ویسے ملتان میں تھے وہ ایکٹر ہی۔ بس آسکر نہ ملنے کا دکھ لیے لندن پدھار گئے۔

لاہور انارکلی میں اس کام کے لیے حافظ ارسلان ہیں۔ وہ ہر اتوار میرے لیے پورا بازار پھرتے ہیں اور بلونت سنگھ کے کتابت والے ناول ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ کیا کمال بندے ہیں کہ فرمایا تھا کتاب بھی انسانوں کی طرح ہجرت کرتی ہے۔ اپنا قاری خود چنتی ہے۔

اسلام آباد میں پہلے پروفیسر طاہر ملک تھے۔ کبھی کبھار میرے لیے پنڈی میں پرانی کتابوں کے بازار سے کچھ نہ کچھ ڈھونڈ نکالتے تھے۔ پھر وہ خود سیلبرٹی بن گئے تو پنڈی پرانی کتابوں کے بازار جانا چھوڑ گئے۔

اب ان کی توجہ مجھ سے ہٹ کر عوام اور عوامی مسائل پر مرکوز ہو چکی ہے۔ تاہم ان کی کمی میں نے سجاد امین کی شکل میں پوری کی اور کیا کمال بک لور ہے یہ سجاد بھی۔ توبہ۔

خیر کراچی میں مجھے مسئلہ پیش آرہا تھا کہ وہاں اپنا سیکریٹ ایجنٹ کیسے ڈھونڈا جائے کیونکہ کراچی سے میرا کچھ زیادہ آنا جانا یا جان پہچان کم تھی جو مجھے میری مرضی کی پرانی کلاسک بکس ڈھونڈ کر دیتے۔

اللہ بھلا کرے منظر عباس کا جس ک تعلق ہمارے پیارے چکوال سے لی لیکن اب کراچی مستقل مسکن ہے۔ ان سے آن لائن رابطہ ہوا اور اس بھلے مانس سے بہت اچھی بکس ملیں۔ کچھ عرصہ پہلے ڈاکٹر سنبل صاحبہ کے بیٹے کی شادی پر کراچی گیا تو اقبال دیوان اور بشارت صاحب کے ساتھ فرئیر ہال اتوار اولڈ بکس بازار بھی گیا تو وہاں ایک نوجوان میرے گلے آ لگا۔

حیران ہو کر دیکھا تو وہ منظر عباس تھے۔ پہلی دفعہ ملاقات ہورہی تھی۔ پتہ چلا وہ اس پورے بازار کے ایک طرح سے منظم ہیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ اب وہ فرئییر ہال سے ہر اتوار میرے لیے پرانی بکس ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

اب کی دفعہ دیکھیں انہوں نے کیا نایاب چیز ڈھونڈ نکالی ہے۔۔ آگ کا دریا کا مکتبہ جدید کا چھاپا پہلا ایڈیشن 1964 اور وہ بھی کتابت۔۔ بندہ زندگی سے اور کیا فرمائش کر سکتا ہے۔ تھینک یو منظر ڈیر۔۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.