تاریخ میں دوسری بار ایسا ہوا ہے کہ سارے گجرات شہر کو بارشی پانی نے ڈبو دیا ہے مزید باعثِ تعجب یہ کہ حکومت پنجاب نے واسا آفیسران کو سرزنش کرنے کی بجائے اِسے مثالی کارکردگی قرار دے کر شاباش دی ہے۔ گزشتہ برس جب شہر گجرات کی شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا تو حکومت نے ذہانت سے یہ حل نکالا کہ آبادی سے شاہراہیں بلند کردی جائیں تاکہ شہریوں کو بتایا جاسکے کہ آبادی میں جمع شدہ پانی اُن کی اپنی نالائقی ہے وگرنہ شاہراہیں تو بلکل خشک ہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ گجرات کی تمام بڑی شاہراہیں اور سرکلر روڈ کو آبادی سے دوفٹ بلند کر دیا گیا مگر اِس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ رواں برس بھی شہر سے بلند شاہراہیں اور نشیبی علاقے بھی ڈوب گئے ہیں اور یہ پانی اطراف سے نہیں آیا بلکہ یہ بارش کا وہ جمع ہونے ولا پانی ہے جو نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کے لیے عذاب بن گیا ہے اور کئی خاندان ذاتی گھر ہوتے ہوئے بھی بے گھر ہوچکے ہیں کیونکہ گھروں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے وہ اپنے گھر چھوڑ کر عزیز و اقارب کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں مگر واسا گجرات نے حکومت کو مطمئن کرنے کے لیے اے آئی کی مدد سے ایسی شاندار ویڈیوز بناکر پیش کی ہیں جن میں شہر خشک اور صاف سھترا چمکتا نظر آتا ہے جن سے متاثر ہوکر حکومتِ پنجاب نے واسا گجرات کو شاباش دی ہے یہ حماقت پنجاب حکومت کی عقل و ذہانت کو سوالیہ نشان بناتی ہے۔
زرائع ابلاغ میں تشہیر کے مطابق گجرات کو نکاسی آب کے لیے چھبیس ارب ملے ہیں یہ اتنی بڑی رقم ہے جس سے سارے گجرات میں نئی سیوریج لائن بچھانے کے ساتھ صاف پانی کی فراہمی کی لائن بچھائی جا سکتی ہے لیکن واسا گجرات ظہورالٰہی گراؤنڈ کی مغربی جانب ایک برس کے دوران دو کنویں تعمیر کررہا ہے جو دورانِ تعمیر تین بار زمین بوس ہو چکے ہیں وجہ تعمیراتی عمل کا ناقص ہونا ہے بار بار بنانے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن ایک برس سے زائد عرصہ ہوگیا ہے ابھی تک تعمیر مکمل نہیں ہو سکی۔ زرائع کے مطابق واسا گجرات ٹھیکداروں سے کمیشن کی صورت میں پچیس سے پچاس فیصد وصول کرتا ہے جس کا حل ٹھیکداروں نے یہ نکالا ہے کہ تعمیر کے دوران سیمنٹ کم جبکہ ریت کا استعمال زیادہ کرتے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ ڈسپوزل جب بھی تعمیر کے قریب پہنچتے ہیں زمین بوس ہوجاتے ہیں جنھیں دوبارہ تعمیر کرنا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اِس عمل کو واسا گجرات اپنی نالائقی، حماقت اور بدعنوانی تسلیم کرنے کی بجائے شہریوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ وہ نکاسی آب کے نالوں میں کوڑا پھینک کر مشکلات بڑھاتے ہیں۔ مزید یہ کہ حالیہ برسات میں گجرات میں ڈسپوزل ٹینک بھی پانی میں ڈوب گئے ہیں جبکہ دکانداروں کا اربوں کا نقصان ہونے کے ساتھ کاروبار تباہ ہو چکے ہیں لیکن واسا گجرات صرف سوشل میڈیا کو اپنی تشہیر کا زریعہ بنا کر حکومت سے شاباش سمیٹنے میں مصروف ہے ٹک ٹاک کے جنون کا شکار حکومت بھی زمینی حقائق جانے بغیر شاباش دیتی پھرتی ہے جو گجراتیوں کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔
واسا گجرات اور سھترا پنجاب ایجنسی جیسے دو اِدارے بناکر دعویٰ کیا گیا تھا کہ اب نہ صرف گجرات صاف ستھرا ہوگا بلکہ نکاسی آب کا نظام بھی ہمیشہ کے لیے مثالی ہو جائے گا مگر ابھی تک یہ دونوں شعبے صرف گجرات کے وسائل لوٹنے والے لٹیرے ثابت ہوئے ہیں۔ پہلے صفائی کا بجٹ جو چھ سے سات کروڑ تھا اب پندرہ کروڑ سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ واسا گجرات بھی اربوں ڈکار چکا ہے دونوں ہی اہلِ گجرات کوایک روپے کا فائدہ نہیں دے سکے بلکہ صفائی اور نکاسی آب کا نظام مزید خراب ہی کیا ہے۔ دونوں کارکردگی کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا پر سرگرم رہتے ہیں یا چند ایک ستائشی لوگوں کو اردگرد جمع کر رکھا ہے جو صبح و شام سب اچھا ہے کی گردان کرتے ہیں جھوٹی ستائش کرنے والے ممکن ہے۔ جھوٹ بولنے کے عوض کچھ مالی فوائد حاصل کرتے ہوں اِس حوالے سے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گجرات کا بار بار بارشی پانی میں ڈوبنے نے واسا اور سھترا پنجاب ایجنسی کی اہلیت کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
سھترا پنجاب ایجنسی کا صرف چند سڑکوں کی صفائی تک محدودرہنا اور عوضانے میں ہر ماہ کروڑوں وصول کرنا ثابت کرتا ہے کہ پنجاب حکومت کے کچھ طاقتور ہاتھوں کی اِسے حمایت حاصل ہے اسی لیے ناقص کارکردگی کے باوجود کوئی بھی اِس کے خلاف ایکشن لینے کی جرات نہیں کرتا بلکہ پنجاب کے وسائل پر دن دیہاڑے ڈاکا پڑتا دیکھ کر بھی خاموش رہتا ہے۔ اب تو کہا جانے لگا ہے کہ جس طرح آئی پی پیز نے وفاقی بجٹ کا تیاپانچہ کررکھا ہے صوبہ پنجاب کے لیے بھی سھترا پنجاب ایجنسی کچھ ایسا ہی ڈاکہ ہے جو پنجاب کے وسائل ہڑپ کررہا ہے۔ پورے پنجاب سے سھترا پنجاب ایجنسی کے خلاف آوازیں بلند ہورہی ہیں لیکن پنجاب حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ یہ اِس امر کا ثبوت ہے کہ اِس ڈکیتی کو پنجاب حکومت کا تحفظ حاصل ہے عین ممکن ہے کچھ لوکچھ دوکے اصول کے تحت خامیوں کی پردہ پوشی کرنے کے عوض بھاری نذرانہ وصول کیا جاتا ہو۔
واسا گجرات کے ایم ڈی کاشان حفیظ بٹ نے کاغذات میں برسات کے لیے تین ماہ کے لیے چالیس عارضی ملازم بھرتی کیے لیکن یہ ابھی تک کسی کو کہیں نظر نہیں آئے اِس حوالے سے کاشان حفیظ بٹ سے کئی بار سوال ہوا لیکن انھوں نے جواب دینا گواراہ نہیں کیا اسی لیے اِس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ چالیس عارضی ملازمین کی تنخواہیں خُردبُرد کی جارہی ہیں وگرنہ یہ ملازم کہیں تو کام کرتے کسی کو نظر آجاتے۔ مزید یہ کہ میونسپل کارپوریشن گجرات کے جو ملازمین واسا کے حوالے کیے گئے اُن کی مکمل تعداد بھی کام نہیں کررہی۔
زرائع کے مطابق کام نہ کرنے والوں کی تنخواہوں سے مخصوص حصہ وصول کرکے اُنھیں ملازمت کی ذمہ داریوں سے استثنیٰ دیا جاتا ہے عین برسات کے دنوں میں کچہری چوک سے بولے پُل تک انتہائی مصروف شاہراہ کو کھود کر گڑھے بنانے سے بھی نکاسی آب کی روانی متاثر ہوئی ہے جس پر ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ برسات نے برسنے میں جلدی کردی اگر دو چار ماہ انتظار کر لیتی تو ہم یہ منصوبہ مکمل کر لیتے سوال کے جواب میں ایسی ذہانت پر ہی عام قیاس یہ ہے کہ کاشان حفظ بٹ کیونکہ بٹ ہیں اِسی لیے وہ شاید پنجاب حکومت کے منظورِ نظر ہیں اور اُنھیں اہم شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے اسی لیے چاہے سارا شہر ڈوب جائے اور اربوں کے فنڈز خُردبُرد ہوجائیں تو بھی کاشان حفیظ بٹ کو کوئی خطرہ نہیں وہ اپنے منصب پر براجمان ہی رہیں گے مگر جس کی بدعنوانی کے قصے زبانِ زدِ عام ہیں اُنھیں پنجاب حکومت کی طرف سے شاباش دینے سے بہت کچھ واضح ہوتا ہے جسے سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔
گزشتہ برسات میں بھی شہر سے باہر کئی شاہراہیں کھود کر بارشی پانی کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کا دعویٰ کیا گیا اب بھی لورائے۔ ملہو کھوکھر اور دیگر دیہات میں یہ عمل دُہرا کر شہر اور دیہات کا رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے جس سے شہر میں داخل ہونے کے کئی راستے بند ہوگئے بدعنوانی کی گرداب میں پھنسی ٹریفک پولیس نے تو کام نہ کرنے کا موقع غنیمت جان کر ویسے ہی سوشل میڈیا پر لوگوں سے اپیل کردی ہے کہ برسات میں گھروں سے باہر نہ نکلیں اور دیہات سے شہر کی طرف نہ آئیں کیونکہ تمام شاہراہیں پانی میں ڈوبی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ گجرات سے سوتیلے پن کا سلوک کیوں ہورہا ہے؟
کہیں اِس لیے تو نہیں کہ یہاں سے ن لیگ کے اُمیدوار بُری طرح ہارے ہیں اگر یہ قیاس درست ہے تو پنجاب حکومت کا رویہ غلط ہے جب صوبائی اور وفاقی حکومتیں اُس کے پاس ہیں تو عوام سے سلوک بھی یکساں ہونا چاہیے دُہرے معیارسے تو محبت نہیں نفرت جنم لے گی جبکہ نااہل، کام چوراور بدعنوان آفیسران اور اداروں کی سرپرستی سے یہ نفرت دوچند ہوسکتی ہے۔