Wednesday, 29 July 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Jang Nahi Aman Se Taraqi

Jang Nahi Aman Se Taraqi

امریکہ و ایران لڑائی میں توقف کی وجہ صدر ٹرمپ کا مزید حملوں کی اجازت نہ دینا ہے۔ جواب میں ایران نے بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روک دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ خطے کی ضرورت جنگ نہیں امن ہے لہذا لڑائی میں چاہے عارضی وقفہ سہی لیکن امن قائم ہونے کے قوی آثار ہیں۔ اگر خطے میں مستقل امن ہوتا ہے تو نہ صرف معاشی تباہی کے منڈلاتے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ انسانی جانوں کے لیے خطرات کم ہوجائیں گے۔

خلیجی لڑائی روکنے کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ اقوامِ عالم متحرک ہیں یو این او کے سفیرنے امریکہ و ایران جاری امن مزاکرات کی تصدیق کردی ہے۔ کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو قیامِ امن پرزور دے رہے ہیں مگر بات تب ہی بنے گی جب مستقل امن قائم کرنے کے لیے امریکہ و ایران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔ امن سے توانائی کی بڑھتی قیمتیں کمی ہوں گی اِس وقت عالمی منڈی میں تیل کے نرخ سو ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ آبنائے ہُرمز کی بندش سے تیل کی فراہمی میں رکاوٹ آئی جو توانائی کے بحران کا باعث ہے۔ اِس سے مہنگائی کی نئی طاقتور لہر جنم لے سکتی ہے جس کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی۔ خلیجی خطے میں لڑائی کا ختم ہونا عالمی مفاد میں ہے۔

ایران پر امریکی حملے رُکنے کی جو بھی وجہ ہو خطے اور اقوامِ عالم کے لیے اطمنان کا باعث ہے وجہ پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخیرے میں ہونے والی کمی یا پھر خطے میں امریکی اتحادیوں کی دوری ہو لڑائی کے وقفے میں متحارب فریقین امن کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ تنازعات کو طاقت کے بل بوتے پر حل کرنے کی بجائے سفارتی زرائع سے حل کرنا ہی دانشمندی ہے۔ حملوں کے دوران دونوں کو یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ مزید لڑنا کسی کے مفاد میں نہیں جنگیں مسائل بڑھاتی ہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی تھی اگر فریقین سنجیدہ ہوتے مگر طاقت کے مظاہرے پر یقین کرنے سے امن کوششوں کو نقصان پہنچا۔ ایران نے مفاہمتی یادداشت کی پاسداری نہ کی اور سعودی عرب اور قطرکے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جس سے امریکہ کو دوبارہ حملے کرنے کا جواز ملا اور اُس نے ایرانی دفاعی تنصیبات کے ساتھ انفراسٹرکچر کوتباہ کرنا شروع کردیا جواب میں ایران بھی خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے لگا۔ یمنی حوثیوں نے طیش میں آکر آبنائے ہُرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کو بند کرنے کا عندیہ دیدیا ہے۔ یہ بندش بظاہر سعودی عرب کی حد تک ہے مگر چنگاری کب شعلہ بن جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ تیل کی دوگزرگاہوں کی بندش جیسے سنگین خطرے کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی یہ بات امریکہ اور ایران سمجھ جائیں تو اچھی بات ہے اگر نہیں سمجھتے تو یاد رکھیں عالمی امن کوداؤ پر لگانے کے معاشی اثرات سے خود بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کو ابتدا میں دنیا نے سخت ناپسندیدگی ظاہر کی یورپ سمیت ایشیا سے کئی امریکی اتحادیوں نے بھی حمایت کرنے کی بجائے حملے روکنے کا مطالبہ کیا وجہ یہ تھی کہ دنیا نے ایران کو مظلوم سمجھا لیکن ایران نے کچھ ایسے اقدامات کیے کہ مظلوم سے بلیک میلر ثابت ہوگیا۔ بار بار آبنائے ہُرمز بند کرنے کی دھمکیاں دنیا کو ناگوار گزریں مگر ایرانی قیادت دنیا کی سوچ میں آنے والی تبدیلی سمجھ نہ سکی یوں جسے امریکہ نے غنیمت جانا اور حالات سازگار سمجھ کر فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی مگر امریکی شہ دماغ بھول گئے کہ انھوں نے چین کا مقابلہ کرنا ہے۔ اسلحہ ذخائر ختم ہونے سے تو مقابلہ نہیں ہو سکتا جے ڈی وینس اور سینٹکام جنرل کی طرف سے مزید حملوں سے اختلاف کرنے کی وجہ بھی یہی پہلو ہے۔ بہتر ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کی طرف آئیں پاکستان اور قطر جیسے ثالثوں پر اعتماد کریں تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن ہو سکے۔

خلیجی لڑائی میں حصہ بن کر امریکہ نے بہت کچھ کھو دیا ہے اپنی ساکھ تک داؤ پر لگادی ہے۔ ماضی میں اسرائیلی و ایرانی رفاقت کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں۔ عراق سے جنگ کے دوران اسرائیل نے ہی ایران کو اسلحہ اور تربیت دی اِس طرح موساد کو ایران میں قدم جمانے کا موقعہ ملا جس کی وجہ سے اسرائیل کو ایرانی عسکری قیادت اور جوہری سائنسدانوں کو مارنے کے مواقع حاصل ہوئے۔

اسرائیل نے درج ذیل اہداف کے لیے ایران پر حملہ کیا اول۔ عرب ممالک سے تسلیم کرانا دوم۔ عربوں کو ایران سے لڑانا سوم۔ ایران کو پراکسی سے باز رہنے پر مجبور کرنا تاکہ گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار ہو سکے لیکن تمام اندازے غلط ثابت ہوئے نہ صرف عرب ممالک تسلیم کرنے سے باز بلکہ جنگ میں بھی غیرجانبدار رہے۔ میزائل حملوں سے ایران کے کمزور ہونے کی نفی ہوئی عارضی فائر بندی کے بعد اسرائیل تو لڑائی سے الگ ہوگیا لیکن امریکہ نے وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے۔ عرب ممالک پر امریکی اڈوں کے جواز میں ایران حملے کرتا ہے لیکن جنگ کے اصل موجب اسرائیل کی طرف دیکھتا تک نہیں۔ عراق جہاں سے امریکی طیارے ایران پر حملے کرتے ہیں کے حوالے سے بھی خاموش رہتا ہے لیکن قطر، کویت، اُردن، بحرین، عمان اور یو اے ای پر غصہ نکالتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ ابھی تک عرب و عجم چپقلش ایران کے ذہن میں ہے۔ ایرانی ہمسایہ آزربائیجان جو اسرائیل کو تیل فراہم کرتا ہے پر حملہ نہ کرنے سے بھی اِس خیال کی تائید ہوتی ہے۔

امریکہ اور ایران دونوں کا ماضی مداخلت سے بھرپورہے 1971 میں متحدہ عرب امارات تشکیل پانے سے صرف دو دن قبل ایران نے شارجہ اور راس الخیمہ کے ملکیتی تین جزائر پر بزور قبضہ کرلیا 1973 میں عمان حکومت کی فوجی مدد کی عراقی کردوں کو حکومت کے خلاف اسلحہ اور مالی مدد دی امریکی صدارتی انتخابات میں سرمائے کی فراہمی کا خود رضا شاہ پہلوی اعتراف کرچکے۔ بات تب زیادہ بگڑی جب 23 دسمبر1973کوایک پریس کانفرنس میں مغربی ممالک کو پاؤں کے مطابق چادر پھیلانے کا مشورہ دے ڈالا جس پر فرانس نے امام خمینی پر سرمایہ کاری کے زریعے انقلاب ایران کی راہ کلیدی ہموار کی۔

کرنل قذافی سے تو شاہ کی نفرت عیاں تھی 1974 میں یہ کہہ کر اسلامی کانفرنس میں شریک نہ ہوئے کہ میزبان پاکستان نے عرب ممالک کو مدعو کیا ہے اب بھی غزہ کی حماس قیادت نے ایرانی شہ پر اسرائیل کو نشانہ بنایا اور غزہ کو ملیامیٹ کرنے کا جواز فراہم کیا۔ لبنان کی حزب اللہ کی صورت میں ایران ہے بشارالاسد کی حمایت میں ایران نے شامی شہریوں کا خون بہایا اور اب یمنی حوثیوں کی صورت میں سعودی عرب کے لیے مسائل کا موجب ہے امریکہ نے تو ساری دنیا میں مداخلت کا ٹھیکہ لے رکھا ہے مگر جنگیں وسائل کا خاتمہ کرتی ہیں اور ترقی کے لیے امن ضروری ہے جس کا جتنی جلدی ادراک کر لیا جائے بہتر ہے۔