Saturday, 29 August 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Bangladesh Ki Nai Kharja Policy

Bangladesh Ki Nai Kharja Policy

اگر طارق رحمان حکومت بنگلہ دیش اول کی بنیاد پر ایک متوازن اور فعال خارجہ پالیسی اختیار کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ڈھاکہ جنوبی ایشیا میں محض بھارت اور چین کے درمیان مقابلے کامیدان ہی نہیں رہے گا بلکہ خود ایک اہم علاقائی طاقت کے طورپر جگہ بناسکتا ہے تین اطراف سے بھارت میں گھرے اِس ملک کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیں تو 1971 سے ہی بھارت کو اولیت حاصل رہی لیکن اگست 2024 میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجدحکومت کے خاتمے اور اِ ن کے ملک سے فرار نے بہت کچھ بدل دیا ہے جسے کچھ حلقے بھارت مخالف ہونا اور چین کے کیمپ میں جانا کہتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کی سیاست میں بنگلہ دیش تبدیلی کے مراحل میں ہے فروری 2026 کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی کوشاندار کامیابی حاصل ہوئی اور طارق رحمان وزیراعظم بنے جو ملک کی داخلی سیاست کے ساتھ خارجہ پالیسی کا رُخ تبدیل کرنا چاہتے ہیں یہ ملکی مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ بھارت مخالف عوامی جذبات کوٹھنڈاکرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ عوام یہ تاثر لیں کہ منتخب حکومت کو آنے والی تبدیلی کا احترام ہے۔

نئی پیش رفت سابق صدرمحمد شہاب الدین کا استعفیٰ اور بی این پی کے دیرینہ سیکرٹری جنرل فخر الاسلام عالمگیر کا صدر منتخب ہونا ہے مستعفی صدر شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا معتمد خیال کیا جاتا تھا اب جبکہ وزیر اعظم طارق رحمان اور صدرمرزا فخر الا سلام عالمگیر دونوں کا تعلق بی این پی سے ہے تو حکومت کو داخلی اور خارجی معاملات کے فیصلے کرنے میں سہولت ملے گی کیونکہ یہ تبدیلی محض شخصیات کی تبدیلی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی سیاست میں طاقت کے ایک نئے توازن کی علامت ہے حسینہ واجد کے پندرہ سالہ دورمیں عوامی لیگ اقتدار کا مرکزرہی اور بھارت کے ساتھ اُس کے انتہائی قریبی تعلقات تھے لیکن آج صورتحال برعکس ہے عوامی لیگ سیاسی طورپر مشکلات کا شکار ہے حسینہ واجد بھارت میں مقیم اور ڈھاکہ مسلسل حوالگی کا مطالبہ کررہا ہے یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں حالیہ دنوں میں سرد مہری اُس وقت نمایاں ہوئی جب شیخ حسینہ نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا ڈھاکہ نے اِس پر سخت ردِعمل دیا اور بھارت سے حسینہ واجد کی سرگرمیوں کے حوالے سے شکایات کیں اگرچہ بھارت نے اُس تقریب سے خودکو الگ قراردیا ہے لیکن بنگلہ دیشی حکومت کے لیے یہ معاملہ انتہائی حساس ہے جس سے تعلقات کشیدگی کی طرف جا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندرمودی کی جانب سے طارق رحمان کو بھارت آنے کی دعوت بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے لیکن ڈھاکہ نے ابھی تک دورے کا باضابطہ اعلان نہیں کیابنگلہ دیش کا موقف ہے کہ شیخ حسینہ کی حوالگی، موجودہ سفارتی ماحول سمیت بعض معاملات پر پیش رفت ضروری ہے مگر یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ بنگلہ دیش نے دورے کی بھارتی دعوت مستردکردی ہے البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سفارتی اختلافات دورہ موئخر کرنے کا باعث بنے ہےں۔

بنگلہ دیش کے چین سے بڑھتے تعلقات ایک اہم پہلو ہیں طارق رحمان نے جون میں چین کا دورہ کیا اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، دریائی منصوبوں، علاقائی رابطوں اور دفاعی و سفارتی تعاون سمیت متعددشعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا طارق رحمان نے واضح طورپر چینی سرمایہ کاری اوربڑے ترقیاتی منصوبوں میں بیجنگ کے تعاون کو اہم قراردیاتاہم فوری طورپر یہ کہنا کہ بنگلہ دیش مکمل طورپر چینی کیمپ میں جا چکاہے شایددرست نہیں کیونکہ ڈھاکہ کی کوشش ایک ایسی خارجہ پالیسی ہے جس میں چین، پاکستان، بھارت، ترکیہ، سعودی عرب اور مغربی ممالک کے ساتھ بیک وقت تعلقات رکھے جائیں البتہ اِتنا فرق ضرورہوا ہے کہ بھارت کے مقابلے میں چین کے ساتھ تعلقات میں زیادہ گرمجوشی ہے۔

پاکستان کے لیے صورتحال کی اہمیت غیر معمولی ہے بنگلہ دیش الگ ملک بناتو طویل عرصے تک سیاسی فاصلے رہے مگر حالیہ برسوں میں تعلقات میں بہتر ہوئے ہیں بی این پی حکومت نے پاکستان سے تجارت، عوامی روابط اور سفارتی تعلقات کو آگے بڑھانے میں دلچسپی لی ہے چین کے ساتھ بنگلہ دیش کی قربت بھی پاکستان کے لیے ایک نئے علاقائی تعاون کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ سب سے اہم پیش رفت مکہ دفاعی معاہدہ ہے جو سات اگست 2026کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا اِس معاہدے میں مشترکہ دفاع کا اصول شامل ہے یعنی ایک پر حملہ تینوں پر تصورہوگا بنگلہ دیش نے بھی اِس کاحصہ بننے کا ممکنہ اِشارہ دیکر جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ مملکت برائے خارجہ ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ اگر مسلم ممالک کے درمیان کوئی دفاعی انتظام موجود ہو تو بنگلہ دیش کے لیے اِس میں شرکت کرنے پر غور کرنا غیر معمولی بات نہیں جبکہ سعودی عرب کی طرف سے ڈھاکہ کو شرکت کی دعوت دیے جانے کی اطلاعات ہیں اگر ایسا ہوتا ہے تو پاک بنگلہ تعلقات کے نہ صرف نئے باب کا آغازہوگا بلکہ بھارت کے لیے بھی ایک بڑا جغرافیائی اور تزویراتی سوال بن جائے گا ایسے کسی دفاعی انتظام جس میں پاکستان شامل ہو بھارت کوپسند نہیں ہوسکتا بنگلہ دیش کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اِس کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار بھارت، یورپی ممالک اور امریکہ ہیں اِس لیے کسی بھی دفاعی اتحاد میں شمولیت کے معاشی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بظاہر بھارت سے دورہوکر بنگلہ دیش اِس وقت چین اور پاکستان کے قریب آیا ہے لیکن زیادہ درست بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش اپنی خارجہ پالیسی کوبھارتی مرکزیت سے نکال کر متعددسمتوں میں لے جارہا ہے تاکہ کسی ایک پر انحصار نہ ہو بلکہ چین سے معاشی فائدہ، پاکستان سے تاریخی وسفارتی قربت، ترکیہ اور سعودی عرب کی مارکیٹ بھی حاصل کر سکے۔ اسلام آباد اگر جذباتی نعروں کی بجائے موجودہ تبدیلی کے مطابق تجارت، تعلیم، دفاع، بحری تعاون، عوامی رابطوں اور علاقائی رابطہ کاری پر توجہ دے تو بہتر ہے۔

بنگلہ دیش ایک بڑی آبادی، مضبوط ٹیکسٹائل صنعت اورخلیجی ممالک کو افرادی قوت فراہم کرنے والا ملک ہے جس سے پاکستان کے بڑھتے تعلقات دونوں ممالک کے لیے معاشی اور تزویراتی فوائد پیدا کر سکتے ہیں بنگلہ دیش کا مستقبل صرف اِس بات سے طے نہیں ہوگا کہ وہ بھارت کے قریب رہتا ہے یاپاکستان اور چین کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے اصل امتحان یہ ہے کہ نئی حکومت اپنی داخلی سیاسی کشیدگی، معیشت، اِدارہ جاتی استحکام اور خارجہ تعلقات میں کِس قدرتوازن رکھتی ہے۔